Jordan Cox celebrates Test call-up with unbeaten 184
انگلینڈ ٹیسٹ اسکواڈ میں شمولیت کے بعد جارڈن کاکس کا شاندار کارنامہ
انگلینڈ کے ابھرتے ہوئے وکٹ کیپر بلے باز جارڈن کاکس نے اپنی شاندار کارکردگی سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ انہیں ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کرنے کا فیصلہ درست تھا۔ Jordan Cox celebrates Test call-up with unbeaten 184 کے ساتھ، انہوں نے لیسٹر شائر کے خلاف کاؤنٹی چیمپئن شپ کے پہلے دن اپنی بلے بازی کے جوہر دکھائے۔
ابتدائی مشکلات اور سنبھالا
ایسیکس کے لیے دن کا آغاز کچھ خاص اچھا نہیں تھا، کیونکہ گرین پچ پر بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم نے ابتدائی 8 رنز پر ہی دو وکٹیں گنوا دی تھیں۔ لیسٹر شائر کے سیمر بین گرین نے پال والٹر اور ڈین ایلگر کو جلد آؤٹ کر کے ایسیکس کو مشکلات میں مبتلا کر دیا تھا۔ تاہم، اس مشکل وقت میں جارڈن کاکس اور کپتان ٹام ویسٹلے نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔
کاکس اور ویسٹلے کی شاندار شراکت داری
تیسری وکٹ کے لیے 147 رنز کی شراکت داری نے ایسیکس کو میچ میں واپس لایا۔ کاکس نے اپنی جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف 73 گیندوں پر اپنے 100 رنز مکمل کیے۔ انہوں نے اپنی اننگز کے دوران 14 چوکے اور دو چھکے لگائے۔ کاکس کی یہ 63 فرسٹ کلاس میچوں میں 12ویں سنچری تھی، جس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے کیریئر کے 4000 رنز بھی مکمل کر لیے۔
میٹ کرچلے کی بہترین معاونت
ٹام ویسٹلے کے 41 رنز پر آؤٹ ہونے کے بعد، میٹ کرچلے نے جارڈن کاکس کا بہترین ساتھ دیا۔ ان دونوں کے درمیان 183 رنز کی ایک اور بڑی شراکت داری قائم ہوئی۔ کرچلے اپنی سنچری کے قریب پہنچ کر 97 رنز پر آؤٹ ہوئے، لیکن تب تک ایسیکس ایک بہت مضبوط پوزیشن میں پہنچ چکی تھی۔ لیسٹر شائر کے بولرز کے لیے یہ دن انتہائی مایوس کن رہا، کیونکہ انہوں نے نہ صرف غلطیاں کیں بلکہ کچھ اہم کیچز بھی چھوڑے، جن کا فائدہ کاکس نے بھرپور اٹھایا۔
ٹیسٹ کرکٹ کے لیے ایک امید افزا آغاز
جارڈن کاکس کو نیوزی لینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے لیے انگلینڈ کی 15 رکنی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ اس سے قبل وہ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیل چکے ہیں، لیکن ٹیسٹ ڈیبیو کا انتظار ابھی باقی ہے۔ ماضی میں انجریز کی وجہ سے ان کی شمولیت میں رکاوٹیں آتی رہی ہیں، لیکن اس بار ان کا انتخاب اس وقت ہوا ہے جب وہ ریڈ بال کرکٹ میں خود کو ثابت کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
لیسٹر شائر کی مشکلات
دوسری طرف لیسٹر شائر کی ٹیم، جو اس سیزن میں اب تک ایک بھی میچ جیتنے میں ناکام رہی ہے، اپنے اہم کھلاڑیوں کی عدم دستیابی اور انجریز کی وجہ سے شدید دباؤ کا شکار ہے۔ آٹھ تبدیلیاں کرنے کے باوجود، ان کا بولنگ اٹیک ایسیکس کے بلے بازوں کو روکنے میں ناکام رہا۔ ایسیکس نے 75 اوورز میں 342 رنز بنا کر میچ پر اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے۔
اگرچہ بارش کے باعث پہلے سیشن کا کھیل ضائع ہوا تھا، لیکن بقیہ وقت میں کاکس اور ان کے ساتھیوں نے جس انداز میں بیٹنگ کی، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایسیکس اس میچ میں اپنی برتری کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ کرکٹ شائقین اب اس بات کے منتظر ہیں کہ آیا کاکس اپنی یہ فارم ٹیسٹ کرکٹ میں بھی برقرار رکھ پائیں گے یا نہیں۔