News

‘My best match at this level’ – Mosaddek revels in successful Bangladesh comeback

Avatar photo Tanay Bhatt · · 1 min read

مصدق حسین کی شاندار واپسی: آسٹریلیا کے خلاف تاریخی کارکردگی

چار سال کے طویل انتظار اور ڈومیسٹک کرکٹ میں مسلسل محنت کے بعد، بنگلہ دیشی آل راؤنڈر مصدق حسین نے بین الاقوامی کرکٹ میں ایک یادگار واپسی کی ہے۔ آسٹریلیا کے خلاف پہلے ون ڈے میچ میں ان کی کارکردگی نہ صرف ٹیم کے لیے فتح کا باعث بنی بلکہ انہوں نے خود کو ایک پختہ اور اعتماد سے بھرپور کھلاڑی کے طور پر بھی ثابت کیا۔

میدان میں آل راؤنڈ کارکردگی

مصدق حسین، جن کا یہ نومبر 2022 کے بعد پہلا بین الاقوامی میچ تھا، نے بیٹنگ میں ناقابل شکست 86 رنز بنائے، دو اہم وکٹیں حاصل کیں اور فیلڈنگ کے دوران ایک شاندار کیچ بھی پکڑا۔ اس ہمہ جہت کارکردگی کی بدولت بنگلہ دیش نے آسٹریلیا کو 86 رنز کے بڑے مارجن سے شکست دی، جو آسٹریلیا کے خلاف ان کی 23 مقابلوں میں صرف دوسری ون ڈے فتح تھی۔ اس جیت کے ساتھ ہی بنگلہ دیش تین میچوں کی سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔

صبر اور محنت کا پھل

اپنی طویل غیر حاضری کے بارے میں بات کرتے ہوئے مصدق نے کہا کہ یہ وقت ان کے لیے آسان نہیں تھا، لیکن انہوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے بتایا، ‘میں ہمیشہ پرسکون رہنے کی کوشش کرتا تھا اور اپنی ذمہ داری نبھاتا تھا۔ مجھے یقین تھا کہ اگر میں ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھا کھیلتا رہا تو مجھے دوبارہ موقع ضرور ملے گا۔ میں نے حال میں رہنا سیکھا اور ماضی کی تلخیوں کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیا۔’

ڈومیسٹک کرکٹ میں مصدق کی کارکردگی انتہائی شاندار رہی۔ انہوں نے ابہانی لمیٹڈ کو تین ڈھاکہ پریمیئر لیگ ٹائٹل جتوانے میں کلیدی کردار ادا کیا، جہاں وہ ہر سیزن میں 300 سے زائد رنز بنانے کے ساتھ ساتھ چار سیزن میں 70 وکٹیں بھی حاصل کر چکے ہیں۔

‘یہ میرے کیریئر کا بہترین میچ ہے’

اپنی اس کارکردگی کو یادگار قرار دیتے ہوئے مصدق نے کہا، ‘بلا شبہ یہ میرے لیے اس سطح پر بہترین میچ تھا۔ میں نے ڈومیسٹک کرکٹ والی اپنی ذہنیت کو یہاں بھی لاگو کرنے کی کوشش کی۔ یہ اللہ کا کرم ہے کہ میں ٹیم کے کام آ سکا اور میں اسی تسلسل کو برقرار رکھنا چاہتا ہوں۔’

ٹیم مینجمنٹ کا اعتماد

مصدق نے انکشاف کیا کہ ٹیم مینجمنٹ اور کوچنگ اسٹاف نے انہیں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے مکمل آزادی دی تھی۔ محمد صلاح الدین اور بیٹنگ کوچ محمد اشرفل کے ساتھ ان کی طویل گفتگو نے ان کے کردار کو واضح کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا، ‘مجھے بتایا گیا تھا کہ کریز پر جا کر لطف اٹھائیں، اسی لیے مجھے طویل وقفے کا احساس نہیں ہوا۔ کوچز نے واضح پیغام دیا تھا کہ ہمیں وکٹ کی صورتحال کے مطابق 300 سے 320 رنز کے ہدف تک پہنچنا ہے۔’

تاریخی فتح اور مستقبل کے اہداف

بنگلہ دیشی ٹیم کو اگرچہ لٹن داس کے آؤٹ ہونے کے بعد مشکل کا سامنا کرنا پڑا، لیکن مصدق کی ذمہ دارانہ بیٹنگ نے ٹیم کو ایک باعزت مجموعے تک پہنچایا۔ مصدق کا ماننا ہے کہ اگر وہ اپنے عمل اور عملدرآمد پر قائم رہیں تو یہ سیریز جیتنا ممکن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ایک تاریخی فتح حاصل کی ہے، لیکن اب ہماری نظریں پوری سیریز جیتنے پر مرکوز ہیں۔

  • مصدق حسین کی اننگز میں جارحانہ اور دفاعی انداز کا بہترین امتزاج دیکھا گیا۔
  • آسٹریلیا کے خلاف یہ فتح بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔
  • مصدق نے ثابت کیا کہ ڈومیسٹک کرکٹ کی فارم بین الاقوامی سطح پر منتقل کی جا سکتی ہے۔

مصدق حسین کی یہ واپسی نہ صرف ان کے اپنے لیے بلکہ پوری بنگلہ دیشی ٹیم کے لیے ایک حوصلہ افزا پیغام ہے کہ سخت محنت اور صبر کا صلہ ہمیشہ ملتا ہے۔