Kumar Sangakkara accuses Sam Curran and ECB of betraying Rajasthan Royals in cru – آئی پی ایل 2026: کمار سنگاکارا کا سیم کرن اور ای سی بی پر سنگین الزام
آئی پی ایل 2026 میں سیم کرن کا تنازعہ: سنگاکارا کی سخت تنقید
آئی پی ایل 2026 کے دوران راجستھان رائلز (RR) کے کیمپ میں اس وقت مایوسی کی لہر دوڑ گئی جب ٹیم کے اہم آل راؤنڈر سیم کرن انجری کے بہانے ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئے۔ تاہم، بعد میں سامنے آنے والی رپورٹس نے صورتحال کو ایک نیا موڑ دے دیا، جس پر راجستھان رائلز کے ہیڈ کوچ اور کرکٹ کے ڈائریکٹر کمار سنگاکارا نے کھل کر اپنی ناراضی کا اظہار کیا ہے۔
سیم کرن کی واپسی اور سنگاکارا کا ردعمل
سیم کرن، جنہیں پچھلے سال ایک بڑے ٹریڈ ڈیل کے تحت راجستھان رائلز کا حصہ بنایا گیا تھا، ٹورنامنٹ کے آغاز سے قبل ہی گرون انجری (groin injury) کا شکار ہو کر باہر ہو گئے تھے۔ ان کی جگہ سری لنکن کھلاڑی داسن شناکا کو متبادل کے طور پر ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔ لیکن تنازعہ اس وقت پیدا ہوا جب راجستھان رائلز کی ٹیم آئی پی ایل کے پلے آف میں مصروف تھی، جبکہ سیم کرن انگلینڈ میں اپنی کاؤنٹی ٹیم سرے (Surrey) کی جانب سے ٹی 20 بلاسٹ میں کھیلتے ہوئے دیکھے گئے۔
کمار سنگاکارا نے اس صورتحال پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ‘ہمیں بتایا گیا تھا کہ سیم کرن انجری کے باعث سیزن سے باہر ہو چکے ہیں، لیکن میں نے انہیں سرے کے لیے میچز کھیلتے ہوئے دیکھا ہے، جو کہ انتہائی مایوس کن ہے۔ ہم چاہتے تھے کہ وہ ہماری ٹیم کے ساتھ ہوتے، لیکن ہمیں ان کی جگہ متبادل کھلاڑی لینا پڑا۔’
بی سی سی آئی کی سخت پالیسی کی ضرورت
سنگاکارا نے اس معاملے پر کھلاڑیوں کی اخلاقی ذمہ داری پر سوال اٹھائے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر کوئی کھلاڑی انجری کا بہانہ بنا کر لیگ چھوڑتا ہے تو بی سی سی آئی کو اس حوالے سے زیادہ سخت اور واضح پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر کھلاڑی کو انجریز کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اگر یہ واقعی سنجیدہ ہو تو سمجھ میں آتا ہے، لیکن معاہدوں کی پاسداری ہر حال میں ہونی چاہیے۔
سنگاکارا نے اپنی ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں، جیسے ایڈم ملنے، ہیٹمائر، اور نوجوان کھلاڑی کوینا مافاکا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان کھلاڑیوں نے ٹیم کے ساتھ ایمانداری سے کام کیا ہے، پریکٹس کی ہے، اور مشکل حالات میں بھی ٹیم کا ساتھ دیا ہے۔
معاہداتی ذمہ داریاں اور کرکٹ کا مستقبل
آئی پی ایل میں بی سی سی آئی نے حال ہی میں ایک نئی پالیسی متعارف کرائی ہے جس کے مطابق اگر کوئی کھلاڑی بغیر کسی حقیقی انجری کے ٹورنامنٹ سے دستبردار ہوتا ہے، تو اسے دو سال کی پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سنگاکارا نے اس اقدام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی پالیسی سے تمام ٹیموں کو فائدہ پہنچے گا اور کھلاڑی اپنی معاہداتی ذمہ داریوں کو زیادہ سنجیدگی سے لیں گے۔
نتیجہ
راجستھان رائلز کا آئی پی ایل 2026 کا سفر کوالیفائر 2 میں گجرات ٹائٹنز کے ہاتھوں شکست کے ساتھ ختم ہوا۔ اس شکست کے بعد سیم کرن کا واقعہ ٹیم کے لیے ایک تلخ یاد بن گیا ہے۔ کرکٹ کے حلقوں میں اب یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ آیا بین الاقوامی کھلاڑیوں کو لیگز کے ساتھ اس طرح کا رویہ اپنانے کی اجازت ہونی چاہیے یا نہیں۔ سنگاکارا کا موقف واضح ہے: کرکٹ میں دیانت داری اور معاہدوں کا احترام سب سے مقدم ہونا چاہیے۔