Cricket News

List Of IPL Players With Most Ducks: ان ناپسندیدہ ریکارڈز پر ایک نظر

Avatar photo Nikhil Joshi · · 1 min read

آئی پی ایل کی تاریخ اور بیٹنگ کے اتار چڑھاؤ

انڈین پریمیئر لیگ (IPL) گزشتہ برسوں میں دنیا کی سب سے بڑی کرکٹ لیگ بن کر ابھری ہے، جہاں بیٹرز کی صلاحیتوں کا اندازہ بلند و بالا چھکوں اور میچ وننگ اننگز سے لگایا جاتا ہے۔ تاہم، اس گلیمر کے پیچھے کرکٹ کی تلخ حقیقتیں بھی موجود ہیں۔ بیٹنگ کے اس کھیل میں ‘ڈک’ (صفر پر آؤٹ ہونا) کسی بھی کھلاڑی کے لیے ایک ڈراؤنے خواب سے کم نہیں ہوتا۔

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ صفر پر آؤٹ ہونے کا زیادہ تر بوجھ ٹیل اینڈر (نچلے نمبر کے بلے بازوں) پر ہوتا ہے، لیکن آئی پی ایل کی تاریخ گواہ ہے کہ بڑے سے بڑے تجربہ کار بلے باز بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ آئیے آج ان کھلاڑیوں پر ایک تفصیلی نظر ڈالتے ہیں جو آئی پی ایل میں سب سے زیادہ بار صفر پر آؤٹ ہوئے ہیں۔

19 ڈک کے ساتھ سرفہرست: روہت شرما اور گلین میکسویل

آئی پی ایل کی تاریخ کے سب سے حیران کن ریکارڈز میں سے ایک یہ ہے کہ 7,000 سے زائد رنز بنانے والے لیجنڈری بلے باز روہت شرما بھی اس ناپسندیدہ فہرست میں سب سے اوپر ہیں۔ روہت شرما نے اپنے کیریئر کے دوران 276 اننگز میں 19 بار صفر پر آؤٹ ہونے کا ریکارڈ بنایا ہے۔ انہوں نے یہ ریکارڈ ڈیکن چارجرز اور ممبئی انڈینز کی جانب سے کھیلتے ہوئے قائم کیا۔

دوسری جانب، آسٹریلیا کے جارح مزاج آل راؤنڈر گلین میکسویل بھی 19 ڈک کے ساتھ اس فہرست میں شامل ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ میکسویل نے یہ تعداد صرف 135 اننگز میں مکمل کی، جس کا مطلب ہے کہ وہ اوسطاً ہر سات اننگز میں ایک بار صفر پر آؤٹ ہوتے ہیں۔ ان کا آئی پی ایل کیریئر اتار چڑھاؤ سے بھرا رہا ہے جہاں انہوں نے 18 نصف سنچریاں بھی بنا رکھی ہیں۔

18 ڈک کے ساتھ دنیش کارتھک اور سنیل نارائن

تجربہ کار وکٹ کیپر بلے باز دنیش کارتھک نے 17 سیزن طویل کیریئر میں 257 میچ کھیلے، لیکن اس طویل سفر کے دوران وہ 18 بار ڈک کا شکار ہوئے۔ کارتھک نے آئی پی ایل کی مختلف ٹیموں کے لیے کھیلتے ہوئے 4,842 رنز بنائے، جو ان کی بیٹنگ کی افادیت کو ظاہر کرتا ہے۔

اسی فہرست میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز (KKR) کے سنیل نارائن کا نام بھی شامل ہے۔ نارائن، جو اپنی جارحانہ بیٹنگ اور اسپن باؤلنگ کے لیے جانے جاتے ہیں، نے 126 اننگز میں 18 بار اپنی وکٹ بغیر کوئی رن بنائے گنوائی۔ ان کا اسٹرائیک ریٹ 165.30 ہے، جو ثابت کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ تیزی سے رنز بنانے کی کوشش میں آؤٹ ہوتے ہیں۔

16 ڈک کے ساتھ پیوش چاولہ اور راشد خان

اسپن باؤلنگ کے ماہرین، پیوش چاولہ اور راشد خان، دونوں ہی 16، 16 بار صفر پر آؤٹ ہو چکے ہیں۔ پیوش چاولہ نے 92 اننگز میں 16 بار ڈک کا سامنا کیا، جبکہ راشد خان نے 72 اننگز میں یہ تعداد مکمل کی۔ راشد خان، جو گجرات ٹائٹنز کے لیے ایک اہم کھلاڑی ہیں، کا بیٹنگ اسٹرائیک ریٹ 157.36 ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ نچلے نمبروں پر آ کر ٹیم کے لیے تیزی سے رنز بٹورنے کی کوشش کرتے ہیں۔

نتیجہ

آئی پی ایل میں صفر پر آؤٹ ہونا ایک ایسا پہلو ہے جسے کوئی بھی کھلاڑی یاد نہیں رکھنا چاہتا، لیکن یہ کھیل کا حصہ ہے۔ چاہے وہ روہت شرما جیسے لیجنڈ ہوں یا گلین میکسویل جیسے پاور ہٹر، یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں رسک لینا کتنا ضروری اور خطرناک ہو سکتا ہے۔ یہ کھلاڑی، اپنے کیریئرز کے دوران کئی کامیابیاں حاصل کرنے کے باوجود، ان ناپسندیدہ ریکارڈز کے ساتھ کرکٹ کے ریکارڈ بک میں موجود ہیں۔