Devon Conway flies home between Tests for birth of child – نیوزی لینڈ بیٹر دوسرے ٹیسٹ سے قبل وطن روانہ
نیوزی لینڈ کے مایہ ناز بلے باز ڈیون کونوے کے حوالے سے ایک بڑی اور اہم خبر سامنے آئی ہے۔ Devon Conway flies home between Tests for birth of child کے تحت انہوں نے دوسرے ٹیسٹ میچ سے قبل اپنے گھر کا رخ کیا ہے تاکہ وہ اپنے دوسرے بچے کی پیدائش کے موقع پر اپنی اہلیہ کم (Kim) کے ساتھ موجود رہ سکیں۔ بلیک کیپس کے اس مایہ ناز کھلاڑی کو انگلینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ سے قبل ایک طویل اور تھکا دینے والا سفر کرنا پڑا ہے، لیکن ٹیم انتظامیہ کو قوی امید ہے کہ وہ وقت پر واپس پہنچ کر دوسرے ٹیسٹ میچ کا حصہ بنیں گے۔
ڈیون کونوے کا 23 ہزار میل کا طویل سفر اور خاندانی مصروفیات
نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے اوپننگ بیٹر ڈیون کونوے نے انگلینڈ کے خلاف پہلے اور دوسرے ٹیسٹ میچ کے درمیان ملنے والے مختصر وقت کا بہترین استعمال کرتے ہوئے ویلنگٹن، نیوزی لینڈ جانے کا فیصلہ کیا۔ یہ سفر کوئی عام سفر نہیں ہے بلکہ یہ تقریباً 23,000 میل کا ایک طویل دورہ ہے جو انہوں نے اپنے دوسرے بچے کی پیدائش کے یادگار لمحے میں شریک ہونے کے لیے کیا ہے۔ لارڈز میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں نیوزی لینڈ کو 115 رنز کی بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، جہاں کونوے نے پہلی اننگز میں صرف 1 رن اور دوسری اننگز میں 41 رنز بنائے تھے۔ اس کم اسکورنگ میچ کے فوراً بعد انہوں نے اپنے گھر کی راہ لی تاکہ وہ اپنی اہلیہ کم کے ساتھ خوشی کے اس موقع پر شریک ہو سکیں گے۔
نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کا باضابطہ بیان
بدھ کے روز نیوزی لینڈ کرکٹ کی جانب سے ایک باضابطہ بیان جاری کیا گیا جس میں ڈیون کونوے کی رخصت اور ان کی واپسی کے شیڈول کی تصدیق کی گئی ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے: “بلیک کیپس کے بیٹر ڈیون کونوے اپنے دوسرے بچے کی پیدائش کے موقع پر مختصر وقت کے لیے نیوزی لینڈ واپس گئے ہیں۔ کونوے اپنے خاندان کے ساتھ کچھ وقت گزاریں گے اور اس کے بعد وہ لندن کے لیے روانہ ہوں گے تاکہ بدھ 17 جون سے اوول میں انگلینڈ کے خلاف شروع ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میچ کے لیے ٹیم کو جوائن کر سکیں۔” اس بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ٹیم انتظامیہ کھلاڑیوں کی خاندانی اقدار اور ذاتی زندگی کو کتنی اہمیت دیتی ہے اور کونوے کی واپسی کے حوالے سے مکمل طور پر پرامید ہے۔
نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی تیاریاں اور شیڈول
لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد نیوزی لینڈ کے کھلاڑیوں کو برطانیہ میں کچھ وقت آرام کرنے اور خود کو ذہنی طور پر تازہ دم کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔ ٹیم کے شیڈول کے مطابق، کھلاڑیوں کو پہلے ٹیسٹ کے بعد آرام کا وقت ملا، جس کے بعد وہ جمعہ کے روز اوول کے میدان پر اپنی باقاعدہ ٹریننگ کا آغاز کریں گے۔ جمعہ کی ٹریننگ کے بعد ہفتے کے روز کھلاڑیوں کو ایک بار پھر آرام کا موقع دیا جائے گا، جس کے بعد مسلسل تین دن تک سخت ٹریننگ سیشنز کا انعقاد کیا جائے گا۔ یہ تین روزہ ٹریننگ سیشن بدھ سے شروع ہونے والے اہم دوسرے ٹیسٹ میچ کے لیے بلیک کیپس کی تیاریوں کو حتمی شکل دینے میں مددگار ثابت ہوں گے، جہاں ان کا مقصد سیریز میں واپسی کرنا ہے۔
کپتان ٹام لیتھم کا باؤلنگ اٹیک کے حوالے سے بیان
لارڈز ٹیسٹ کے اختتام پر نیوزی لینڈ کے کپتان ٹام لیتھم نے ٹیم کی باؤلنگ لائن اپ کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی۔ لارڈز میں نیوزی لینڈ کو اس وقت بڑا دھچکا لگا تھا جب ان کے اہم باؤلر میٹ ہینری میچ کے پہلے ہی دن کمر کی تکلیف (back spasms) کا شکار ہو گئے تھے، جس کی وجہ سے وہ میچ میں مکمل طور پر حصہ نہیں لے سکے اور ان کی باؤلنگ کی صلاحیتیں محدود ہو کر رہ گئیں۔ ٹام لیتھم نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اوول ٹیسٹ میں انہیں ایک مکمل اور فٹ باؤلنگ اٹیک دستیاب ہوگا۔
