Revealed: Why BCCI Didn’t Punish Virat Kohli For Travis Head Handshake Snub
آئی پی ایل کا تنازع: وراٹ کوہلی اور ٹریوس ہیڈ معاملہ
آئی پی ایل کے حالیہ سیزن میں رائل چیلنجرز بنگلورو (RCB) اور سن رائزرز حیدرآباد (SRH) کے درمیان میچ کے دوران پیش آنے والا واقعہ کرکٹ کے حلقوں میں موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ سوشل میڈیا پر جہاں مداح اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کی حمایت کر رہے ہیں، وہیں وراٹ کوہلی اور ٹریوس ہیڈ کے درمیان ہونے والی کشیدہ صورتحال نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ یہ واقعہ راجیو گاندھی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں پیش آیا جہاں ایس آر ایچ نے آر سی بی کو 55 رنز سے شکست دی۔
واقعہ اصل میں کیا تھا؟
اس تنازع کی شروعات میچ کے دوران ہوئی جب وراٹ کوہلی نے ٹریوس ہیڈ کے حوالے سے کچھ اشارے کیے۔ رپورٹس کے مطابق، کوہلی نے فیلڈنگ کے دوران ہیڈ کو باؤلنگ کروانے کا اشارہ دیا اور کچھ لمحات ایسے بھی آئے جہاں دونوں کھلاڑیوں کے درمیان تلخ کلامی دیکھی گئی۔ میچ کے 18ویں اوور میں جب ٹریوس ہیڈ نے باؤلنگ کا آغاز کیا تو انہوں نے اپنی دوسری ہی گیند پر رجت پاٹیدار کو آؤٹ کر کے سب کو حیران کر دیا۔
ہاتھ نہ ملانے کا معاملہ اور سوشل میڈیا
میچ کے اختتام پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں وراٹ کوہلی کو ٹریوس ہیڈ کو نظر انداز کرتے ہوئے گزرتے ہوئے دیکھا گیا۔ کوہلی نے پیٹ کمنز، ابھیشیک شرما اور ایشان کشن جیسے کھلاڑیوں سے تو گرم جوشی سے ملاقات کی، لیکن ہیڈ کے ساتھ ہینڈ شیک نہ کرنے پر مداحوں نے سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ اب سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ Revealed: Why BCCI Didn’t Punish Virat Kohli For Travis Head Handshake Snub کی اصل وجہ کیا ہے؟
بی سی سی آئی اور آئی پی ایل کا موقف
اگرچہ آن لائن تنقید کا سلسلہ جاری ہے، لیکن بی سی سی آئی اور آئی پی ایل حکام کا ماننا ہے کہ اس معاملے پر کسی تادیبی کارروائی کی ضرورت نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق، کرکٹ کے قوانین میں ہینڈ شیک کرنا کوئی لازمی حکم نہیں ہے، بلکہ یہ ‘سپرٹ آف کرکٹ’ کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
- ہینڈ شیک اخلاقی روایت ہے، کوئی قانونی ذمہ داری نہیں۔
- انٹرنیشنل میچوں میں بھی اکثر کھلاڑی میچ کے بعد ہاتھ نہیں ملاتے۔
- بی سی سی آئی کا ماننا ہے کہ اسے تادیبی کارروائی کے زمرے میں نہیں لایا جا سکتا۔
ٹائمز آف انڈیا کو دیے گئے ایک بیان میں بورڈ کے ذرائع نے واضح کیا کہ “یہاں تک کہ بھارت اور پاکستان کے کھلاڑی بھی ہمیشہ میچ کے بعد ہاتھ نہیں ملاتے۔ اس لیے ہینڈ شیک نہ کرنے پر کارروائی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔”
کرکٹ میں ماضی کی مثالیں
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب اس طرح کا واقعہ پیش آیا ہو۔ ایشیا کپ 2025 کے دوران بھی بھارت کے کپتان سوریہ کمار یادیو اور پاکستان کے کپتان سلمان علی آغا کے درمیان ٹاس اور میچ کے بعد ہینڈ شیک نہ کرنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ اس کے بعد سے بھارت نے پاکستان کے خلاف کچھ میچوں میں روایتی ہینڈ شیک سے گریز کرنے کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔
نتیجہ اور تجزیہ
اس میں کوئی شک نہیں کہ وراٹ کوہلی کا ٹریوس ہیڈ کے ساتھ ہینڈ شیک نہ کرنا مداحوں کے لیے ناگوار ہو سکتا ہے اور بہت سے لوگ اس رویے پر تنقید بھی کر رہے ہیں۔ تاہم، ایک پیشہ ورانہ نقطہ نظر سے دیکھیں تو کرکٹ جذبات کا کھیل ہے۔ ہائی پریشر میچوں میں کھلاڑیوں کے درمیان تلخی اور جذباتی لمحات فطری ہیں۔ بی سی سی آئی کا موقف درست معلوم ہوتا ہے کہ کھلاڑیوں کے نجی رویوں کو قوانین کے تحت سزا دینے کے بجائے کھیل کے میدان تک ہی محدود رکھنا بہتر ہے۔ ہمیں کھیل کی روح کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے، نہ کہ غیر ضروری تنازعات کو ہوا دینی چاہیے۔