Cricket News

BCCI Shakes Setup, Does This For The 1st Time In History: خواتین کرکٹ میں تاریخی تبدیلی

Avatar photo Deepak Menon · · 1 min read

بھارتی کرکٹ بورڈ کا ایک اور بڑا اور تاریخی فیصلہ

بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ (BCCI) نے ملک میں خواتین کرکٹ کے ڈھانچے کو مزید مستحکم اور پیشہ ورانہ بنانے کے لیے ایک بہت بڑا اور انقلابی قدم اٹھایا ہے۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران، بی سی سی آئی نے خواتین کرکٹرز کو مردوں کے مساوی میچ فیس دینے، ویمنز پریمیئر لیگ (WPL) کا کامیاب آغاز کرنے اور کھلاڑیوں کے لیے عالمی معیار کی سہولیات فراہم کر کے خواتین کی کرکٹ کا منظرنامہ بالکل تبدیل کر دیا ہے۔ اب، جب کہ 2026 کا آئی سی سی ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ قریب آ رہا ہے، بورڈ کی تمام تر توجہ ایک بار پھر خواتین کرکٹ پر مرکوز ہو گئی ہے۔ اس سلسلے میں ایک ایسا غیر معمولی فیصلہ کیا گیا ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

سینٹر آف ایکسی لینس (COE) میں پہلی بار خواتین کوچز کا تقرر

ٹائمز آف انڈیا کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق، بی سی سی آئی نے بنگلورو میں واقع اپنے سینٹر آف ایکسی لینس (COE) میں تین ماہر خواتین کوچز کا تقرر کیا ہے۔ یہ ملکی کرکٹ کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ اس ترقیاتی مرکز میں خصوصی طور پر خواتین کوچز کو متعین کیا گیا ہے۔ یہ تاریخی قدم ظاہر کرتا ہے کہ BCCI Shakes Setup, Does This For The 1st Time In History تاکہ کھلاڑیوں کو بہترین اور سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے۔

یہ ماہر کوچز جونیئر اور سینئر دونوں سطحوں پر ابھرتی ہوئی کھلاڑیوں کے ساتھ کام کریں گی اور سابق بھارتی اسٹار بلے باز وی وی ایس لکشمن (VVS Laxman) کے ساتھ قریبی تال میل رکھیں گی، جو اس وقت سینٹر آف ایکسی لینس میں کرکٹ آپریشنز کے سربراہ ہیں۔

مقرر کردہ ماہر خواتین کوچز کا پروفائل

بی سی سی آئی کی جانب سے جن تین سابق بھارتی خواتین کرکٹرز کو یہ اہم ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں، ان کا تعارف اور کرکٹ ریکارڈ درج ذیل ہے:

1. نوشین القدیر (بولنگ کوچ)

سابق بھارتی اسپنر نوشین القدیر کو بولنگ کوچ کے طور بر نامزد کیا گیا ہے۔ ان کا بین الاقوامی کیریئر انتہائی شاندار رہا ہے۔ انہوں نے بھارت کے لیے 78 ون ڈے انٹرنیشنل (ODI) میچ کھیلے ہیں اور 3.57 کے شاندار اکانومی ریٹ کے ساتھ 100 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ اس کے علاوہ، انہوں نے 5 ٹیسٹ میچوں میں بھی بھارت کی نمائندگی کی ہے، جہاں انہوں نے 1.80 کے شاندار اکانومی ریٹ کے ساتھ 14 وکٹیں اپنے نام کیں۔ ان کا یہ وسیع تجربہ نوجوان اسپنرز اور فاسٹ باؤلرز کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

2. وی آر ونیتا (فیلڈنگ کوچ)

سابق بھارتی کرکٹر وی آر ونیتا کو فیلڈنگ کوچ مقرر کیا گیا ہے۔ بھارت کی جانب سے ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں ملک کی نمائندگی کرنے کے بعد، انہوں نے کوچنگ اور ٹیلنٹ اسکاؤٹنگ کی دنیا میں قدم رکھا۔ وہ ویمنز پریمیئر لیگ (WPL) میں رائل چیلنجرز بنگلور (RCB) کی ٹیم کا بھی حصہ رہ چکی ہیں اور اب وہ قومی سطح پر کھلاڑیوں کی فیلڈنگ کی مہارت کو بہتر بنانے کے لیے اپنی خدمات پیش کریں گی۔