کپتان ٹام لیتھم کا کہنا تھا: “میرے خیال میں ہینرز (میٹ ہینری) کا معاملہ روزمرہ کی بنیاد پر دیکھا جا رہا ہے۔ ہم دعاگو ہیں کہ وہ اسی طرح بہتری کی طرف بڑھتے رہیں جیسے وہ پہلے دن سے اب تک (چوتھے دن تک) بڑھے ہیں۔ ہمیں اب کچھ اضافی وقت مل گیا ہے جس میں ہم امید کرتے ہیں کہ وہ مکمل طور پر فٹ ہو جائیں گے، اور پھر ہم دوسرے ٹیسٹ کے لیے ایک مکمل باؤلنگ اٹیک کا انتخاب کر سکیں گے۔” نیوزی لینڈ کے لیے میٹ ہینری کی فٹنس انتہائی اہم ہے کیونکہ انگلش کنڈیشنز میں ان کی سوئنگ اور سیم باؤلنگ حریف ٹیم کے لیے مشکلات کھڑی کر سکتی ہے۔
انگلینڈ کی ٹیم میں ہلچل اور انتظامی بحران
دوسرے ٹیسٹ میچ سے قبل جہاں نیوزی لینڈ کی توجہ اپنے کھلاڑیوں کی فٹنس اور خاندانی مصروفیات پر ہے، وہیں میزبان انگلینڈ کی ٹیم شدید اندرونی تنازعات اور تناؤ کا شکار نظر آتی ہے۔ اس ہفتے انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کے گرد میدان سے باہر کے کئی تنازعات نے جنم لیا ہے جس نے دوسرے ٹیسٹ کی تیاریوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ انگلینڈ کے اہم کھلاڑی بین اسٹوکس اور گس اٹکنسن کو لندن کے ایک نائٹ کلب میں رات گئے پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد اوول ٹیسٹ کے لیے ٹیم سلیکشن کا حصہ نہیں بنایا گیا ہے۔ اس واقعے کے بعد جو روٹ کو قائم مقام کپتان کی ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں جو اس نازک مرحلے پر ٹیم کی قیادت کریں گے۔ انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے اس سخت فیصلے کے بعد میزبان ٹیم پر دباؤ بڑھ گیا ہے، اور نیوزی لینڈ کے پاس سیریز برابر کرنے کا یہ ایک بہترین موقع ثابت ہو سکتا ہے۔
سفر کا جسمانی دباؤ اور ڈیون کونوے کی فارم
کھیل کے میدان میں جہاں جسمانی فٹنس کو اولین ترجیح دی جاتی ہے، وہیں 23 ہزار میل کا طویل سفر کسی بھی کھلاڑی کی کارکردگی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ ڈیون کونوے کا انگلینڈ سے نیوزی لینڈ اور پھر وہاں سے دوبارہ انگلینڈ کا سفر چند ہی دنوں میں مکمل ہونا ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ وقت کے فرق (time zone differences) اور جیٹ لیگ (jet lag) کی وجہ سے کھلاڑیوں کو نیند کی کمی اور تھکن کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم، ڈیون کونوے جیسے پیشہ ور کھلاڑیوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس نوعیت کے چیلنجز سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ ٹیم انتظامیہ بھی ان کی فٹنس اور ذہنی صحت کی نگرانی کرے گی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ بدھ کے روز میدان میں اترنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
ڈیون کونوے کی حالیہ فارم پر نظر ڈالی جائے تو لارڈز ٹیسٹ ان کے لیے کچھ زیادہ سازگار ثابت نہیں ہوا تھا۔ پہلی اننگز میں جلد آؤٹ ہونے کے بعد دوسری اننگز میں انہوں نے کچھ مزاحمت دکھائی اور 41 رنز کی اننگز کھیلی۔ تاہم، ٹیم کو فتح دلانے کے لیے یہ کارکردگی ناکافی ثابت ہوئی۔ نیوزی لینڈ کی بیٹنگ لائن اپ کو دوسرے ٹیسٹ میں ایک مضبوط آغاز فراہم کرنے کے لیے کونوے کا کریز پر کھڑا ہونا ناگزیر ہے۔ ان کی عدم موجودگی میں ٹیم کو اوپننگ کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا، لیکن ان کی بروقت واپسی کی خبر نے ٹیم کے کیمپ میں اطمینان کی لہر دوڑا دی ہے۔ بلیک کیپس کے شائقین کو امید ہے کہ اپنے دوسرے بچے کی آمد کی خوشی کونوے کے لیے میدان میں بھی خوش قسمت ثابت ہوگی اور وہ اوول ٹیسٹ میں ایک بڑی اننگز کھیلنے میں کامیاب ہوں گے۔