“I’m sorry”: Monty Panesar issues public apology to Steve Smith over ball-tamper – مونٹی پنیسر نے اسٹیو اسمتھ سے بال ٹیمپرنگ کے تبصروں پر معافی مانگ لی
مونٹی پنیسر کا اسٹیو اسمتھ سے معافی کا اعلان
انگلینڈ کے سابق اسپنر مونٹی پنیسر نے حال ہی میں ایک پوڈ کاسٹ کے دوران آسٹریلیا کے بلے باز اسٹیو اسمتھ کے حوالے سے دیے گئے اپنے متنازعہ بیانات پر عوامی معافی مانگ لی ہے۔ یہ تنازعہ گزشتہ سال نومبر میں ایشز سیریز شروع ہونے سے کچھ عرصہ قبل شروع ہوا تھا، جب پنیسر نے اسمتھ کی کپتانی میں واپسی پر تنقید کی تھی۔
تنازعہ کی شروعات
پنیسر نے ایشز سیریز سے قبل ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اسٹیو اسمتھ کو دوبارہ آسٹریلیا کا کپتان نہیں بننا چاہیے تھا اور انگلش کھلاڑیوں کو چاہیے کہ وہ انہیں 2018 کے بال ٹیمپرنگ اسکینڈل کا احساس دلائیں۔ اسمتھ، جنہوں نے 2018 میں اپنی غلطی تسلیم کی تھی، پیٹ کمنز کی عدم موجودگی میں کپتان بنائے گئے تھے۔ پنیسر کا موقف تھا کہ انگلش میڈیا کو بھی اسمتھ پر دباؤ ڈالنا چاہیے جیسا کہ آسٹریلوی میڈیا انگلش کھلاڑیوں کے ساتھ کرتا ہے۔
اسٹیو اسمتھ کا ردعمل
اسٹیو اسمتھ نے سیریز سے قبل ایک پریس کانفرنس میں پنیسر کے بیانات کا براہ راست جواب دینے کے بجائے ان کے 2019 کے ‘ماسٹر مائنڈ’ کوئز شو میں شرکت کا مذاق اڑایا۔ اسمتھ نے کہا کہ وہ ایسے شخص کی بات پر توجہ نہیں دیتے جس کے بنیادی علم کے تصورات ہی درست نہ ہوں۔ اس کے بعد پنیسر نے اخبار میں کالم لکھ کر اپنے موقف پر مزید زور دیا تھا۔
پوڈ کاسٹ پر اعتراف
حال ہی میں ‘اسٹک ٹو کرکٹ’ پوڈ کاسٹ پر گفتگو کرتے ہوئے، مونٹی پنیسر نے اپنے بیانات پر نظر ثانی کی۔ انہوں نے کہا، “میں نے وہ بیان خود دیا تھا، لیکن اب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ اگر میں اسمتھ سے کبھی ملا تو معافی مانگوں گا۔ میں کہوں گا کہ میرا مقصد آپ کی دل آزاری کرنا نہیں تھا۔” پنیسر نے اعتراف کیا کہ انہیں نہیں لگتا کہ اسمتھ ان سے ملنا چاہیں گے۔
کھیل پر اثرات
پنیسر کا ماننا ہے کہ ان کے تبصروں نے شاید اسمتھ کو کسی حد تک متاثر کیا تھا۔ انہوں نے دلیل دی کہ پرتھ میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں اسمتھ نے گیندیں چھوڑنے میں کافی مشکلات کا سامنا کیا، جو ان کے معمول کے کھیل کے برعکس تھا۔
مونٹی پنیسر کا کرکٹ کیریئر
مونٹی پنیسر انگلینڈ کی جانب سے کھیلنے والے پہلے سکھ کرکٹر تھے۔ 2006 سے 2013 کے درمیان، انہوں نے 50 ٹیسٹ میچوں میں 164 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کے کیریئر کا سب سے یادگار لمحہ 2012 میں ہندوستان کا دورہ تھا، جہاں انہوں نے ممبئی ٹیسٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سچن ٹنڈولکر اور ایم ایس دھونی جیسی بڑی وکٹیں حاصل کیں اور انگلینڈ کو سیریز جتوانے میں اہم کردار ادا کیا۔
نتیجہ
اگرچہ کرکٹ کے میدان میں کھلاڑیوں کے درمیان لفظی جنگ کوئی نئی بات نہیں، لیکن پنیسر کی جانب سے معافی کا مطالبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اب اپنے ماضی کے جارحانہ بیانات کو ایک مختلف زاویے سے دیکھ رہے ہیں۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا مستقبل میں یہ دونوں کھلاڑی ایک دوسرے کے آمنے سامنے آتے ہیں یا نہیں۔