Latest Cricket News

“We Won, And That Was The Start Of Modern Cricket” – Lalit Modi opens up on IPL’ – للت مودی کا انکشاف: آئی پی ایل کی تخلیق اور بی سی سی آئی انتخابات کی اندرونی کہانی

Avatar photo Deepak Menon · · 1 min read

جدید کرکٹ کا آغاز: للت مودی کی نظر سے آئی پی ایل کی تخلیق

کرکٹ کی دنیا میں انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) ایک ایسے انقلاب کا نام ہے جس نے کھیل کو صرف ایک کھیل سے نکال کر ایک عظیم تجارتی اور تفریحی صنعت میں تبدیل کر دیا۔ حال ہی میں، آئی پی ایل کے بانی للت مودی نے ان واقعات اور سیاسی کشمکش پر کھل کر بات کی ہے جو اس عظیم لیگ کے قیام کا پیش خیمہ ثابت ہوئے۔

بی سی سی آئی انتخابات اور اقتدار کی کشمکش

للت مودی کا کہنا ہے کہ آئی پی ایل کا خواب تب تک حقیقت کا روپ نہیں لے سکتا تھا جب تک بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) میں تبدیلی نہ آتی۔ مودی نے یاد دلایا کہ 2005 کے دوران انہوں نے شرد پوار کو بی سی سی آئی کے صدارتی انتخابات میں کھڑا کرنے کے لیے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ اس وقت بورڈ کے اندر سخت مقابلہ تھا اور دونوں گروپس ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے ہر ممکن ہتھکنڈہ استعمال کر رہے تھے۔

مودی کے مطابق، 2005 کے انتخابات کسی جنگ سے کم نہیں تھے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ کس طرح ووٹ خریدنے اور ٹریڈنگ کا بازار گرم تھا اور ممبران کو اپنے حق میں کرنے کے لیے ہوائی جہازوں کے روٹ تبدیل کرنے جیسے اقدامات بھی کیے گئے۔

سپریم کورٹ کا وہ تاریخی فیصلہ

29 نومبر 2005 کا دن للت مودی کی زندگی اور ہندوستانی کرکٹ کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ کولکتہ میں ہونے والے اس الیکشن کے بارے میں مودی نے بتایا کہ انہوں نے کس طرح ایک غیر متوقع حکمت عملی اپنائی۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے ایک آرڈر حاصل کیا جس کے تحت دو ریٹائرڈ ججوں کی نگرانی میں انتخابات کا انعقاد ہونا تھا۔

مودی نے بتایا کہ جب وہ کولکتہ پہنچے، تو اپوزیشن کو اس بات کی بھنک بھی نہیں تھی کہ جج وہاں موجود ہیں۔ جب انہوں نے سپریم کورٹ کا حکم نامہ پیش کیا، تو وہاں ہنگامہ برپا ہو گیا اور حالات اس قدر کشیدہ ہو گئے کہ پولیس کو مداخلت کرنی پڑی۔ اس عمل کے بعد ہی شرد پوار کے گروپ کو اقتدار ملا، جس نے بعد ازاں آئی پی ایل کے قیام کی راہ ہموار کی۔

آئی پی ایل: ایک نیا وژن

للت مودی کا ماننا ہے کہ آئی پی ایل کا ماڈل امریکی کھیلوں کی لیگز اور ہندوستانی کرکٹ کے جذباتی لگاؤ کا ایک امتزاج ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی سی سی آئی کے اقتدار میں آنے کے بعد، انہوں نے وہ تمام تجارتی تبدیلیاں متعارف کروائیں جنہوں نے کرکٹ کو ایک عالمی برانڈ بنا دیا۔

  • تجارتی سوچ: فرنچائز ماڈل کا تعارف جس نے ٹیموں کو خود کفیل بنایا۔
  • تفریح کا عنصر: کرکٹ اور بالی وڈ کا ملاپ جس نے شائقین کو سٹیڈیم تک کھینچا۔
  • میرٹ پر مبنی سیاست: مودی کا دعویٰ ہے کہ ان کا گروپ صاف ستھری اور میرٹ پر مبنی انتظامیہ لانا چاہتا تھا۔

مودی نے ان ناموں کا بھی ذکر کیا جو اس وقت ان کے مخالفین کے کیمپ میں تھے، جن میں ارون جیٹلی، انوراگ ٹھاکر، اور این سری نواسن جیسے بڑے نام شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام لوگ اس وقت ایک طاقتور لابی کا حصہ تھے، لیکن میرٹ اور درست وقت پر لیے گئے فیصلوں نے ان کے گروپ کو فتح دلوائی۔

نتیجہ

آئی پی ایل کی تخلیق محض ایک اتفاق نہیں تھی، بلکہ یہ برسوں پر محیط سیاسی جدوجہد اور ایک واضح وژن کا نتیجہ تھی۔ للت مودی کے مطابق، 29 نومبر 2005 کی فتح نے نہ صرف بی سی سی آئی میں طاقت کا توازن بدلا، بلکہ اس نے جدید کرکٹ کے اس دور کا آغاز کیا جسے آج ہم دنیا بھر میں دیکھ رہے ہیں۔ آج جب ہم آئی پی ایل کو کرکٹ کا سب سے بڑا ایونٹ مانتے ہیں، تو اس کے پیچھے اسی دور کی وہ کہانیاں پوشیدہ ہیں جو اب آہستہ آہستہ منظر عام پر آ رہی ہیں۔