“He has been a huge failure in the playoffs” – Ex-India skipper tears into Abhis – کرس شری کانت کی ابھیشیک شرما پر تنقید: پلے آف میں ناکامی کا تسلسل
پلے آف میں ابھیشیک شرما کی ناکامی: ایک نیا تنازع
آئی پی ایل 2026 کے سنسنی خیز ایلیمینیٹر میچ میں راجستھان رائلز کے ہاتھوں سن رائزرز حیدرآباد (SRH) کی 47 رنز سے شکست نے ٹیم کی حکمت عملی اور کھلاڑیوں کی کارکردگی پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اس شکست کے بعد سابق بھارتی کپتان کرس شری کانت نے خاص طور پر اوپنر ابھیشیک شرما کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں پلے آف میچوں کا ‘سب سے ناکام’ کھلاڑی قرار دیا ہے۔
شری کانت کا سخت موقف
اپنے یوٹیوب چینل پر گفتگو کرتے ہوئے کرس شری کانت نے ابھیشیک شرما کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پلے آف جیسے اہم مراحل میں ابھیشیک کا بلے سے خاموش رہنا سن رائزرز حیدرآباد کے لیے ایک دیرینہ مسئلہ بن چکا ہے۔ شری کانت کے مطابق: ‘ابھیشیک شرما پلے آف میں ہمیشہ ناکام رہے ہیں۔ وہ پلے آف میں ایک بڑی ناکامی ثابت ہوئے ہیں۔ 2024 سے SRH کی ٹیم کے لیے یہ ایک مستقل مسئلہ ہے۔’
اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو ابھیشیک شرما کا ریکارڈ واقعی تشویشناک ہے۔ انہوں نے اب تک چار آئی پی ایل پلے آف میچوں میں صرف 17 رنز بنائے ہیں، جس میں ان کی اوسط محض 4.25 رہی ہے۔ نیو چنڈی گڑھ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں بھی وہ صرف دو گیندوں کا سامنا کر کے جوفرا آرچر کی گیند پر وکٹ کے پیچھے کیچ آؤٹ ہو گئے تھے۔
حیدرآباد کی بیٹنگ حکمت عملی پر سوالات
کرس شری کانت نے صرف ابھیشیک شرما کو ہی ہدف نہیں بنایا بلکہ ٹیم کی بیٹنگ آرڈر میں کی گئی تبدیلیوں پر بھی حیرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے خاص طور پر ہینرک کلاسن سے پہلے سمرن کو بھیجے جانے کے فیصلے کو غیر منطقی قرار دیا۔ شری کانت نے استفسار کیا کہ کیا ٹیم مینجمنٹ کلاسن کو آرچر کے خلاف نہیں لانا چاہتی تھی، یا ان کی منصوبہ بندی کچھ اور تھی؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب ٹیم کے کوچنگ اسٹاف کے پاس ہونا چاہیے۔
ٹراوس ہیڈ اور ایشان کشن کی کارکردگی
میچ کے دوران جوفرا آرچر کی تباہ کن بولنگ نے سن رائزرز حیدرآباد کی کمر توڑ دی۔ آرچر نے اپنے پہلے ہی اسپیل میں ابھیشیک شرما، ٹراوس ہیڈ اور ایشان کشن کو آؤٹ کر کے ٹیم کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا۔ شری کانت نے ٹراوس ہیڈ کی بیٹنگ کے انداز پر بھی کڑی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہیڈ کا اندھا دھند شاٹس کھیلنا ٹیم کے لیے تباہ کن ثابت ہوا۔ انہوں نے کہا: ‘ٹراوس ہیڈ نے جس طرح اندھا دھند بلا گھمایا، وہ ناقابل فہم ہے۔ میں نے اپنے دور میں شاٹس کھیلے ہیں، لیکن ہیڈ جس طرح دباؤ میں دکھائی دیے، اس سے ایسا لگا کہ وہ آرچر کے سامنے بوکھلا گئے تھے۔’
نتیجہ اور مستقبل کا لائحہ عمل
راجستھان رائلز کے 244 رنز کے تعاقب میں حیدرآباد کی ٹیم 196 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ ایشان کشن نے ابتدا میں کچھ مزاحمت ضرور کی لیکن ان کے آؤٹ ہوتے ہی پوری بیٹنگ لائن اپ ریت کی دیوار کی طرح گر گئی۔ کرس شری کانت کا ماننا ہے کہ اگر ٹراوس ہیڈ اور باقی بلے بازوں نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہوتا تو شاید میچ کا نتیجہ مختلف ہو سکتا تھا۔
آئی پی ایل کے اس مرحلے پر، جہاں ہر میچ انتہائی اہم ہوتا ہے، سن رائزرز حیدرآباد کی یہ شکست ان کی ٹیم مینجمنٹ کے لیے ایک سبق ہے۔ آنے والے سیزنز میں ٹیم کو اپنے پلے آف کے مسائل کو حل کرنے کے لیے کھلاڑیوں کے انتخاب اور حکمت عملی میں بنیادی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہوگی۔