Report

Hermann hundred puts South Africa A in command at Canterbury

Avatar photo Nikhil Joshi · · 1 min read

کینٹربری میں ساؤتھ افریقہ اے کا غلبہ

کینٹربری میں جاری انگلینڈ لائنز اور ساؤتھ افریقہ اے کے درمیان غیر سرکاری ٹیسٹ میچ کے دوسرے روز کا کھیل ختم ہونے تک صورتحال کافی دلچسپ ہو چکی ہے۔ جورڈن ہرمن کی ذمہ دارانہ بیٹنگ اور بولرز کی شاندار کارکردگی کی بدولت مہمان ٹیم میچ پر اپنی گرفت مضبوط کر چکی ہے۔

جورڈن ہرمن کی شاندار سنچری

ساؤتھ افریقہ اے نے اپنی پہلی اننگز کا آغاز 73 رنز 2 کھلاڑیوں کے نقصان پر کیا تھا۔ ابتدائی اوورز میں انگلش بولرز نے دباؤ برقرار رکھا اور زبیر حمزہ اور مارکس ایکرمین کو جلد پویلین لوٹا دیا۔ تاہم، جورڈن ہرمن نے کریز پر ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ایک انتہائی اہم سنچری (103 رنز) اسکور کی۔ ان کی اننگز میں خوبصورت اسٹروکس شامل تھے جس نے ٹیم کو 278 رنز تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

انگلش بولنگ کا تجزیہ

انگلینڈ لائنز کی جانب سے ایڈی جیک اور ہنری کرو کومبی نے بہترین بولنگ کا مظاہرہ کیا اور چار چار وکٹیں حاصل کیں۔ خاص طور پر لنچ کے بعد کرو کومبی نے یکے بعد دیگرے وکٹیں لے کر ساؤتھ افریقہ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا تھا، لیکن آخری وکٹ کے لیے ڈین پیٹرسن اور کودی یوسف کے درمیان 55 رنز کی شراکت نے انگلینڈ کے لیے مشکلات پیدا کر دیں۔

انگلینڈ لائنز کی جدوجہد

پہلی اننگز میں 193 رنز پر آؤٹ ہونے والی انگلینڈ لائنز کی ٹیم دوسری اننگز میں بھی مشکلات کا شکار نظر آئی۔ دن کے اختتام پر انگلینڈ کا اسکور 134 رنز 5 کھلاڑیوں کے نقصان پر ہے اور انہیں محض 49 رنز کی برتری حاصل ہے۔ ریحان احمد 44 رنز کے ساتھ کریز پر موجود ہیں جبکہ پہلی اننگز کے ٹاپ اسکورر ایکانش سنگھ 15 رنز پر کھیل رہے ہیں۔

بولرز کا کردار

ساؤتھ افریقہ اے کے فاسٹ بولر ڈین پیٹرسن اور تیان وین وورین نے انگلینڈ کے ٹاپ آرڈر کو تہس نہس کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ وین وورین نے خاص طور پر مڈل آرڈر کو اپنی درست لائن اور لینتھ سے پریشان کیے رکھا۔ انگلینڈ کے بلے بازوں کے لیے وکٹ پر رکنا انتہائی مشکل ثابت ہو رہا ہے اور ساؤتھ افریقہ کے اسپنرز بھی اب کھیل میں اپنا اثر دکھا رہے ہیں۔

  • جورڈن ہرمن (ساؤتھ افریقہ): 103 رنز
  • ایڈی جیک (انگلینڈ): 4 وکٹیں
  • ہنری کرو کومبی (انگلینڈ): 4 وکٹیں
  • ریحان احمد (انگلینڈ): ناٹ آؤٹ 44

میچ کا تیسرا دن انتہائی فیصلہ کن ثابت ہوگا کیونکہ انگلینڈ کو اپنی برتری کو کم از کم 150 سے 200 رنز تک لے جانے کی ضرورت ہوگی تاکہ ساؤتھ افریقہ کے لیے چوتھی اننگز میں ہدف کا حصول مشکل بنایا جا سکے۔ تاہم، جس طرح سے ساؤتھ افریقہ اے کے بولرز نے اب تک کارکردگی دکھائی ہے، انگلینڈ کے لیے یہ ایک کٹھن امتحان ہوگا۔ کرکٹ شائقین کی نظریں اب ریحان احمد اور ایکانش سنگھ کی شراکت داری پر مرکوز ہیں جو تیسرے دن کی صبح انگلینڈ کی امیدوں کا مرکز ہوں گے۔