“Need to cut that career now”: Legendary cricketer asks MS Dhoni to retire immed
کرکٹ کی دنیا میں ایک بڑا مطالبہ
انڈین پریمیئر لیگ (IPL) کے 2026 سیزن کے اختتام کے ساتھ ہی چنئی سپر کنگز (CSK) کی کارکردگی اور مہندرا سنگھ دھونی کے مستقبل پر بحث ایک بار پھر گرم ہو گئی ہے۔ پانچ بار کی چیمپئن ٹیم اس بار پوائنٹس ٹیبل پر آٹھویں نمبر پر رہی، جس کے بعد سابق جنوبی افریقی لیجنڈ ڈیل اسٹین نے دھونی کے کیریئر کے بارے میں ایک سخت رائے کا اظہار کیا ہے۔
ڈیل اسٹین کا موقف
اے بی ڈی ویلیئرز کے یوٹیوب چینل پر گفتگو کرتے ہوئے ڈیل اسٹین نے کھل کر کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ سابق بھارتی کپتان اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان کریں۔ انہوں نے کہا، “میں نہیں جانتا، لیکن مجھے لگتا ہے کہ دھونی، آپ کو اب یہ کیریئر ختم کر دینا چاہیے۔ وہ ایک شاندار کھلاڑی رہے ہیں، لیکن اب دوسرے نوجوان کھلاڑیوں کو مرکزی توجہ کا مرکز بننے کی ضرورت ہے۔”
ڈگ آؤٹ میں غیر موجودگی کا تنازع
اس سیزن میں سب سے زیادہ حیران کن بات دھونی کی میدان اور ڈگ آؤٹ سے مکمل غیر موجودگی تھی۔ چوٹوں کے مسائل اور ذاتی وجوہات کی بنا پر، دھونی ایک بھی میچ میں نہ تو کھیلے اور نہ ہی ٹیم کے ساتھ ڈگ آؤٹ میں نظر آئے۔ اطلاعات کے مطابق دھونی نہیں چاہتے تھے کہ توجہ کا مرکز وہ خود بنیں، تاکہ نئے کھلاڑیوں کو ابھرنے کا موقع ملے۔ تاہم، ڈیل اسٹین اس سوچ سے اتفاق نہیں کرتے۔
اسٹین نے سچن ٹنڈولکر کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ ممبئی انڈینز کے ہر میچ میں اسٹیڈیم میں موجود ہوتے ہیں تاکہ ٹیم کی حوصلہ افزائی کر سکیں۔ انہوں نے مزید کہا: “ایم ایس دھونی کا میدان میں موجود ہونا ڈریسنگ روم کے ماحول کو بہتر بنا سکتا تھا اور کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھا سکتا تھا۔”
اے بی ڈی ویلیئرز کی مایوسی
اے بی ڈی ویلیئرز نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی دھونی کو ایکشن میں دیکھنے کے منتظر تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہر میچ کے دوران شائقین اور ماہرین یہی بحث کرتے رہے کہ کیا دھونی اگلا میچ کھیلیں گے، لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا۔ پورا ٹورنامنٹ ختم ہو گیا اور مداح اپنے پسندیدہ کپتان کو میدان میں دیکھنے سے محروم رہے۔
چنئی سپر کنگز کا مایوس کن سیزن
چنئی سپر کنگز کے لیے یہ مسلسل تیسرا سیزن ہے جس میں وہ پلے آف میں جگہ بنانے میں ناکام رہی ہے۔ 14 میچوں میں صرف 12 پوائنٹس کے ساتھ سیزن کا اختتام کرنا فرنچائز کے لیے ایک بڑا لمحہ فکریہ ہے۔ ٹیم کی کارکردگی میں تسلسل کا فقدان اور اہم کھلاڑیوں کی غیر موجودگی نے ٹیم کے توازن کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
نتیجہ
اگرچہ ایم ایس دھونی کی کرکٹ کے لیے خدمات ناقابل فراموش ہیں، لیکن ڈیل اسٹین کا یہ مشورہ کہ انہیں اب ریٹائر ہو جانا چاہیے، کرکٹ حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ چکا ہے۔ کیا دھونی واقعی اب کھیل کو خیرباد کہہ دیں گے یا وہ ایک بار پھر مداحوں کو حیران کرنے کے لیے واپس آئیں گے؟ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ فی الحال، کرکٹ کی دنیا کی نظریں دھونی کے اگلے فیصلے پر جمی ہوئی ہیں۔