Bijoy says domestic cricket is the foundation of Bangladesh cricket
مقامی کرکٹ کا اہمیت پر مبنی بیانیہ
بنگلہ دیشی کرکٹ کے منظر نامے میں انعام الحق وجے، جنہیں شائقین پیار سے ‘وجے’ کے نام سے جانتے ہیں، ایک نمایاں نام ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک ایسی بحث چھیڑ دی ہے جس نے کرکٹ کے حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ ان کا دو ٹوک موقف ہے کہ Bijoy says domestic cricket is the foundation of Bangladesh cricket اور ہمیں اس نظام کو نظر انداز کرنے کے بجائے اسے مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
ڈومیسٹک کرکٹ: ایک ناگزیر راستہ
وجے نے اپنے ایک تفصیلی بیان میں واضح کیا کہ ڈومیسٹک کرکٹ کو بین الاقوامی کرکٹ سے الگ تھلگ نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق، این سی ایل (NCL)، بی سی ایل (BCL)، بی پی ایل (BPL) اور ڈی پی ایل (DPL) وہ اصلی سٹیج ہیں جہاں کھلاڑی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی ٹیم تک رسائی حاصل کرنے کے لیے یہ پلیٹ فارمز واحد اور سب سے زیادہ قابل اعتماد راستہ ہیں۔ چاہے کوئی انڈر 19 سے ابھرتا ہوا نوجوان ہو یا بین الاقوامی سطح پر واپسی کا متلاشی تجربہ کار کھلاڑی، ڈومیسٹک کرکٹ ہی وہ معیار ہے جہاں ہر کسی کو اپنی جگہ بنانی پڑتی ہے۔
سوشل میڈیا کا مصنوعی فرق
ایک اہم نکتے پر روشنی ڈالتے ہوئے وجے نے کہا کہ سوشل میڈیا کے دور میں ڈومیسٹک اور بین الاقوامی کھلاڑیوں کے درمیان ایک مصنوعی تفریق پیدا کر دی گئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آج جو کھلاڑی بین الاقوامی سطح پر ستارے بنے ہوئے ہیں، وہ بھی اسی کٹھن ڈومیسٹک سسٹم سے گزر کر یہاں تک پہنچے ہیں۔ لہذا، ڈومیسٹک کرکٹ کو حقارت کی نظر سے دیکھنا درحقیقت پورے کرکٹ ڈھانچے کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
کارکردگی کی بنیاد پر انتخاب
32 سالہ بلے باز نے اس بات کی سختی سے تردید کی کہ ٹیم میں شمولیت کے لیے کوئی خصوصی رعایت ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عمر یا شہرت کی بنیاد پر کوئی شارٹ کٹ نہیں ہونا چاہیے۔ کھلاڑیوں کو ثابت شدہ اور تجربہ کار کھلاڑیوں کے خلاف مقابلہ کر کے اپنی اہلیت ثابت کرنی پڑتی ہے۔ یہ عمل ہی کسی کھلاڑی کو بین الاقوامی چیلنجز کے لیے تیار کرتا ہے۔
ڈومیسٹک کرکٹ کا مستقبل
وجے نے اپنے کیریئر، جس میں 8 ٹیسٹ، 49 ون ڈے اور 20 ٹی ٹوئنٹی میچز شامل ہیں، کے تجربات کی روشنی میں کہا کہ جب کوئی کھلاڑی بین الاقوامی سطح پر ناکام ہوتا ہے یا کامیاب، اس کے سفر کی شروعات ہمیشہ اسی مقامی ڈھانچے سے ہوتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ بنگلہ دیشی کرکٹ مزید ترقی کرے تو ہمیں اس بنیاد کو مزید مستحکم کرنا ہوگا۔
نتیجہ
انعام الحق وجے کا یہ پیغام کرکٹ بورڈ، شائقین اور کھلاڑیوں سب کے لیے ایک سبق ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ صرف چند میچوں کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ یہ وہ پلیٹ فارم ہے جہاں مستقبل کے خواب بنے جاتے ہیں اور واپسی کی کہانیاں رقم کی جاتی ہیں۔ ہمیں ڈومیسٹک کرکٹ کو اس کا جائز مقام اور احترام دینا ہوگا تاکہ بنگلہ دیشی کرکٹ کا مستقبل محفوظ رہ سکے۔