Cricket News

Chennai Super Kings Release A Massive Notice On Entering WPL With A New Team – چنئی سپر کنگز کی ویمنز پریمیئر لیگ (WPL) میں شمولیت کی خواہش

Avatar photo Deepak Menon · · 1 min read

چنئی سپر کنگز کا ویمنز پریمیئر لیگ میں دلچسپی کا اظہار

چنئی سپر کنگز (CSK) اگرچہ آئی پی ایل 2026 کے سیزن کے تناظر میں خبروں کا مرکز بنی ہوئی ہے، لیکن فرنچائز کی نظریں مستقبل کے بڑے منصوبوں پر جمی ہیں۔ حالیہ عرصے میں، فرنچائز کے سی ای او کی جانب سے ویمنز پریمیئر لیگ (WPL) میں ٹیم شامل کرنے کے حوالے سے ایک اہم اشارہ دیا گیا ہے، جس نے کرکٹ کے حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

ویمنز پریمیئر لیگ: ایک ابھرتا ہوا پلیٹ فارم

ویمنز پریمیئر لیگ کا آغاز 2023 میں ہوا تھا اور یہ دیکھتے ہی دیکھتے ایک عظیم الشان ٹورنامنٹ بن گیا۔ گزشتہ چار سیزن کے دوران، اس لیگ نے خواتین کی کرکٹ کی حرکیات کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ فی الحال، WPL میں پانچ ٹیمیں شامل ہیں جن میں ممبئی انڈینز، رائل چیلنجرز بنگلور، دہلی کیپٹلز، یوپی واریئرز اور گجرات جائنٹس شامل ہیں۔ لیگ کی مقبولیت میں مسلسل اضافے کے پیش نظر، یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ مستقبل میں اس کی توسیع کی جائے گی۔

سی ای او کاسی وشواناتھن کا موقف

چنئی سپر کنگز کے سی ای او کاسی وشواناتھن نے حال ہی میں ‘RevSportz’ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فرنچائز کی مالکن روپا گروناتھ کرکٹ کی بہت بڑی پرستار ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب بھی کوئی مناسب موقع ملے گا، فرنچائز ویمنز پریمیئر لیگ میں اپنی ٹیم شامل کرنے پر ضرور غور کرے گی۔

تاہم، انہوں نے اس بات کی وضاحت بھی کی کہ فی الحال کوئی فوری فیصلہ یا نیا اپ ڈیٹ نہیں ہے۔ ان کے مطابق، حتمی فیصلہ مستقبل کے مواقع اور فرنچائز کے اندرونی تبادلہ خیال پر منحصر ہوگا۔ وشواناتھن نے کہا، ‘ہماری مالکن چاہتی ہیں کہ ہم اس لیگ کا حصہ بنیں، لیکن یہ کب ہوگا اس کا حتمی وقت ابھی طے نہیں ہے۔’

پنجاب کنگز بھی میدان میں

دلچسپ بات یہ ہے کہ چنئی سپر کنگز اکیلی ٹیم نہیں ہے جو WPL میں دلچسپی رکھتی ہے۔ پنجاب کنگز کے شریک مالک موہت برمن نے بھی کہا ہے کہ ان کی فرنچائز مستقبل میں ویمنز آئی پی ایل ٹیم کی مالک بننا پسند کرے گی۔ موہت برمن کے مطابق، ویمنز کرکٹ کا مستقبل انتہائی روشن ہے اور وہ اس ترقی کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔

برمن نے اس بات کو مسترد کیا کہ ابتدائی مرحلے میں سرمایہ کاری نہ کرنے کا مطلب خواتین کی کرکٹ پر عدم اعتماد ہے۔ انہوں نے اسے محض وقت کے تعین اور کاروباری ترجیحات کا معاملہ قرار دیا۔

بی سی سی آئی کی محتاط حکمت عملی

اگرچہ آئی پی ایل کی بڑی فرنچائزز اس لیگ میں دلچسپی لے رہی ہیں، لیکن بی سی سی آئی کے حکام نے توسیع کے حوالے سے محتاط رویہ اپنا رکھا ہے۔ بورڈ کا ماننا ہے کہ ٹیموں کی تعداد بڑھانے سے پہلے موجودہ ڈھانچے کو مزید مستحکم کرنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ، بین الاقوامی کرکٹ کے مصروف کیلنڈر کی وجہ سے WPL کے لیے ایک مناسب ونڈو تلاش کرنا بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

خلاصہ یہ کہ اگرچہ چنئی سپر کنگز اور پنجاب کنگز جیسی ٹیمیں ویمنز پریمیئر لیگ میں داخلے کے لیے پرجوش ہیں، لیکن حتمی فیصلہ بی سی سی آئی کی جانب سے لیگ کے مستقبل کے روڈ میپ اور توسیعی پالیسی پر منحصر ہوگا۔ کرکٹ کے شائقین کے لیے یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا آنے والے برسوں میں خواتین کی اس لیگ کا دائرہ کار مزید وسیع ہوتا ہے یا نہیں۔