Ashton Turner half-century guides Foxes to victory at Hove – لیسٹر شائر کی شاندار جیت
وائٹلٹی بلاسٹ ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں Ashton Turner half-century guides Foxes to victory at Hove کی بدولت لیسٹر شائر فاکسز نے سسیکس شارکس کو چار وکٹوں سے شکست دے کر ایک اہم کامیابی حاصل کر لی ہے۔ آسٹریلوی آل راؤنڈر ایشٹن ٹرنر کی ناٹ آؤٹ نصف سنچری نے ہَو (Hove) کے میدان پر لیسٹر شائر کی جیت کو یقینی بنایا۔ اس میچ سے قبل دونوں ٹیموں نے اپنے گزشتہ پانچ مقابلوں میں سے صرف ایک ایک میچ میں کامیابی حاصل کی تھی، جس کی وجہ سے یہ میچ دونوں کے لیے انتہائی اہم تھا۔ سسیکس شارکس نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے 179 رنز بنائے لیکن ان کی پوری ٹیم 19.5 اوورز میں ڈھیر ہو گئی۔ جواب میں لیسٹر شائر نے مطلوبہ ہدف 18.2 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر کے سسیکس کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔
سسیکس شارکس کا بہترین آغاز اور عبرت ناک مڈل آرڈر کولاپس
میچ کا آغاز سسیکس شارکس کے لیے انتہائی شاندار رہا۔ اوپنرز ہیریسن وارڈ اور ڈین ہیوز نے لیسٹر شائر کے گیند بازوں کے خلاف جارحانہ حکمتِ عملی اپنائی۔ دونوں نے صرف 9 اوورز میں 98 رنز کی شاندار شراکت داری قائم کی اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سسیکس ایک بڑا اسکور بورڈ پر سجانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ ہیریسن وارڈ نے خاص طور پر جارحانہ بلے بازی کی اور اپنے ٹی ٹوئنٹی کیریئر کی بہترین اننگز کھیلتے ہوئے 69 رنز بنائے۔ ان کی اس دلکش اننگز میں پانچ فلک شگاف چھکے اور شاندار چوکے شامل تھے۔ دوسری جانب ڈین ہیوز نے 25 رنز بنا کر ان کا بھرپور ساتھ دیا۔
تاہم، جیسے ہی یہ اوپننگ شراکت ٹوٹی، سسیکس کی بیٹنگ لائن اپ ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔ بائیں ہاتھ کے اسپنر لیم ٹریواسکیس نے ہیریسن وارڈ کو لانگ آف پر کیچ آؤٹ کرا کے لیسٹر شائر کو پہلی کامیابی دلائی۔ اس اہم وکٹ کے گرنے کے بعد سسیکس کا مڈل آرڈر دباؤ کا شکار ہو گیا اور باقاعدگی سے وکٹیں گرتی رہیں۔ سسیکس نے آخری 11.3 اوورز میں محض 84 رنز کے عوض اپنی تمام 10 وکٹیں گنوا دیں۔ یہ سسیکس کے لیے ایک مانوس اور مایوس کن کہانی بن چکی ہے، جہاں بہترین آغاز کے باوجود مڈل آرڈر کارکردگی دکھانے میں ناکام رہتا ہے۔
لیسٹر شائر کے اسپنرز کی نپی تلی گیند بازی
لیسٹر شائر کی میچ میں واپسی کا سہرا ان کے اسپنرز کے سر جاتا ہے، جنہوں نے سسیکس کے بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔ لیم ٹریواسکیس اور ایشٹن ٹرنر نے رنز کی رفتار پر قابو پایا اور جب بھی سسیکس کے بلے بازوں نے رن ریٹ بڑھانے کی کوشش کی، وہ اپنی وکٹیں گنواتے چلے گئے۔ ایشٹن ٹرنر نے گیند بازی میں بھی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈین ہیوز کو 25 رنز پر آؤٹ کیا۔ لیم ٹریواسکیس نے 27 رنز دے کر دو اہم وکٹیں حاصل کیں اور سسیکس کے مڈل آرڈر کو شدید نقصان پہنچایا۔
