Cricket News

SRH Player Ratings For IPL 2026 – IPL 2026: سن رائزرز حیدرآباد کے کھلاڑیوں کی مکمل کارکردگی اور ریٹنگ

Avatar photo Nikhil Joshi · · 1 min read

آئی پی ایل 2026: سن رائزرز حیدرآباد کا ڈرامائی سفر

سن رائزرز حیدرآباد (SRH) کے لیے آئی پی ایل 2026 کا سیزن کسی جذباتی رولر کوسٹر سے کم نہیں تھا۔ لیگ کے ابتدائی چار میچوں میں سے صرف ایک میں کامیابی کے بعد، تجزیہ کاروں نے ٹیم کو ٹورنامنٹ سے باہر سمجھ لیا تھا۔ لیکن کرکٹ کے کھیل میں کچھ بھی حتمی نہیں ہوتا۔ سیزن کے درمیانی مرحلے میں ٹیم نے ایسی شاندار واپسی کی کہ سب حیران رہ گئے۔

ٹیم نے لیگ مرحلے کا اختتام نو کامیابیوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر کیا، جو ان کی ہمت اور جارحانہ انداز کی عکاسی کرتا ہے۔ اگرچہ ایلیمینیٹر میں راجستھان رائلز کے خلاف ان کا سفر ختم ہوا، لیکن پورے ٹورنامنٹ کے دوران بلے بازوں نے جس طرح کا کھیل پیش کیا، وہ مداحوں کے لیے ایک یادگار تجربہ رہا۔

کھلاڑیوں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ

آئیے انفرادی کارکردگی پر ایک تفصیلی نظر ڈالتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کس کھلاڑی نے ٹیم کے لیے کیا کردار ادا کیا:

  • ابھیشیک شرما (7/10): 15 میچوں میں 563 رنز کے ساتھ ابھیشیک نے 204.72 کے اسٹرائیک ریٹ سے ٹیم کو تیز رفتار آغاز فراہم کیا۔
  • ٹریوس ہیڈ (6/10): 410 رنز بنا کر ٹریوس ہیڈ نے اپنی اہمیت ثابت کی، حالانکہ ان کی اوسط 27.33 رہی۔
  • ایشان کشن (7.5/10): ایشان کشن نے 602 رنز بنا کر ایک مستحکم بلے باز کا کردار ادا کیا۔
  • ہینرک کلاسن (7.5/10): 48.00 کی اوسط سے 624 رنز بنانا کلاسن کی کلاس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
  • نتیش کمار ریڈی (8/10): یہ کھلاڑی آل راؤنڈر کے طور پر ابھرا، جس نے 302 رنز کے ساتھ 8 وکٹیں بھی حاصل کیں۔

مایوس کن کارکردگی

ٹیم کے کچھ کھلاڑی توقعات پر پورا نہ اتر سکے۔ سمرن روی چندرن کو 1/10، انیکت ورما کو 1.5/10 اور لیام لیونگ اسٹون کو صرف 0.5/10 کی ریٹنگ دی جا سکتی ہے، کیونکہ ان کی کارکردگی ٹیم کی ضرورت کے مطابق نہیں تھی۔ ہرشل پٹیل کے لیے یہ سیزن انتہائی مایوس کن رہا، وہ 5 میچوں میں ایک بھی وکٹ حاصل نہ کر سکے۔

گیند بازی کا شعبہ

گیند بازی میں ایشان مالنگا (6.5/10) 20 وکٹوں کے ساتھ سر فہرست رہے، جبکہ ساکب حسین نے 11 میچوں میں 15 وکٹیں حاصل کر کے خود کو منوایا۔ پرفل ہنگے (6/10) نے 14 وکٹیں لیں لیکن ان کا اکانومی ریٹ قدرے زیادہ رہا۔ کپتان پیٹ کمنز (4/10) اپنے معیار کے مطابق کارکردگی نہ دکھا سکے اور 8 میچوں میں صرف 8 وکٹیں ہی لے پائے۔

نتیجہ

سن رائزرز حیدرآباد کے لیے یہ سیزن ایک ملے جلے احساسات کا نام تھا۔ جہاں ان کے بلے بازوں نے کئی بار مشکل حالات میں ٹیم کو سنبھالا، وہیں گیند بازوں کو مستقل مزاجی دکھانے میں مشکلات کا سامنا رہا۔ آنے والے سیزن میں ٹیم انتظامیہ کو خاص طور پر مڈل آرڈر اور گیند بازی کے اکانومی ریٹ پر توجہ دینے کی ضرورت ہوگی تاکہ وہ اگلی بار چیمپئن بننے کا خواب پورا کر سکیں۔