Latest Cricket News

Sanjiv Goenka rejected Rishabh Pant’s resignation as LSG captain, but a twist fo

Avatar photo Tanay Bhatt · · 1 min read

لکھنؤ سپر جائنٹس میں کپتانی کا بحران: ایک نیا موڑ

آئی پی ایل 2026 کے سیزن کے اختتام کے ساتھ ہی لکھنؤ سپر جائنٹس (LSG) کیمپ سے ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ ٹیم کے کپتان رشبھ پنت نے فرنچائز کی قیادت سے استعفیٰ دے دیا ہے، کیونکہ ٹیم پوائنٹس ٹیبل پر دسویں نمبر پر رہی۔ تاہم، حالیہ رپورٹس نے اس معاملے کو ایک نیا رخ دے دیا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ فیصلہ اچانک نہیں لیا گیا۔

سنجیو گوئنکا کا کردار اور پس پردہ کہانی

انڈیا ٹوڈے کے نکھل ناز کی رپورٹ کے مطابق، یہ پہلا موقع نہیں تھا جب رشبھ پنت نے کپتانی چھوڑنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ درحقیقت، آئی پی ایل 2026 کے سیزن کے وسط میں ہی پنت نے فرنچائز کے مالک سنجیو گوئنکا سے رابطہ کیا تھا اور اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ اس وقت، Sanjiv Goenka rejected Rishabh Pant‘s resignation as LSG captain, but a twist fo یہ تھا کہ انتظامیہ نے پنت کو جلد بازی میں فیصلہ نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

ذرائع کے مطابق، سنجیو گوئنکا کا ماننا تھا کہ ایک خراب سیزن کسی بھی ٹیم کے ساتھ ہو سکتا ہے، اس لیے پنت کو کپتانی جاری رکھنی چاہیے۔ پنت نے کچھ وقت لیا، لیکن مایوس کن نتائج کے بعد، انہوں نے دوبارہ استعفیٰ دینے کی بات کی۔ ہر بار مالک کی جانب سے انہیں ٹیم کے ساتھ جڑے رہنے کی ترغیب دی جاتی رہی، تاہم آخر کار سیزن کے اختتام پر، پنت نے اپنی ضد پر قائم رہتے ہوئے قیادت چھوڑنے کا حتمی فیصلہ کر لیا، جسے انتظامیہ نے قبول کر لیا۔

کارکردگی کا گراف: توقعات بمقابلہ حقیقت

رشبھ پنت کو 2025 میں 27 کروڑ روپے کی بھاری قیمت پر LSG میں شامل کیا گیا تھا، جو انہیں آئی پی ایل کی تاریخ کا مہنگا ترین کھلاڑی بناتا ہے۔ تاہم، ان کی بیٹنگ اور قیادت دونوں ہی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہیں۔

  • 2025 کا سیزن: 14 میچوں میں 269 رنز، اوسط 24، اسٹرائیک ریٹ 133۔
  • 2026 کا سیزن: 14 میچوں میں 312 رنز، اوسط 28، اسٹرائیک ریٹ 136۔

دو سیزن کے مجموعی اعداد و شمار کو دیکھیں تو پنت نے 28 میچوں میں 581 رنز بنائے، جن کی اوسط صرف 26 رہی۔ دیگر ٹیموں کے کپتانوں کے مقابلے میں، یہ اعداد و شمار کافی مایوس کن رہے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ ٹیم کے پلے آف میں نہ پہنچنے کے بعد پنت پر شدید تنقید کی گئی۔

مسلسل تیسرا سیزن بغیر پلے آف کے

لکھنؤ سپر جائنٹس کے لیے یہ سیزن کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھا۔ 2022 میں اپنے قیام کے بعد سے پہلے دو سیزن میں پلے آف تک رسائی حاصل کرنے والی یہ ٹیم اب مسلسل تیسرے سال ناکامی سے دوچار ہے۔ 2026 کے سیزن میں ٹیم نے ابتدا اچھی کی تھی، ابتدائی تین میں سے دو میچ جیتے، لیکن پھر مسلسل 6 میچ ہار کر وہ پلے آف کی دوڑ سے تقریباً باہر ہو گئی۔

نتیجہ اور مستقبل کے امکانات

اگرچہ جسٹن لینگر اور نکولس پورن جیسے اہم افراد کو فی الحال برقرار رکھا گیا ہے، لیکن رشبھ پنت کا استعفیٰ فرنچائز کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ ٹیم انتظامیہ اب ایک ایسے لیڈر کی تلاش میں ہے جو نہ صرف بیٹنگ میں مستحکم ہو بلکہ ٹیم کو درپیش حالیہ بحران سے بھی باہر نکال سکے۔

یہ پورا واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ آئی پی ایل جیسے ہائی پروفائل ٹورنامنٹ میں دباؤ کس قدر ہوتا ہے، اور جب مہنگے ترین کھلاڑی توقعات پر پورا نہ اتریں تو اس کا اثر پورے سیٹ اپ پر پڑتا ہے۔ اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ لکھنؤ سپر جائنٹس اگلے سیزن کے لیے کیا حکمت عملی اپناتے ہیں۔