Holder, Joseph set up victory as West Indies go 1-0 up – ویسٹ انڈیز کی فتح
ویسٹ انڈیز نے سبینا پارک میں کھیلے گئے پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں سری لنکا کے خلاف ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد سات وکٹوں سے کامیابی حاصل کر لی۔ بارش کی پیشگوئی کے باوجود موسم سازگار رہا اور مقامی تماشائیوں کو اپنی ٹیم کی فتح کا جشن منانے کا موقع ملا۔ اس میچ میں ویسٹ انڈیز کے گیند بازوں بالخصوص جیسن ہولڈر اور شمر جوزف نے شاندار کارکردگی دکھائی۔ اس شاندار کھیل کے نتیجے میں یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ Holder, Joseph set up victory as West Indies go 1-0 up اور میزبان ٹیم نے تین میچوں کی سیریز میں برتری حاصل کر لی ہے۔
رومن پاول نے دلشان مدوشنکا کی گیند پر ڈیپ مڈ وکٹ کے اوپر سے شاندار چھکا لگا کر میچ کا اختتام کیا، لیکن اس جیت کی اصل بنیاد قائم مزاج بلے باز شائی ہوپ نے رکھی۔ ویسٹ انڈیز کے کپتان نے آخر تک وکٹ پر موجود رہنے کا فیصلہ کیا اور 54 گیندوں پر 65 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیل کر ٹیم کو کسی بھی ممکنہ بحران سے بچایا۔ ہوپ نے برینڈن کنگ کے ساتھ مل کر پہلی وکٹ کے لیے 38 گیندوں پر 67 رنز کی جارحانہ شراکت داری قائم کی۔ اس کے بعد انہوں نے مڈل اوورز میں شمرون ہیٹمائر، روسٹن چیس اور پاول کے ساتھ بالترتیب 28، 33 اور 21 رنز کی اہم شراکت داریاں بنا کر ٹیم کو منزل تک پہنچایا۔
سری لنکا کے گیند بازوں نے میچ کو آخری اوور تک لے جانے کی بھرپور کوشش کی۔ وانندو ہسرنگا نے بہترین گیند بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 32 رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ ایشان ملنگا نے بھی 26 رنز دے کر ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ تاہم، سری لنکا کی بیٹنگ لائن اس پچ پر بڑا اسکور بنانے میں ناکام رہی جو شاٹ میکنگ کے لیے اتنی آسان نہیں تھی۔ کامینڈو مینڈس نے 39 گیندوں پر 51 رنز کی مزاحمتی اننگز کھیلی، جبکہ اوپنر کوشال مینڈس نے 23 گیندوں پر 36 رنز کی تیز رفتار اننگز کھیلی۔ ان دونوں کے علاوہ کوئی بھی بلے باز پچ پر زیادہ دیر نہ ٹک سکا۔
جیسن ہولڈر کی 18 رنز کے عوض 3 وکٹیں ویسٹ انڈیز کی بہترین گیند بازی کا محور رہیں، اور انہیں اس شاندار کارکردگی پر میچ کا بہترین کھلاڑی (پلیئر آف دی میچ) قرار دیا گیا۔
برینڈن کنگ اور شائی ہوپ کی دھواں دھار اوپننگ
عام طور پر جب آپ ایک مشکل اور دھیمی پچ پر درمیانے درجے کے ہدف کا تعاقب کر رہے ہوں، تو پاور پلے میں تیز رفتار آغاز انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ ویسٹ انڈیز کے اوپنرز نے بالکل ایسا ہی کیا۔ ہوپ اور کنگ نے ابتدائی چھ اوورز میں 66 رنز جوڑے۔ اس دوران سری لنکا نے وکٹ حاصل کرنے کے کئی مواقع گنوائے، اور ان تمام مواقع کے مرکز برینڈن کنگ ہی تھے۔
پہلا موقع دشمنتھا چمیرا کی گیند پر ملا، جنہوں نے کنگ کو ایک شارٹ پچ گیند پر پھنسایا، لیکن تھرڈ امپائر نے نو بال قرار دے کر کنگ کو نئی زندگی دی۔ اس کے بعد اگلی ہی گیند پر رن آؤٹ کا موقع بھی سری لنکن فیلڈرز کی خراب تھرو کی وجہ سے ضائع ہو گیا۔ دلشان مدوشنکا نے بھی برینڈن کنگ کو ایل بی ڈبلیو کرنے کی اپیل کی، لیکن ریویو لینے پر معلوم ہوا کہ گیند لیگ اسٹمپ سے باہر پچ ہو رہی تھی، جس کی وجہ سے کنگ ایک بار پھر بچ گئے۔
کنگ نے ان مواقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور 22 گیندوں پر 37 رنز بنا ڈالے، جس کے بعد وہ ہسرنگا کی ایک بہترین گوگلی پر بولڈ ہوئے۔ دوسری جانب، ہوپ نے بھی اپنی اننگز کو بہترین انداز میں آگے بڑھایا اور ابتدا میں 17 گیندوں پر 29 رنز بنائے، لیکن بعد میں انہوں نے وکٹ پر رکنے کو ترجیح دی تاکہ ٹیم کو کامیابی سے ہمکنار کر سکیں۔
مڈل اوورز میں سری لنکا کی سخت جدوجہد
