Latest Cricket News

Mike Hesson breaks silence on Pakistan’s decision to drop Mohammad Rizwan from O

Avatar photo Deepak Menon · · 1 min read

پاکستان کرکٹ میں ایک نیا موڑ: محمد رضوان کی ڈراپ ہونے پر مائیک ہیسن کی وضاحت

پاکستان وائٹ بال کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے بالآخر آسٹریلیا کے خلاف تین میچوں کی ون ڈے سیریز کے لیے محمد رضوان کو ٹیم سے باہر رکھنے کے فیصلے پر کھل کر بات کی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی کپتانی میں تبدیلیوں پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ہیسن نے ان تمام قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا جن میں اس فیصلے کو ذاتی عناد سے جوڑا جا رہا تھا۔

ٹیم کی کارکردگی اور کپتانی میں تبدیلی کی ضرورت

مائیک ہیسن نے واضح کیا کہ محمد رضوان کا اخراج کسی بھی قسم کی ذاتی پسند یا ناپسند پر مبنی نہیں ہے بلکہ یہ ٹیم کی بہتری کے لیے اٹھایا گیا ایک پیشہ ورانہ قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیم مینجمنٹ ون ڈے کرکٹ میں مایوس کن کارکردگی کے بعد نتائج کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جب انہوں نے عہدہ سنبھالا تو رضوان پہلے ہی ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ سے دور تھے اور قیادت میں تبدیلی کا فیصلہ ون ڈے فارمیٹ میں ٹیم کی خراب کارکردگی کے پیش نظر کیا گیا، جہاں گزشتہ 12 ماہ کے دوران ٹیم بمشکل دو میچ ہی جیت سکی تھی۔

طویل مدتی منصوبہ بندی اور ورلڈ کپ کی تیاری

ہیڈ کوچ کے مطابق، یہ انتخاب پاکستان کی اگلے 18 ماہ میں ہونے والے ورلڈ کپ کے لیے طویل مدتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ٹیم مینجمنٹ کا مقصد مختلف کھلاڑیوں کو آزمانا اور نئے کمبی نیشنز کو چیک کرنا ہے تاکہ ورلڈ کپ سے قبل ایک مضبوط سکواڈ تیار کیا جا سکے۔ مائیک ہیسن نے کہا کہ بنگلہ دیش کے خلاف سیریز میں بھی متعدد تبدیلیاں کی گئی تھیں تاکہ نئے ٹیلنٹ کو موقع مل سکے، اور یہی سلسلہ آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں بھی برقرار رکھا گیا ہے۔

ٹیم کے نائب کپتان کے کردار پر گفتگو

اس موقع پر مائیک ہیسن نے سلمان علی آغا کے بارے میں بھی اہم انکشاف کیا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ سلمان علی آغا گزشتہ پانچ بین الاقوامی دوروں سے ٹیم کے نائب کپتان کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اگرچہ اس کا باضابطہ اعلان میڈیا میں نہیں کیا گیا، لیکن ٹیم کے اندرونی سیٹ اپ میں وہ باقاعدگی سے اس ذمہ داری کو نبھا رہے ہیں۔ یہ وضاحت اس لیے ضروری تھی کیونکہ شائقین کرکٹ میں نائب کپتان کے حوالے سے کافی تجسس پایا جاتا تھا۔

مستقبل کا لائحہ عمل

پاکستان اب آسٹریلیا کے خلاف سیریز کے لیے اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دے رہا ہے۔ بنگلہ دیش کے ہاتھوں حالیہ سیریز میں 2-1 کی شکست کے بعد ٹیم انتظامیہ کا سارا انحصار اب بابر اعظم جیسے تجربہ کار کھلاڑیوں پر ہوگا۔ مائیک ہیسن نے کہا کہ ٹیم میں توازن پیدا کرنے کے لیے ہمیں مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں، اور یہ تمام عمل صرف اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ پاکستان عالمی کرکٹ میں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کر سکے۔

نتیجہ

مائیک ہیسن کا بیان یہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اب نتائج پر مبنی کرکٹ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ محمد رضوان جیسے بڑے کھلاڑی کا ڈراپ ہونا بلاشبہ شائقین کے لیے حیران کن ہے، لیکن کوچنگ اسٹاف کا اصرار ہے کہ یہ ٹیم کے مستقبل کے مفاد میں ہے۔ آنے والی سیریز میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ ٹیم مینجمنٹ کے یہ تجربات کتنے کامیاب ثابت ہوتے ہیں اور کیا پاکستان آسٹریلیا جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف اپنی کارکردگی میں بہتری لا پاتا ہے یا نہیں۔