News

ارشدیپ سنگھ کی خراب فارم: امباتی رائیڈو اور مارک باؤچر کا تجزیہ

Avatar photo Tanay Bhatt · · 1 min read

آئی پی ایل 2026: ارشدیپ سنگھ کی مشکلات اور ماہرین کی رائے

انڈین پریمیئر لیگ (IPL) 2026 کا سیزن پنجاب کنگز (PBKS) کے بائیں ہاتھ کے تیز گیند باز ارشدیپ سنگھ کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں رہا۔ ارشدیپ، جو کچھ عرصہ قبل تک ہندوستان کے دوسرے اہم ترین فاسٹ باؤلر سمجھے جاتے تھے، اس سیزن میں اپنی بہترین فارم سے کوسوں دور دکھائی دیے۔ نہ صرف ٹیم کی شکستوں کے دوران بلکہ فتح کے لمحات میں بھی ان کی کارکردگی غیر متاثر کن رہی ہے۔

امباتی رائیڈو کا تنقیدی جائزہ

سابق ہندوستانی بلے باز امباتی رائیڈو نے ارشدیپ کی باؤلنگ پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رائیڈو کا ماننا ہے کہ ارشدیپ کی بنیادی پریشانی ان کی ‘لینتھ’ کا غلط انتخاب ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ارشدیپ کو شارٹ پچ گیندیں کرنے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ وہ ان کے پاس اتنی رفتار نہیں ہے کہ وہ بلے بازوں کو پریشان کر سکیں۔

  • مکمل لینتھ پر توجہ: رائیڈو کے مطابق ارشدیپ کو نئے گیند کے ساتھ بھی فل لینتھ گیندیں کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ شارٹ گیندیں اکثر رنز کے بہاؤ کو روکنے میں ناکام رہتی ہیں۔
  • یارکرز کی اہمیت: ڈیتھ اوورز میں ارشدیپ کو اپنی بنیادی طاقت یعنی یارکرز پر زیادہ انحصار کرنا چاہیے، بجائے اس کے کہ وہ شارٹ گیندوں پر تجربات کریں۔

رائیڈو نے مزید کہا کہ ارشدیپ کے پاس اب وہ ‘پاور’ یا ‘جوس’ نظر نہیں آتا جو چند ماہ قبل ٹی 20 ورلڈ کپ کے دوران ان کی باؤلنگ کا خاصہ تھا۔ ان کے مطابق، جسمانی تھکاوٹ یا فارم کی کمی کے باعث انہیں اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔

مارک باؤچر: تھکاوٹ ایک فطری عنصر

دوسری جانب، پنجاب کنگز کے کیمپ سے مارک باؤچر نے ارشدیپ کے حق میں بات کی ہے۔ باؤچر کا ماننا ہے کہ اس تمام تر مایوس کن کارکردگی کے پیچھے محض تھکاوٹ کارفرما ہے۔ باؤچر نے کہا: ‘میں نہیں سمجھتا کہ یہ ان کی صلاحیتوں کا مسئلہ ہے۔ ٹی 20 ورلڈ کپ کے بعد مسلسل کرکٹ کھیلنے کے باعث کھلاڑیوں پر تھکاوٹ کا اثر ہونا فطری ہے۔’

باؤچر نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ارشدیپ ایک ایسے کھلاڑی ہیں جنہیں ٹیم میں ہر حال میں کھلانا پڑتا ہے کیونکہ ان کے پاس متبادل آپشنز کی کمی ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ ارشدیپ کو اپنی سکلز پر مزید بھروسہ کرنا ہوگا اور نئے گیند کے ساتھ دونوں طرف گیند کو موڑنے کی حد سے زیادہ کوشش کرنے سے گریز کرنا ہوگا۔

اعداد و شمار کی زبان

ارشدیپ سنگھ کی اس سیزن کی کارکردگی کا موازنہ اگر ٹی 20 ورلڈ کپ سے کیا جائے تو واضح فرق نظر آتا ہے۔

  • ٹی 20 ورلڈ کپ: 8 میچوں میں 9 وکٹیں، 8.46 کی اکانومی ریٹ۔
  • آئی پی ایل 2026: 14 میچوں میں 14 وکٹیں، 10.20 کی اکانومی ریٹ۔

یہ اعداد و شمار اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ارشدیپ اس سیزن میں رنز روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ وہ اس سیزن میں 500 سے زائد رنز دینے والے صرف دو گیند بازوں میں سے ایک ہیں۔

مستقبل کا لائحہ عمل

اگرچہ ارشدیپ کی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ وہ پنجاب کنگز کے اٹوٹ انگ ہیں۔ ٹیم کے لیے اگلے میچز اہم ہوں گے اور ارشدیپ کے پاس اپنی غلطیوں کو سدھارنے کا ایک آخری موقع ہوگا۔ کیا وہ دوبارہ اپنی پرانی فارم میں واپس آ سکیں گے؟ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا، مگر ایک بات واضح ہے کہ کرکٹ کے اس سخت شیڈول میں کھلاڑیوں کی ذہنی اور جسمانی صحت اب ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

بہرحال، ارشدیپ جیسے باصلاحیت گیند باز کے لیے یہ وقت صبر اور اپنی بنیادی تکنیک پر دوبارہ کام کرنے کا ہے۔ کوچنگ اسٹاف اور خود ارشدیپ کو مل کر ان مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا تاکہ وہ دوبارہ بین الاقوامی سطح پر اپنی ساکھ بحال کر سکیں۔