‘Disappointing’ – Sangakkara on Sam Curran turning out for Surrey with IPL still – سم کران کا آئی پی ایل چھوڑ کر سرے کے لیے کھیلنا: کمارا سنگاکارا مایوس
آئی پی ایل اور کھلاڑیوں کی وابستگی: ایک نیا تنازعہ
کرکٹ کی دنیا میں کھلاڑیوں کی انجریز اور ان کی فرنچائز کے ساتھ وابستگی ہمیشہ سے بحث کا موضوع رہی ہے۔ حال ہی میں آئی پی ایل 2026 کے دوران سم کران کے معاملے نے ایک بار پھر اس بحث کو تازہ کر دیا ہے۔ راجستھان رائلز کے ہیڈ کوچ، کمارا سنگاکارا نے حال ہی میں اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کیا ہے کہ کس طرح سم کران کا آئی پی ایل چھوڑ کر کاؤنٹی کرکٹ میں واپسی کرنا ٹیم کے لیے ایک مایوس کن تجربہ رہا۔
واقعہ کیا تھا؟
سم کران، جنہیں راجستھان رائلز نے بڑی امیدوں کے ساتھ اپنی ٹیم کا حصہ بنایا تھا، نے آئی پی ایل شروع ہونے سے قبل ہی گروئن انجری کا حوالہ دیتے ہوئے ٹورنامنٹ سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا۔ خبروں کے مطابق، یہ ایک ‘سیزن ختم کرنے والی انجری’ قرار دی گئی تھی۔ تاہم، 22 مئی کو جب سم کران کو سرے کی جانب سے وائٹلٹی بلاسٹ میں کھیلتے ہوئے دیکھا گیا، تو یہ خبر راجستھان رائلز کے لیے کسی دھچکے سے کم نہیں تھی۔
کمارا سنگاکارا کا موقف
کوالیفائر 2 میں راجستھان رائلز کی شکست کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سنگاکارا نے کہا، ‘ہمیں بتایا گیا تھا کہ سم کران سیزن ختم کرنے والی انجری کا شکار ہیں، لیکن میں نے انہیں سرے کے لیے کھیلتے ہوئے دیکھا ہے۔ یہ واقعی مایوس کن ہے۔ ہم چاہتے تھے کہ وہ ہماری ٹیم کا حصہ بنیں۔’ سنگاکارا کا ماننا ہے کہ اگر کھلاڑی انجرڈ ہے تو اسے مکمل آرام کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن میدان میں واپسی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔
متبادل کھلاڑی کا مسئلہ
سم کران کے باہر ہونے کے بعد راجستھان رائلز نے داسن شناکا کو ٹیم میں شامل کیا تھا۔ اس تبدیلی نے بھی ایک اور قانونی مسئلہ پیدا کر دیا، کیونکہ شناکا کو لاہور قلندرز کے ساتھ اپنا معاہدہ ختم کرنا پڑا جس کی وجہ سے انہیں ایک سال کی پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ پوری صورتحال فرنچائزز کے لیے ایک بڑا سبق ہے۔
بی سی سی آئی کی سخت پالیسی
آئی پی ایل کی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے بی سی سی آئی نے ستمبر 2024 میں کھلاڑیوں کے لیے سخت ضوابط جاری کیے تھے، جن کے تحت نیلامی کے بعد دستبردار ہونے والے کھلاڑیوں پر دو سال کی پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ سنگاکارا نے اس پالیسی کی حمایت کرتے ہوئے کہا، ‘مجھے لگتا ہے کہ اس حوالے سے ایک سخت پالیسی کی ضرورت ہے۔ انجریز ہر کھلاڑی کو ہوتی ہیں، لیکن اگر یہ واقعی سنجیدہ ہیں تو سب سمجھتے ہیں، مگر معاہدوں کی پاسداری ضروری ہے۔’
ٹیم کا جذبہ اور دیگر کھلاڑیوں کی قربانیاں
سنگاکارا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کچھ کھلاڑی جیسے ایڈم ملنے، شمرون ہیٹمائر اور دیگر ٹیم کے ساتھ موجود رہے، سخت محنت کی اور پانی پلانے سے لے کر پریکٹس تک، ہر کام میں ٹیم کا ساتھ دیا۔ ‘یہ کھلاڑی یہاں آئے، انہوں نے سخت محنت کی اور ٹیم کو سپورٹ کیا۔ یہ انفرادی کھلاڑی پر منحصر ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتا ہے، لیکن آئی پی ایل کا نظام اسی وقت کامیاب ہو سکتا ہے جب معاہدوں کی پاسداری ہو۔’
نتیجہ
سم کران کا معاملہ یقیناً کرکٹ کے حلقوں میں بحث کا باعث بنے گا۔ جہاں ایک طرف کھلاڑیوں کی صحت سب سے اہم ہے، وہیں دوسری طرف فرنچائزز کی سرمایہ کاری اور منصوبہ بندی کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ سنگاکارا کے الفاظ اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پروفیشنل کرکٹ میں ذمہ داری اور شفافیت کا ہونا کتنا ضروری ہے۔ آنے والے وقتوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا بی سی سی آئی اپنی ان پالیسیوں کو مزید سخت کرتا ہے یا کھلاڑیوں کے لیے کوئی درمیانی راستہ نکالتا ہے۔