Cricket News

Virat Kohli’s 1 Billion Move Curbed For All Cricketers By BCCI Anti Corruption – بی سی سی آئی کا آئی پی ایل 2026 میں اسمارٹ گلاسز پر پابندی کا فیصلہ: کیا ویرات کوہلی کی مہم وجہ بنی؟

Avatar photo Nikhil Joshi · · 1 min read

آئی پی ایل 2026 میں ٹیکنالوجی کا نیا چیلنج

انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 کے دوران بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) نے کھیل کی سالمیت کو برقرار رکھنے کے لیے ایک سخت قدم اٹھایا ہے۔ اینٹی کرپشن اینڈ سیکیورٹی یونٹ (اے سی ایس یو) نے تمام کھلاڑیوں اور سپورٹ اسٹاف کو ہدایت کی ہے کہ وہ میچ کے دوران محدود علاقوں (restricted areas) میں داخل ہونے سے قبل اپنے اسمارٹ گلاسز اور دیگر جدید آئی ویئر جمع کروا دیں۔

یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ویرات کوہلی کی جانب سے حال ہی میں اسمارٹ اے آئی گلاسز کی تشہیری مہم نے مقبولیت حاصل کی تھی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ کھیل میں ٹیکنالوجی کا بڑھتا ہوا استعمال بورڈ کے لیے نئی تشویش کا باعث بن رہا ہے۔

ویرات کوہلی کی مہم اور اسمارٹ گلاسز کا تناظر

حال ہی میں اوکلے اور میٹا پلیٹ فارمز نے ویرات کوہلی کے ساتھ مل کر ‘اوکلے میٹا پرفارمنس اے آئی’ گلاسز متعارف کرائے تھے۔ اس مہم کو بے پناہ پذیرائی ملی، جس میں کوہلی کی ٹریننگ، میچ کی تیاری اور پردے کے پیچھے کے لمحات کو دکھایا گیا تھا۔ اس پروموشنل ویڈیو کو ایک ارب سے زائد مرتبہ دیکھا گیا اور 5.3 ملین سے زائد لائکس ملے۔ آئی پی ایل 2026 کی پریکٹس کے دوران بھی ویرات کوہلی کو باقاعدگی سے یہ گلاسز پہنے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ تاہم، اس مقبولیت کے باوجود، بی سی سی آئی اب اپنی پالیسیوں کو مزید سخت کر رہا ہے۔

بی سی سی آئی نے اسمارٹ گلاسز پر پابندی کیوں لگائی؟

کرک بز کی ایک رپورٹ کے مطابق، اے سی ایس یو نے آئی پی ایل ٹیموں کو خبردار کیا ہے کہ کمیونیکیشن اور ریکارڈنگ کی صلاحیت رکھنے والے اسمارٹ گلاسز، دھوپ کے چشمے اور گوگلز میچ کے دنوں میں مخصوص علاقوں میں لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔

اے سی ایس یو نے بورڈ کو آگاہ کیا ہے کہ کئی کمپنیاں کھلاڑیوں کو ایسے جدید چشمے فراہم کر رہی ہیں جو لائیو اسٹریمنگ، ٹیکسٹ میسجنگ اور وائی فائی یا موبائل ڈیٹا کے ذریعے آڈیو/ویڈیو کال کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ یہ آلات کھیل کی شفافیت اور سیکیورٹی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔ اسی لیے بی سی سی آئی نے انہیں ‘آڈیو/ویڈیو ریکارڈنگ ڈیوائسز’ اور ‘کمیونیکیشن ڈیوائسز’ کے زمرے میں ڈال دیا ہے۔

آئی پی ایل 2026 میں سیکیورٹی کے سخت اصول

نئے رہنما خطوط کے تحت، کھلاڑیوں اور اسٹاف کو اپنے موبائل فون، اسمارٹ واچز اور اسمارٹ گلاسز سیکیورٹی لائزن آفیسر کے پاس جمع کروانے ہوں گے۔ اس پابندی کی بنیادی وجہ آئی پی ایل کے دوران پیش آنے والے کچھ حالیہ واقعات ہیں، جیسے کہ راجستھان رائلز کے ٹیم مینیجر رومی بھنڈر پر ڈگ آؤٹ میں موبائل فون استعمال کرنے پر 1 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔

بی سی سی آئی کا یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی کرکٹ لیگ میں کھیل کی سالمیت اور شفافیت کو ہر چیز پر مقدم رکھا جا رہا ہے۔ بورڈ نے واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی قسم کی خفیہ مواصلاتی تکنیک کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور پروٹوکول کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس پیشرفت نے کرکٹ میں ٹیکنالوجی کے استعمال اور کھلاڑیوں کی پرائیویسی اور سیکیورٹی کے درمیان ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

آئی پی ایل جیسے تجارتی اعتبار سے اہم ٹورنامنٹ میں، جہاں ہر لمحہ نگرانی میں ہوتا ہے، وہاں بی سی سی آئی کا یہ سخت رویہ غیر متوقع نہیں ہے، لیکن یہ کھلاڑیوں کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے ایک نیا سبق ضرور ہے۔