(DNP) Sanjay Bangar delivers honest verdict over Rishabh Pant and Nicholas Poora – IPL 2026: سنجے بانگر کا رشبھ پنت اور نکولس پورن کے مستقبل پر اہم فیصلہ
آئی پی ایل 2026: سنجے بانگر کا کھلاڑیوں کے مستقبل پر تجزیہ
آئی پی ایل 2026 کے سیزن کے اختتام کے ساتھ ہی فرنچائزز کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ کن کھلاڑیوں کو برقرار رکھا جائے اور کن کو ریلیز کیا جائے۔ اس بحث میں سابق بھارتی بیٹنگ کوچ اور ماہر کرکٹ سنجے بانگر نے اپنی منفرد رائے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے صرف روایتی ‘ریٹین’ یا ‘ریلیز’ تک محدود رہنے کے بجائے ‘ری پرچیز’ (دوبارہ خریدنے) کا آپشن متعارف کرایا ہے، تاکہ مہنگے کھلاڑیوں کو کم قیمت پر دوبارہ ٹیم کا حصہ بنایا جا سکے۔
لکھنؤ سپر جائنٹس: رشبھ پنت اور نکولس پورن کا کیا ہوگا؟
سنجے بانگر نے لکھنؤ سپر جائنٹس (LSG) کے حوالے سے خاص طور پر رشبھ پنت اور نکولس پورن کا ذکر کیا۔ اگرچہ دونوں کھلاڑیوں کی کارکردگی اس سیزن میں کچھ خاص نہیں رہی، لیکن بانگر کا ماننا ہے کہ انہیں سیدھا ریلیز کرنے کے بجائے دوبارہ خریدنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ پورن نے 14 میچوں میں 234 رنز بنائے، جبکہ پنت، جو آئی پی ایل کی تاریخ کے سب سے مہنگے کھلاڑیوں میں شامل ہیں، اپنی ساکھ کے مطابق کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے۔ تاہم، بانگر نے اویش خان کو ریلیز کرنے کا مشورہ دیا ہے کیونکہ ان کا سیزن انجری اور ناقص فارم کی نذر ہو گیا۔
مختلف ٹیموں کے لیے سنجے بانگر کی سفارشات
بانگر نے دیگر ٹیموں کے کھلاڑیوں پر بھی گہری نظر رکھی ہے:
- ممبئی انڈینز: شردل ٹھاکر (12 وکٹیں) پر اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے، جبکہ ٹرینٹ بولٹ اور دیپک چاہر کو ریلیز کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہاردک پانڈیا کے مستقبل پر بانگر تاحال غیر یقینی کا شکار ہیں۔
- پنجاب کنگز: مارکو جینسن اور یزویندر چاہل کو برقرار رکھنے کی حمایت کی گئی، جبکہ زیویئر بارٹلیٹ کے بارے میں رائے منفی رہی۔
- دہلی کیپیٹلز: ٹی نٹراجن کو ریٹین کرنے کا مشورہ جبکہ نتیش رانا اور مکیش کمار کو ریلیز کرنے کا کہا گیا۔
- گجرات ٹائٹنز: راہل تیوتیا کو رکھنے اور شاہ رخ خان کو ریلیز کرنے کی تجویز دی گئی۔
- راجستھان رائلز: رویندر جڈیجہ اور تشار دیشپانڈے کو برقرار رکھنے کا مشورہ دیا گیا، جبکہ شمرون ہیٹمائر کو ٹیم سے الگ کرنے کا مشورہ دیا گیا۔
کھلاڑیوں کی کارکردگی اور اعداد و شمار
سنجے بانگر کا یہ تجزیہ کھلاڑیوں کے حالیہ اعداد و شمار پر مبنی ہے۔ مثلاً، جہاں کچھ کھلاڑیوں نے اپنی افادیت ثابت کی، وہیں کچھ کی اوسط (Average) اور سٹرائیک ریٹ (SR) نے ان کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ بانگر نے لیام لیونگسٹن اور ہرشل پٹیل جیسے کھلاڑیوں کو ‘ری پرچیز’ کی کیٹیگری میں رکھا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ اب بھی قیمتی ہیں لیکن موجودہ تنخواہ شاید ان کی کارکردگی کے مطابق نہیں ہے۔
نتیجہ
سنجے بانگر کا یہ ‘ری پرچیز’ کا ماڈل آئی پی ایل کی اگلی نیلامی میں فرنچائزز کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ نقطہ نظر نہ صرف مالی توازن برقرار رکھنے میں مدد دے گا بلکہ ٹیموں کو اپنے سکواڈ کو دوبارہ ترتیب دینے کا موقع بھی دے گا۔ کرکٹ کے شائقین اب یہ دیکھنے کے منتظر ہیں کہ آیا فرنچائزز اس ماہرانہ مشورے پر عمل کرتی ہیں یا نہیں۔
یاد رہے کہ یہ تجزیہ آئی پی ایل 2026 کی کارکردگی کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جہاں کئی سینئر کھلاڑیوں کو اپنی فارم بحال کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ کون سی ٹیم بانگر کے اس فارمولے کو اپناتی ہے۔