Latest Cricket News

Watch: Vaibhav Sooryavanshi furious with himself after being dismissed on 96 in – ویبھو سوریہ ونشی کوالیفائر 2 میں 96 رنز پر آؤٹ ہونے کے بعد غصے میں

Avatar photo Tanay Bhatt · · 1 min read

ویبھو سوریہ ونشی کی شاندار اننگز کا ڈرامائی اختتام

راجستھان رائلز کے نوجوان اوپنر ویبھو سوریہ ونشی کے لیے کوالیفائر 2 کا میچ ایک یادگار کارکردگی ثابت ہوسکتا تھا، لیکن 96 رنز کے اسکور پر ان کی وکٹ گرنے سے ان کی سنچری کا خواب ادھورا رہ گیا۔ گجرات ٹائٹنز کے خلاف اس اہم مقابلے میں سوریہ ونشی کی بیٹنگ نے شائقین کو متاثر کیا، مگر اختتامی لمحات میں ان کا غصہ اور مایوسی واضح طور پر دیکھی جا سکتی تھی۔

ایک میچور اور ذمہ دارانہ اننگز

عام طور پر اپنی جارحانہ بیٹنگ کے لیے پہچانے جانے والے سوریہ ونشی نے اس بار ایک مختلف انداز اپنایا۔ راجستھان رائلز کی اننگز کے 17ویں اوور تک وہ اپنی ٹیم کو ایک مستحکم پوزیشن میں پہنچا چکے تھے۔ یہ اننگز ان کی عام تیز رفتار بیٹنگ سے مختلف تھی، جس میں ایک پختگی اور سمجھ بوجھ کا مظاہرہ دیکھنے کو ملا۔ انہوں نے اپنی نصف سنچری 31 گیندوں پر مکمل کی، جو ان کے معیارات کے مطابق تھوڑی سست تھی، لیکن اس کے بعد انہوں نے اپنی رفتار بڑھاتے ہوئے اگلے 16 گیندوں پر 46 رنز بنا ڈالے۔

کاگیسو رباڈا کا وار اور ڈسمسل کا طریقہ

میچ کا اہم موڑ اس وقت آیا جب کاگیسو رباڈا اپنا آخری اوور کروانے آئے۔ رباڈا نے آف اسٹمپ کے باہر ایک تیز اور مختصر گیند کرائی۔ سوریہ ونشی نے اپنے مشہور ‘ٹینس شاٹ’ کو کھیلنے کی کوشش کی، جس نے انہیں اس میچ میں بہت کامیابی دلائی تھی، لیکن اس بار وہ اپنی باڈی شیپ پر قابو نہ رکھ سکے۔ گیند بلے کے کنارے سے ٹکرا کر تھرڈ مین پر کھڑے پرسدھ کرشنا کے ہاتھوں میں چلی گئی۔ یہ وہی انداز تھا جس میں وہ ایلیمینیٹر میچ کے دوران ایس آر ایچ کے پرفل ہنگے کے خلاف آؤٹ ہوئے تھے۔

میدان سے باہر جاتے ہوئے مایوسی کا اظہار

جب وہ میدان سے واپس جا رہے تھے، تو ان کے چہرے پر شکست اور غصہ صاف عیاں تھا۔ اپنی سنچری سے صرف چار رنز کی دوری پر آؤٹ ہونا کسی بھی بلے باز کے لیے تکلیف دہ ہوتا ہے، اور سوریہ ونشی نے اپنی ناراضگی کا اظہار اپنے دستانے زمین پر پھینک کر کیا۔ یہ عمل ان کی اپنی کارکردگی کے حوالے سے بلند معیار اور خود کو بہتر ثابت کرنے کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔

ٹیم کے لیے مشکلات

راجستھان رائلز کے لیے یہ لمحہ صرف ایک بلے باز کے آؤٹ ہونے تک محدود نہیں تھا۔ اس میچ کے دوران ٹیم کو ایک اور بڑا دھچکا اس وقت لگا جب رویندر جڈیجہ بھی انجری کا شکار ہو کر میدان سے باہر چلے گئے۔ اگرچہ راجستھان رائلز نے 17ویں اوور تک کھیل پر کنٹرول برقرار رکھا تھا، لیکن اہم کھلاڑیوں کی وکٹیں گرنے اور انجریز سے ٹیم کا توازن متاثر ہوا ہے۔

مستقبل کی توقعات

ویبھو سوریہ ونشی کا یہ سفر ثابت کرتا ہے کہ ان میں بڑے میچوں کا دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اگرچہ وہ اس بار سنچری نہ بنا سکے، لیکن ان کی تکنیک اور شاٹس کے انتخاب نے ماہرین کو متاثر کیا ہے۔ کرکٹ کے شائقین اب یہ دیکھنے کے منتظر ہیں کہ یہ نوجوان بلے باز اپنی اس غلطی سے سیکھ کر اگلے میچوں میں کیسا ردعمل دیتا ہے۔ راجستھان رائلز کو فائنل کی دوڑ میں برقرار رہنے کے لیے ایسے ہی جذباتی اور تکنیکی عزم کی ضرورت ہے۔

مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