‘I’m going to try some grip tech now’ – Sai Sudharsan is hit wicket again – سائی سدرشن کا انوکھا ریکارڈ: لگاتار دو بار ہٹ وکٹ ہونے پر بلے باز کا دلچسپ تبصرہ
کرکٹ کی دنیا کا عجیب ترین اتفاق
کرکٹ کے میدان میں کھلاڑی اکثر عجیب و غریب انداز میں آؤٹ ہوتے ہیں، لیکن ایک ہی کھلاڑی کا لگاتار دو اہم میچوں میں ‘ہٹ وکٹ’ آؤٹ ہونا ایک ایسی کہانی ہے جو شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ گجرات ٹائٹنز کے ابھرتے ہوئے اسٹار اوپنر سائی سدرشن اب اپنے ٹی ٹوئنٹی کیریئر میں تین بار ہٹ وکٹ آؤٹ ہو چکے ہیں، جس نے انہیں ایک غیر معمولی اور ناپسندیدہ ریکارڈ کا حصہ بنا دیا ہے۔
کیا ہوا تھا اصل میں؟
آئی پی ایل 2026 کے کوالیفائر 1 میں رائل چیلنجرز بنگلورو کے خلاف میچ کے دوران، سدرشن بہت اچھی فارم میں نظر آ رہے تھے۔ تیسرے اوور میں جیکب ڈفی کی گیند پر شاٹ کھیلتے ہوئے ان کا بلا ہاتھ سے چھوٹ کر وکٹوں پر جا لگا۔ یہ ایک عجیب واقعہ تھا، لیکن کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ دوبارہ ہوگا۔ تاہم، کوالیفائر 2 میں راجستھان رائلز کے خلاف بھی بالکل ایسا ہی منظر دہرایا گیا۔ 215 رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے سدرشن 58 رنز پر کھیل رہے تھے کہ برجیش شرما کی گیند پر شاٹ مارتے ہوئے ان کا بلا ایک بار پھر ان کے ہاتھوں سے نکلا اور وکٹوں سے ٹکرا گیا۔
سدرشن کا دلچسپ ردعمل
اس عجیب و غریب صورتحال پر سائی سدرشن خود بھی حیران ہیں، تاہم انہوں نے اس صورتحال کو خوش دلی سے قبول کیا۔ براڈکاسٹرز سے بات کرتے ہوئے سدرشن نے مذاق میں کہا کہ، ‘مجھے لگتا ہے کہ اب مجھے کچھ تکنیکی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ میں شاید اب ‘گرپ ٹیک’ کا استعمال کروں گا تاکہ بلا ہاتھ سے نہ چھوٹے، حالانکہ ایمانداری سے کہوں تو مجھے خود سمجھ نہیں آ رہا کہ یہ کیسے ہو رہا ہے۔’
شبمن گل کی حیرانی
دوسری جانب سدرشن کے ساتھی اوپنر شبمن گل بھی اس واقعے پر حیران نظر آئے۔ گل، جنہوں نے سدرشن کے ساتھ مل کر شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کیا، کا کہنا تھا کہ، ‘میں نے اپنی زندگی میں ایسا کچھ نہیں دیکھا۔ دو میچ، اور لگاتار دو بار ہٹ وکٹ! میں نے سوشل میڈیا پر دیکھا کہ سدرشن اپنے ہاتھوں پر ٹیپ لگا رہے ہیں، شاید مجھے بھی اگلے میچ میں ایسا ہی کرنا پڑے گا۔’
مضبوط شراکت داری
اس کے باوجود کہ سدرشن ان عجیب و غریب آؤٹ ہونے کے واقعات کا شکار ہوئے، ان کی اور شبمن گل کی شراکت داری گجرات ٹائٹنز کی کامیابی کی کنجی رہی ہے۔ آئی پی ایل 2026 میں دونوں بلے بازوں نے چار سنچری پارٹنرشپ قائم کی ہیں اور دونوں ہی 700 رنز کا سنگ میل عبور کر چکے ہیں۔ گل نے اپنی کامیابی کا راز بتاتے ہوئے کہا کہ، ‘ہم ایک دوسرے کے کھیل کو بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ ہماری آپس میں بات چیت بہت شفاف ہوتی ہے، اور ہم جانتے ہیں کہ کس وقت کس بولر پر حملہ کرنا ہے۔’
مستقبل کے عزم
سدرشن نے تسلیم کیا کہ وقت کے ساتھ ساتھ گل کے ساتھ ان کی کیمسٹری بہتر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا، ‘گجرات ٹائٹنز کے ساتھ گزارے گئے ابتدائی سالوں نے مجھے بہت تجربہ دیا ہے۔ اس سال بہت سی ایسی چیزیں ہیں جن پر مجھے کام کرنے کی ضرورت ہے، اور میں پوری کوشش کروں گا کہ مزید بہتر ہو کر واپس آؤں۔’
جہاں ایک طرف سدرشن کے ہٹ وکٹ ہونے کے واقعات نے شائقین کو حیران کیا ہے، وہیں ان کی بلے بازی کی صلاحیتوں پر کسی کو شک نہیں۔ گجرات ٹائٹنز اب فائنل میں رائل چیلنجرز بنگلورو کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے، اور مداحوں کو امید ہے کہ سدرشن کا بلا اس بار وکٹوں سے نہیں بلکہ صرف گیند سے ٹکرائے گا۔