Bangladesh Cricket

James Pamment’s future in doubt as Bangladesh coaching changes continue

Avatar photo Deepak Menon · · 1 min read

بنگلہ دیشی کرکٹ میں کوچنگ کا بحران

بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کے سپورٹ اسٹاف میں جاری حالیہ تبدیلیوں کے درمیان فیلڈنگ کوچ جیمز پیمنٹ کے مستقبل پر گہرے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ ٹیم کی کارکردگی اور کوچنگ کے معیار کو بہتر بنانے کی کوششوں کے باوجود، انجریز اور ذاتی وجوہات کی بنا پر اہم کوچنگ اسٹاف کی عدم دستیابی نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے لیے مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔

جیمز پیمنٹ کیوں دستیاب نہیں؟

نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے جیمز پیمنٹ، جنہیں اپریل 2025 میں فیلڈنگ کوچ کے طور پر مقرر کیا گیا تھا، گزشتہ کچھ عرصے سے صحت کے مسائل سے دوچار ہیں۔ ذرائع کے مطابق، وہ پاکستان کے خلاف حالیہ ٹیسٹ سیریز کے دوران بھی ٹیم کے ہمراہ نہیں تھے اور اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ آسٹریلیا کے خلاف آئندہ ہوم سیریز میں بھی ان کی خدمات دستیاب نہیں ہوں گی۔

پیمنٹ کو گزشتہ ایک سال کے دوران متعدد بار انجریز کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے باعث ان کے لیے طویل عرصے تک ٹیم کے ساتھ سفر کرنا اور اپنی ذمہ داریاں نبھانا مشکل ہو گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، اب پیمنٹ خود بھی بنگلہ دیشی ٹیم کے ساتھ اپنے معاہدے کو جاری رکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ یاد رہے کہ ان کا معاہدہ 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ تک تھا، تاہم انجریز کے تسلسل نے اس معاہدے کے قبل از وقت ختم ہونے کے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

کوچنگ اسٹاف میں دیگر تبدیلیاں

بنگلہ دیشی ٹیم صرف فیلڈنگ کوچ کے مسائل سے نہیں نمٹ رہی، بلکہ پورا کوچنگ سیٹ اپ ایک بڑے تغیر کے دور سے گزر رہا ہے۔ فاسٹ باؤلنگ کوچ شان ٹیٹ پہلے ہی اپنے عہدے سے مستعفی ہو چکے ہیں، جبکہ اسپن باؤلنگ کوچ مشتاق احمد بھی آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں ٹیم کو دستیاب نہیں ہوں گے۔

اس صورتحال میں انتظامیہ نے مقامی کوچز پر انحصار بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں سینئر اسسٹنٹ کوچ محمد صلاح الدین ٹیم کے ساتھ رہیں گے، جبکہ سابق تیز گیند باز طلحہ جبیر کو عبوری فاسٹ باؤلنگ کوچ کے طور پر ذمہ داریاں سونپے جانے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستان کے خلاف سیریز میں جیمز پیمنٹ کی جگہ لینے والے عاشق الرحمن مجمدار آسٹریلیا سیریز میں بھی فیلڈنگ کوچ کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔

ہیڈ کوچ اور مقامی کوچز کا امتزاج

اگر موجودہ منصوبہ بندی کے تحت دیکھا جائے تو ہیڈ کوچ فل سیمنز واحد غیر ملکی کوچ ہوں گے جو آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں ٹیم کے ساتھ موجود ہوں گے۔ باقی تمام تر معاون عملہ مقامی کوچز پر مشتمل ہوگا، جو بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کی ایک بڑی حکمت عملی کی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔

آسٹریلیا کی ٹیم بنگلہ دیش کا دورہ کر رہی ہے، جس میں 3 ون ڈے اور 3 ٹی ٹوئنٹی میچز پر مشتمل 6 میچوں کی وائٹ بال سیریز کھیلی جائے گی۔ یہ سیریز بنگلہ دیشی ٹیم کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، کیونکہ نئے کوچنگ اسٹاف اور انجریز سے نبردآزما کھلاڑیوں کے لیے ہوم گراؤنڈ پر آسٹریلیا جیسی مضبوط ٹیم کا مقابلہ کرنا کافی کٹھن ثابت ہو سکتا ہے۔

مستقبل کا لائحہ عمل

کرکٹ کے حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا بی سی بی دوبارہ غیر ملکی کوچز کی خدمات حاصل کرے گا یا وہ طویل مدت کے لیے مقامی کوچز پر ہی انحصار کریں گے۔ جیمز پیمنٹ کا جانا اگر حتمی شکل اختیار کرتا ہے تو بورڈ کو جلد از جلد ایک متبادل تلاش کرنا ہوگا تاکہ ٹیم کی فیلڈنگ کے معیار کو برقرار رکھا جا سکے۔ فی الحال، تمام تر توجہ آسٹریلیا کے خلاف آنے والی سیریز پر مرکوز ہے، جہاں ٹیم کو اپنی ہوم کنڈیشنز کا فائدہ اٹھا کر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