Report

Taskin, Mustafizur set up famous series win for Bangladesh – تاریخی فتح: ٹاسکین، مستفیض الرحمان نے بنگلہ دیش کے لیے مشہور سیریز جیت قائم کی

Avatar photo Tanay Bhatt · · 1 min read

تاریخی سیریز جیت: ٹاسکین اور مستفیض الرحمان نے بنگلہ دیش کو فاتح بنایا

بنگلہ دیش نے آسٹریلیا کے خلاف اپنی پہلی ون ڈے سیریز جیت حاصل کر کے تاریخ رقم کر دی ہے، جب ٹاسکین، مستفیض الرحمان نے بنگلہ دیش کے لیے مشہور سیریز جیت قائم کی۔ ڈھاکا میں کھیلے گئے دوسرے ون ڈے میں، بنگلہ دیش نے بارش سے متاثرہ 192 رنز کے ہدف کا کامیابی سے تعاقب کیا اور پانچ وکٹوں سے فتح حاصل کی۔ یہ ایک ایسی جیت تھی جو نہ صرف سکور بورڈ پر نمایاں تھی بلکہ بنگلہ دیشی کرکٹ کے لیے ایک اہم سنگ میل بھی ہے، جس نے ٹیم کے اعتماد کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔

آسٹریلیا کی ابتدائی لڑکھڑاہٹ اور بنگلہ دیشی باؤلرز کا کمال

میچ کا آغاز آسٹریلیا کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھا۔ ٹاسکین احمد نے تباہ کن سپیل کا آغاز کیا اور میتھیو شارٹ کو لگاتار دوسری اننگز میں کلین بولڈ کر دیا، شارٹ نے گیند کو چھوڑنے کی غلطی کی اور اپنا کھاتہ بھی نہ کھول سکے۔ یہ شارٹ کی لگاتار تیسری اننگز تھی جب وہ بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے، جس کا آغاز لاہور میں پاکستان کے خلاف تیسرے ون ڈے سے ہوا تھا۔ ان کی یہ کارکردگی ٹیم پر گہرا اثر ڈال گئی۔

اس کے فوراً بعد، مستفیض الرحمان نے کمال کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے اوور کی پہلی ہی گیند پر کوپر کونولی کو آؤٹ کیا، جو کہ بائیں ہاتھ کے بلے باز کونولی کے بلے کا کنارہ چھو کر نکلی۔ اسی اوور کے اختتام پر، میٹ رینشا بھی اسی انداز میں آؤٹ ہوئے، اور آسٹریلیا کا سکور بغیر کسی رن کے 3 وکٹیں ہو چکا تھا – یہ ون ڈے تاریخ میں صرف چوتھی بار ہوا ہے کہ کوئی ٹیم 0 کے سکور پر اپنی ابتدائی تین وکٹیں گنوا دے۔ یہ ٹاسکین اور مستفیض کی بہترین کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت تھا جو دونوں نے تین تین وکٹیں حاصل کیں۔

آسٹریلیا کی مشکلات یہیں ختم نہیں ہوئیں۔ آٹھویں اوور میں، مستفیض الرحمان نے ایلکس کیری کو پوائنٹ پر ایک آسان کیچ پر آؤٹ کیا، جہاں شانتو نے کوئی غلطی نہیں کی۔ اس کے ساتھ، مستفیض نے اپنے ون ڈے کیریئر میں دوسری بار پاور پلے میں تین وکٹیں حاصل کیں۔ آسٹریلیا کا سکور 25 رنز پر 4 وکٹیں ہو چکا تھا اور وہ گہری مشکل میں تھا، اس تباہ کن آغاز نے میچ کا رخ ابتدا ہی میں بنگلہ دیش کے حق میں موڑ دیا۔

لیبوشین اور بارٹلیٹ کی شاندار شراکت اور آسٹریلیا کی واپسی

ایک وقت پر جب آسٹریلیا مکمل طور پر دباؤ میں تھا اور ایک بڑے سکور تک پہنچنا ناممکن نظر آ رہا تھا، مارنس لیبوشین اور زیویئر بارٹلیٹ نے ایک متاثر کن شراکت قائم کی اور اپنی ٹیم کو سنبھالا۔ جوش انگلش نے پہلے کچھ مزاحمت کی اور اپنی 34 رنز کی اننگز میں پانچ چوکے لگائے، لیکن بائیں ہاتھ کے سپنر تنویر اسلام نے انہیں آؤٹ کر دیا اور بعد میں کیمرون گرین کو بھی ایک شاندار کیچ پر پویلین بھیجا۔

لیبوشین، جو کہ نمبر 7 پر بیٹنگ کرنے آئے تھے، نے ایک رن پر رن آؤٹ ہونے سے بچنے کے بعد، ذمہ دارانہ کھیل کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے اپنی ناقابل شکست 55 رنز کی اننگز میں 85 گیندوں کا سامنا کیا اور تین چوکے لگائے، جو 2023 ورلڈ کپ فائنل کے بعد ان کی دوسری ون ڈے نصف سنچری تھی۔ ان کی یہ اننگز ٹیم کے لیے انتہائی اہم تھی۔

بارٹلیٹ، جو 81 رنز پر 6 وکٹوں کے گرنے کے بعد کریز پر آئے تھے، نے جارحانہ انداز اپنایا۔ انہوں نے 48 گیندوں پر 52 رنز بنائے جس میں چھ چوکے اور مڈ وکٹ پر دو بڑے چھکے شامل تھے۔ دونوں نے ساتویں وکٹ کے لیے 103 رنز کی اہم شراکت قائم کی جس نے آسٹریلیا کو ایک قابل احترام مجموعی سکور 187/8 تک پہنچنے میں مدد دی۔ یہ شراکت آسٹریلیا کی اننگز کی سب سے بڑی خاص بات تھی۔