سسیکس کی ٹیم ایک بار پھر پورے 20 اوورز کھیلنے میں ناکام رہی اور 19.5 اوورز میں 179 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ اس سے قبل ہیمپشائر کے خلاف میچ میں بھی سسیکس نے 10 اوورز میں صرف 55 رنز کے عوض 9 وکٹیں گنوائی تھیں، اور اس بار بھی 10 وکٹیں صرف 84 رنز کے اندر گر گئیں۔ فیلڈنگ کے شعبے میں بھی لیسٹر شائر نے بہترین کارکردگی دکھائی، سوائے 18ویں اوور کے جب ٹام اسکریون نے ٹام السوپ کا کیچ چھوڑا، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے السوپ اور ٹام پرائس نے 19 گیندوں پر قیمتی 34 رنز بنائے۔
لیسٹر شائر کا تعاقب اور مڈل آرڈر کی مشکلات
180 رنز کے ہدف کے تعاقب میں لیسٹر شائر کی ٹیم کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ سسیکس کے گیند بازوں نے باقاعدگی سے وکٹیں حاصل کر کے میچ کو سنسنی خیز بنائے رکھا۔ لیسٹر شائر کی آدھی ٹیم محض 118 رنز پر پویلین لوٹ چکی تھی اور میچ 13ویں اوور میں بالکل برابر کی سطح پر کھڑا تھا۔ سسیکس کے نوجوان بائیں ہاتھ کے تیز گیند باز شان ہنٹ نے اپنے ٹی ٹوئنٹی ڈیبیو پر دو وکٹیں حاصل کیں، لیکن انہوں نے پانچ وائیڈز اور دو نو بالز پھینک کر لیسٹر شائر کو کچھ آسان رنز بھی تحفے میں دیے جس کی وجہ سے میزبان ٹیم کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔
ایشٹن ٹرنر کی میچ جتاؤ نصف سنچری اور کپتان کا ساتھ
جب میچ لیسٹر شائر کے ہاتھ سے نکلتا ہوا محسوس ہو رہا تھا، تب تجربہ کار آسٹریلوی آل راؤنڈر ایشٹن ٹرنر اور کپتان بین گرین نے میدان سنبھالا۔ دونوں نے سسیکس کے گیند بازوں پر جوابی حملہ کیا اور صرف 20 گیندوں پر 41 رنز کی تیز رفتار اور قیمتی شراکت داری قائم کر کے دباؤ کو مکمل طور پر ختم کر دیا۔
ایشٹن ٹرنر نے انتہائی جارحانہ بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف 28 گیندوں پر ناقابلِ شکست 57 رنز بنائے۔ ان کی اس طوفانی اننگز میں 6 چوکے اور 3 شاندار چھکے شامل تھے۔ یہ ٹرنر کے ٹی ٹوئنٹی کیریئر کی 20ویں اور رواں سیزن کی دوسری نصف سنچری تھی۔ انہوں نے 14 گیندیں قبل ہی اپنی ٹیم کو فتح دلا دی اور ناٹ آؤٹ واپس لوٹے۔ کپتان بین گرین نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا اور اپنی ٹیم کی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔
سسیکس شارکس کے لیے مسلسل ناکامیوں کا سبق
سسیکس شارکس کے لیے یہ شکست ایک اور لمحہ فکریہ ہے کیونکہ وہ مسلسل تیسری بار شاندار اوپننگ شراکت کے باوجود میچ جیتنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کے اوپنرز نے گزشتہ چار میچوں میں سے تین میں 98، 67 اور 98 رنز کی اوپننگ شراکت داریاں فراہم کیں لیکن مڈل آرڈر بلے بازوں کی غیر ذمہ دارانہ کارکردگی کی وجہ سے وہ یہ تمام میچز ہار گئے۔ ٹیم کو اپنی بیٹنگ لائن اپ میں تسلسل لانے کی ضرورت ہے تاکہ آنے والے میچوں میں بہتر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ دوسری جانب لیسٹر شائر فاکسز کے لیے یہ فتح انتہائی اہم ثابت ہوگی اور اس سے ان کے حوصلے بلند ہوں گے۔