When Sanjiv Goenka Said Rishabh Pant Will Win 5 IPL Trophies In Next 15 Years – رشبھ پنت اور سنجیو گوئنکا: ایک ٹوٹا ہوا خواب اور آئی پی ایل کی قیادت کا بحران
ایک بڑا خواب اور ایک تلخ حقیقت
آئی پی ایل 2025 کی میگا نیلامی کے دوران جب لکھنؤ سپر جائنٹس (LSG) نے 27 کروڑ روپے کی بھاری رقم خرچ کر کے رشبھ پنت کو اپنی ٹیم کا حصہ بنایا، تو فرنچائز کے مالک سنجیو گوئنکا کی آنکھوں میں ایک بڑا خواب تھا۔ یہ نہ صرف آئی پی ایل کی تاریخ کی مہنگی ترین ڈیل تھی، بلکہ ایک ایسی سرمایہ کاری تھی جس سے گوئنکا نے مستقبل کی قیادت کا محور تلاش کر لیا تھا۔
سنجیو گوئنکا کی وہ پیشگوئی جو اب سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے
نیلامی کے فوراً بعد، سنجیو گوئنکا نے رشبھ پنت کے مستقبل کے حوالے سے ایک انتہائی پرامید بیان دیا تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ پنت نہ صرف اپنی بیٹنگ بلکہ اپنی قیادت سے آنے والے 10 سے 15 سالوں میں آئی پی ایل کے منظرنامے پر راج کریں گے۔ گوئنکا نے کہا تھا، “وہ 10 سے 15 سال تک کھیلیں گے۔ اس دوران وہ کم از کم 5 سے 6 آئی پی ایل ٹرافیاں جیت سکتے ہیں۔ لوگ ایک دن مہی، روہت اور رشبھ کا نام ایک ساتھ لیں گے۔”
گوئنکا نے پنت کو آئی پی ایل کی تاریخ کا بہترین کپتان قرار دینے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی تھی۔ ان کا خیال تھا کہ پنت میں وہ صلاحیت ہے کہ وہ ٹیم کے اندر باہمی اعتماد پیدا کر کے اسے کامیابی کی بلندیوں تک لے جا سکیں گے۔
خواب کا بکھرنا: پنت کی کپتانی کا خاتمہ
تاہم، کرکٹ کے میدان میں اعداد و شمار اکثر خوابوں کے برعکس ہوتے ہیں۔ رشبھ پنت کی قیادت میں LSG کی کارکردگی مایوس کن رہی۔ ٹیم نہ صرف 2025 میں پلے آف تک پہنچنے میں ناکام رہی بلکہ 2026 میں اپنی نچلی ترین سطح پر آ گئی۔ مسلسل ناکامیوں کے بعد، رشبھ پنت نے قیادت سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا، جس سے گوئنکا کا وہ خواب عملی طور پر ختم ہو گیا۔
سنجیو گوئنکا اور کپتانوں کی تبدیلی کا پیٹرن
رشبھ پنت کا یہ معاملہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ سنجیو گوئنکا کا کرکٹ ٹیموں کے کپتانوں کے ساتھ تعلق ہمیشہ سے متنازع رہا ہے۔ ماضی میں، 2016 کے سیزن کے بعد ایم ایس دھونی کو کپتانی سے ہٹانے کا فیصلہ بھی کافی تنقید کا نشانہ بنا تھا۔ اس وقت بھی دھونی کو ایک غیر متوازن ٹیم کی ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا، جبکہ کرکٹ ماہرین کا ماننا تھا کہ ایک سیزن کی بنیاد پر کسی عظیم کپتان کو ہٹانا ناانصافی ہے۔
یہی نہیں، لکھنؤ سپر جائنٹس کے ابتدائی کپتان کے ایل راہول کے ساتھ بھی معاملات کچھ اسی نہج پر پہنچے تھے۔ راہول، جو فرنچائز کے قیام کے وقت سے ساتھ تھے، میدان پر ہونے والی بحثوں اور ٹیم کے انتظامی فیصلوں سے دلبرداشتہ ہو کر ٹیم چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔
قیادت میں عدم استحکام کے نتائج
لکھنؤ سپر جائنٹس کے اندر قیادت کا یہ بار بار بدلتا ہوا ڈھانچہ ٹیم کے مجموعی کلچر پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایک ٹیم کی کامیابی کے لیے مالک اور کپتان کے درمیان مستقل مزاجی اور اعتماد کا ہونا ضروری ہے، جو کہ فی الحال LSG میں مفقود نظر آتا ہے۔
نتیجہ
رشبھ پنت کا کپتانی سے دستبردار ہونا لکھنؤ سپر جائنٹس کے لیے ایک بڑے بحران کی علامت ہے۔ اب فرنچائز کو ایک نئے کپتان کی تلاش کرنی ہوگی جو اس ڈوبتی کشتی کو سنبھال سکے۔ سنجیو گوئنکا کا وہ خواب کہ رشبھ پنت 5 ٹرافیاں جیتیں گے، اب ماضی کا حصہ بن چکا ہے، لیکن اس سے یہ سبق ضرور ملتا ہے کہ صرف بڑی قیمت پر کھلاڑی خریدنا کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتا۔
آئی پی ایل 2027 کے لیے اب سب کی نظریں LSG کی انتظامیہ پر ہیں کہ وہ کس کھلاڑی کو یہ بھاری ذمہ داری سونپتے ہیں اور کیا وہ اس بار طویل مدتی استحکام برقرار رکھ پائیں گے یا نہیں؟