تاہم، ٹاسکین احمد نے 41ویں اوور میں اس شراکت کو توڑا جب انہوں نے بارٹلیٹ کو ایک اندر آتی ہوئی گیند پر کلین بولڈ کر دیا۔ اگلی ہی گیند پر انہوں نے ایڈم زمپا کو اپنی آف کٹر سے دھوکہ دیا اور انہیں بھی آؤٹ کیا۔ یہ اہم وکٹیں تھیں کیونکہ بارش کے اڑھائی گھنٹے کے تعطل کے بعد ڈی ایل ایس ہدف بنگلہ دیش کے حق میں زیادہ ہوتا۔

بنگلہ دیش کا ہدف کا تعاقب: ابتداء، مشکلات اور فتح

بارش کے بعد جب دوبارہ کھیل شروع ہوا تو بنگلہ دیش کو 192 رنز کا ہدف ملا۔ سومیہ سرکار نے تیسرے اوور میں ایک بہترین کور ڈرائیو کے ساتھ آغاز کیا اور پھر ناتھن ایلس کو بھی نشانہ بنایا۔ شانتو نے بھی بارٹلیٹ کے خلاف لگاتار دو باؤنڈریز لگائیں، جس سے بنگلہ دیش کو تیز رفتار آغاز ملا۔ سومیہ سرکار نے اپنی اچھی فارم جاری رکھی اور ایڈم زمپا کو ایک بڑا چھکا لگایا۔ وہ 42 رنز پر میٹ رینشا کا شکار بنے، جب انہوں نے ایک خراب ریورس پیڈل شاٹ کھیلا اور سلپ پر آسان کیچ دے بیٹھے۔

اس کے بعد نجم الحسین شانتو بھی 42 رنز بنا کر ریلی میریڈتھ کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے۔ میریڈتھ پانچ سال بعد ون ڈے ٹیم میں واپس آئے تھے اور انہوں نے فوری اثر دکھایا۔ لٹن داس نے 21 رنز کی تیز رفتار اننگز کھیلی لیکن کیمرون گرین کی ایک باؤنسر پر آؤٹ ہو گئے جس نے ان کے دستانے کا کنارہ چھوا۔ پچھلے میچ کے ہیرو مصدق حسین بھی زیادہ دیر وکٹ پر نہ ٹھہر سکے اور کوپر کونولی کو ایک آسان کیچ دے کر پویلین لوٹ گئے۔ 144 رنز پر 5 وکٹیں گرنے کے بعد بنگلہ دیش پر کچھ دباؤ بڑھا اور فتح کے حصول پر سوال اٹھنے لگے۔

لیکن توحید ہریدوئے اور کپتان مہدی حسن میراز نے پرسکون انداز میں اننگز کو سنبھالا۔ مہدی حسن کو سر کے ایک طرف گیند لگی لیکن انہوں نے حوصلہ نہیں ہارا اور ہریدوئے کے ساتھ مل کر کھیل کو آگے بڑھایا۔ ہریدوئے نے ریلی میریڈتھ کو ایک شاندار چھکا لگایا اور پھر ایک چوکا بھی مارا۔ مہدی نے بھی ایک اور چھکا لگا کر بنگلہ دیش کو فتح سے ہمکنار کیا، جس سے انہوں نے تاریخی سیریز اپنے نام کی۔ ہریدوئے 40 رنز پر ناقابل شکست رہے جبکہ مہدی نے اپنی ذمہ داری بخوبی نبھائی۔

میچ کا خلاصہ اور اہم کارکردگیاں

  • بنگلہ دیش کی باؤلنگ: ٹاسکین احمد (3-33) اور مستفیض الرحمان (3-27) نے ابتدائی وکٹیں لے کر آسٹریلیا کو تباہ کر دیا۔
  • آسٹریلیا کی بیٹنگ: مارنس لیبوشین (55*) اور زیویئر بارٹلیٹ (52) نے ساتویں وکٹ کے لیے 103 رنز کی اہم شراکت قائم کی۔
  • بنگلہ دیش کی بیٹنگ: سومیہ سرکار (42)، نجم الحسین شانتو (42) اور توحید ہریدوئے (40*) نے ہدف کے تعاقب میں اہم کردار ادا کیا۔

بنگلہ دیش 195/5 (سومیہ 42، شانتو 42، ہریدوئے 40*) نے آسٹریلیا 187/8 (لیبوشین 55*، بارٹلیٹ 52، مستفیض الرحمان 3-27، ٹاسکین 3-33) کو پانچ وکٹوں سے ہرا دیا۔

بنگلہ دیشی کرکٹ کے لیے ایک نیا باب

یہ سیریز جیت بنگلہ دیش کرکٹ کے لیے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ آسٹریلیا جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف پہلی ون ڈے سیریز جیت نے بنگلہ دیشی ٹیم کے اعتماد میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے۔ یہ فتح نہ صرف کھلاڑیوں کے لیے حوصلہ افزا ہے بلکہ ملک میں کرکٹ کے شائقین کے لیے بھی ایک بڑا جشن کا موقع ہے۔ اس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بنگلہ دیشی ٹیم اب کسی بھی بڑی ٹیم کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی کا احساس دلاتی ہے۔ یہ جیت آنے والے مقابلوں کے لیے ٹیم کے حوصلے کو مزید بلند کرے گی اور انہیں مستقبل میں مزید کامیابیاں حاصل کرنے کی ترغیب دے گی۔