3. سُنیترا پرانجبے (بیٹنگ کوچ)

سابق آل راؤنڈر سُنیترا پرانجبے کو بیٹنگ کوچ کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ انہوں نے 2002 سے 2007 کے درمیان ٹیسٹ اور ون ڈے فارمیٹس میں بھارت کی نمائندگی کی۔ انہوں نے اپنے کیریئر میں 28 ون ڈے میچ کھیلے، جس میں انہوں نے 322 رنز بنانے کے ساتھ ساتھ 11 وکٹیں بھی حاصل کیں۔ بیٹنگ اور باؤلنگ دونوں شعبوں میں ان کا یہ تجربہ نوجوان بلے بازوں کو دباؤ کے حالات میں کھیلنے اور تکنیک کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کرے گا۔

آئی سی سی ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 اور بھارتی ٹیم کا چیلنج

خواتین کی کرکٹ میں اس بڑے ڈھانچہ جاتی تبدیلی کا مقصد مستقبل کے بڑے ٹورنامنٹس کے لیے ٹیم کو تیار کرنا ہے، جن میں سب سے اہم آئی سی سی ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 ہے۔ یہ باوقار ٹورنامنٹ اگلے سال 12 جون سے 5 جولائی تک انگلینڈ اور ویلز میں کھیلا جائے گا۔

بھارتی ٹیم اس ٹورنامنٹ میں اپنی مہم کا آغاز روایتی حریف پاکستان کے خلاف 14 جون کو ایجبسٹن کے تاریخی میدان پر کرے گی۔ ٹورنامنٹ کے لیے بھارتی اسکواڈ کا اعلان پہلے ہی کیا جا چکا ہے، جس کی قیادت مایہ ناز کھلاڑی ہرمن پریت کور کریں گی جبکہ اسمرتی مَندھانا نائب کپتان کی حیثیت سے ان کے ساتھ ہوں گی۔ حال ہی میں کپتان ہرمن پریت کور کو ان کی شاندار خدمات پر پدما شری اعزاز سے بھی نوازا گیا ہے، جس سے ٹیم کا حوصلہ مزید بلند ہوا ہے۔

بھارتی ٹیم کو گروپ اے میں رکھا گیا ہے، جہاں اس کا مقابلہ دنیا کی مضبوط ترین ٹیموں سے ہوگا:

  • آسٹریلیا
  • جنوبی افریقہ
  • پاکستان
  • بنگلہ دیش
  • نیدرلینڈز

ہندوستانی خواتین کرکٹ کی ترقی کا نیا دور

گزشتہ چند سالوں میں، بھارت میں خواتین کی کرکٹ نے ایک ناقابل یقین حد تک ترقی کی ہے۔ ماضی میں خواتین کرکٹرز کو محدود مواقع، کم معاوضے اور عوامی توجہ کی کمی کا سامنا رہتا تھا۔ تاہم، عالمی ٹورنامنٹس میں بھارتی ٹیم کی مسلسل شاندار کارکردگی اور خاص طور پر 2025 میں پہلی بار ورلڈ کپ جیتنے کی تاریخی کامیابی نے حالات کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔

ویمنز پریمیئر لیگ (WPL) کے انعقاد نے نوجوان لڑکیوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کے لیے ایک بہترین اور عالمی معیار کا پلیٹ فارم مہیا کیا ہے۔ بی سی سی آئی کا یہ تازہ ترین فیصلہ کہ وہ سینٹر آف ایکسی لینس میں ماہر خواتین کوچز کا تقرر کرے، اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اب خواتین کرکٹ کو وہ سنجیدگی اور احترام دیا جا رہا ہے جس کی وہ اصل حقدار ہیں۔ اس انقلابی فیصلے سے نہ صرف موجودہ کھلاڑیوں کو فائدہ پہنچے گا بلکہ مستقبل میں کرکٹ کو بطور کیریئر اپنانے والی لڑکیوں کے لیے بھی نئی راہیں کھلیں گی۔