Pakistan’s famous cheerleader ‘Chacha Cricket’ to retire this year – پاکستان کرکٹ کے معروف چاچا کرکٹ کا ریٹائرمنٹ کا اعلان
کرکٹ کی دنیا کا ایک عہد تمام ہوا
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سب سے معروف اور مقبول ترین چیئرلیڈر عبدالجلیل، جنہیں دنیا بھر میں ‘چاچا کرکٹ’ کے نام سے جانا جاتا ہے، اب کرکٹ کے میدانوں سے رخصت ہونے کے لیے تیار ہیں۔ لاہور میں آسٹریلیا کے خلاف ہونے والا تیسرا اور آخری ون ڈے انٹرنیشنل ان کا پاکستان میں آخری میچ ہوگا۔
ایک طویل اور یادگار سفر کا اختتام
عبدالجلیل کا کرکٹ سے تعلق دہائیوں پر محیط ہے۔ انہوں نے 1968-69 میں انگلینڈ کے دورہ پاکستان کے دوران لاہور میں پہلا میچ دیکھا تھا، تب سے لے کر اب تک وہ ٹیم کے سب سے بڑے مداح رہے۔ 1980 اور 90 کی دہائی میں شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم میں ان کی موجودگی اور مخصوص سبز لباس نے انہیں بین الاقوامی سطح پر ایک پہچان دی۔
500 میچز کا سنگ میل
چاچا کرکٹ نے بتایا کہ ان کا ہدف پاکستان کے لیے 500 میچوں میں چیئرلیڈنگ کرنا تھا، جو وہ حاصل کر چکے ہیں۔ اب وہ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد سیالکوٹ کے نواح میں ایک ریستوران اور ایک میوزیم کھولنا چاہتے ہیں جہاں وہ کرکٹ کی یادگار اشیاء نمائش کے لیے رکھیں گے۔
یادگار لمحات اور کرکٹ کا بدلتا منظرنامہ
چاچا کرکٹ کو 1986 میں جاوید میانداد کا وہ تاریخی چھکا آج بھی یاد ہے جب انہوں نے شارجہ میں چیتن شرما کی گیند پر میچ جیتا تھا۔ اس کے علاوہ 2017 کی چیمپئنز ٹرافی میں بھارت کے خلاف فتح بھی ان کے لیے ایک ناقابل فراموش لمحہ ہے۔ تاہم، 2011 کے ورلڈ کپ سیمی فائنل میں بھارت سے شکست اور حال ہی میں نیویارک میں ہونے والی شکست انہیں آج بھی غمگین کر دیتی ہے۔
مشکلات کے باوجود پرامید
پاکستان کرکٹ کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے چاچا کرکٹ نے مایوسی کا اظہار ضرور کیا، کیونکہ ٹیم گزشتہ کئی برسوں سے کارکردگی کے بحران سے گزر رہی ہے۔ تاہم، وہ اب بھی پرامید ہیں۔ ان کا مشہور نعرہ ہے: ‘ہوتا ہے بھائی ہوتا ہے، کھیل میں ایسا ہوتا ہے، کبھی آگے کبھی پیچھے، کبھی خوشی کبھی غم، کبھی تم، کبھی ہم۔’
فلاحی کاموں کا ارادہ
اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد، عبدالجلیل اب اپنی مقبولیت کو فلاحی کاموں میں صرف کرنا چاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ملک اور کھیل کی محبت میں سب کچھ کیا، اور اب وقت آ گیا ہے کہ وہ سماجی بہبود کے کاموں پر توجہ دیں۔ چاچا کرکٹ کا سفر صرف چیئرلیڈنگ تک محدود نہیں تھا، بلکہ وہ پاکستان کے لیے ایک سفیر کی حیثیت رکھتے تھے جس نے کرکٹ کے شائقین کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیریں۔
اگرچہ وہ میدانوں سے تو رخصت ہو رہے ہیں، لیکن ان کی یادیں اور پاکستان کرکٹ کے لیے ان کی خدمات ہمیشہ تاریخ کے صفحات میں زندہ رہیں گی۔ ہم ان کے مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں۔