اگرچہ ویسٹ انڈیز کا آغاز انتہائی جارحانہ تھا، لیکن مڈل اوورز میں سری لنکن گیند بازوں نے شاندار واپسی کی۔ دسویں سے سولہویں اوور کے دوران ویسٹ انڈیز صرف 54 رنز بنا سکا اور اس کی دو وکٹیں بھی گریں۔ مہیش تھیکشنا اور وانندو ہسرنگا کی اسپن جوڑی نے کینیبیائی بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔ تھیکشنا نے اپنے چار اوورز میں صرف 20 رنز دیے، جبکہ ہسرنگا نے مہنگے ثابت ہونے کے باوجود دو اہم وکٹیں حاصل کیں۔
آئی پی ایل کی فارم کو برقرار رکھتے ہوئے ایشان ملنگا نے بھی بہترین باؤلنگ کی اور چار اوورز میں صرف 26 رنز دے کر ایک وکٹ حاصل کی۔ چمیرا نے بھی ابتدائی اوورز میں رنز کھانے کے بعد ڈیتھ اوورز میں اچھے یارکرز پھینکے۔ صورتحال یہ تھی کہ دسویں سے لے کر آخری اوور تک ویسٹ انڈیز کی ٹیم صرف ایک چھکا اور دو چوکے ہی لگا سکی۔ آخری اوور میں ویسٹ انڈیز کو جیت کے لیے چھ رنز درکار تھے، جسے پاول نے صرف دو گیندوں پر ہی حاصل کر لیا۔
کوشال مینڈس کی جارحانہ بیٹنگ اور شمر جوزف کا جادو
اس سے قبل سری لنکا نے بیٹنگ کا آغاز کیا تو کوشال مینڈس بہترین فارم میں نظر آئے۔ انہوں نے 23 گیندوں پر 36 رنز بنا کر پاور پلے میں رن ریٹ کو 10 رنز فی اوور کے قریب رکھا۔ انہوں نے میتھیو فورڈ کے ایک اوور میں لگاتار دو چھکے بھی لگائے۔ تاہم، پاور پلے کے اختتام پر وکٹوں کے گرنے کے سلسلے نے سری لنکا کی رفتار کو بریک لگا دی۔
سری لنکا کا اسکور بغیر کسی نقصان کے 43 رنز تھا، لیکن جلد ہی وہ 56 رنز پر 3 وکٹیں گنوا بیٹھے۔ شمر جوزف نے شاندار باؤلنگ کرتے ہوئے دو اہم وکٹیں حاصل کیں۔ پون رتھنائیکے کا کیچ شمرون ہیٹمائر نے ڈیپ اسکوائر لیگ پر انتہائی شاندار انداز میں پکڑا۔ اس کے بعد جوزف نے 142 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند پھینک کر کوشال مینڈس کو بھی پویلین کی راہ دکھائی۔ سری لنکا کی ٹیم میں چھ بلے بازوں اور پانچ گیند بازوں کے امتزاج کی وجہ سے ان کا بیٹنگ لائن اپ ویسے ہی مختصر تھا، جس کی وجہ سے ان پر دباؤ مزید بڑھ گیا۔
کامینڈو مینڈس اور داسن شناکا کی شراکت داری
ٹاپ آرڈر کے جلد آؤٹ ہونے کے بعد کامینڈو مینڈس اور سابق کپتان داسن شناکا پر ٹیم کو سنبھالنے کی بڑی ذمہ داری تھی۔ چونکہ ہسرنگا کے علاوہ نیچے کوئی قابل ذکر بلے باز نہیں تھا، اس لیے دونوں نے انتہائی احتیاط سے بیٹنگ کی۔ دونوں نے آٹھ اوورز کی شراکت داری میں صرف آٹھ باؤنڈریز لگائیں۔ تاہم، وکٹوں کے درمیان بہترین دوڑ کی وجہ سے انہوں نے اس دوران رن ریٹ کو 7.37 پر برقرار رکھا۔ روسٹن چیس نے خاص طور پر بہت نپی تلی باؤلنگ کی اور کئی ڈاٹ گیندیں پھینکیں۔ بالاخر شناکا چیس کی گیند پر بڑا شاٹ کھیلنے کی کوشش میں بیک ورڈ پوائنٹ پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔
یہ وکٹ ویسٹ انڈیز کے لیے انتہائی اہم وقت پر آئی، کیونکہ سری لنکا ڈیتھ اوورز میں جارحانہ بیٹنگ کی تیاری کر رہا تھا۔ ہسرنگا بھی صرف 3 رنز بنا کر شمر جوزف کا شکار بنے۔ کامینڈو مینڈس پر دباؤ مسلسل بڑھتا گیا اور وہ آخری اوور میں رن لینے کی کوشش میں رن آؤٹ ہو گئے۔
جیسن ہولڈر کا تجربہ کام آ گیا
جیسن ہولڈر نے ایک بار پھر ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں اپنی اہمیت کو ثابت کیا۔ انہوں نے حالات کو بھانپتے ہوئے سری لنکا کو بڑا اسکور بنانے سے روکا۔ پانچویں اوور میں باؤلنگ کے لیے آنے والے ہولڈر نے پہلے پتھم نسانکا کو آؤٹ کیا اور پھر اگلی ہی گیند پر لستھ کروسپلے کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کر کے ہیٹ ٹرک کی پوزیشن پر آ گئے۔ اگرچہ وہ ہیٹ ٹرک نہ کر سکے، لیکن ان کے اس اوور نے میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔
ہولڈر نے ڈیتھ اوورز میں دوبارہ شاندار گیند بازی کی اور 19ویں اوور میں صرف دو رنز دے کر اپنی تیسری وکٹ حاصل کی۔ انہوں نے مجموعی طور پر 18 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں، جس کی بدولت سری لنکا آخری اوورز میں صرف 25 رنز ہی بنا سکا اور مقررہ 20 اوورز میں 147 رنز تک ہی محدود رہا۔ یہ میچ ویسٹ انڈیز کی بہترین حکمت عملی اور کھلاڑیوں کی انفرادی کارکردگی کا بہترین نمونہ تھا، جس نے ثابت کیا کہ وہ دباؤ کے لمحات میں بہترین کھیل پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