“Not working”: Former MI head coach urged Rishabh Pant to give up leadership rol
رشبھ پنت اور کپتانی کا بحران: کیا تبدیلی ضروری ہے؟
آئی پی ایل 2026 میں لکھنؤ سپر جائنٹس کی مایوس کن کارکردگی کے بعد، ٹیم کے کپتان رشبھ پنت شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ کپتانی کا بوجھ ان کی بیٹنگ پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔ سابق ممبئی انڈینز کے ہیڈ کوچ اور جنوبی افریقہ کے سابق وکٹ کیپر مارک باؤچر نے کھل کر کہا ہے کہ “Not working”: Former MI head coach urged Rishabh Pant to give up leadership rol تاکہ وہ بطور بلے باز اپنی کھوئی ہوئی فارم واپس پا سکیں۔
مارک باؤچر کا سخت موقف
مارک باؤچر نے حال ہی میں ایک کرکٹ شو کے دوران کہا کہ پنت کی قیادت اور ان کی انفرادی کارکردگی کا توازن بگڑ چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پنت جیسے کھلاڑی کو اپنی بیٹنگ پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے اور اگر کپتانی اس میں رکاوٹ بن رہی ہے، تو اسے فوری طور پر چھوڑ دینا ہی بہتر ہے۔ باؤچر کے مطابق، ہر کھلاڑی کا مزاج مختلف ہوتا ہے اور پنت کو اپنی قدرتی بیٹنگ پر واپس آنے کے لیے ذہنی سکون درکار ہے۔
آئی پی ایل 2026 میں پنت کی کارکردگی
رشبھ پنت کو آئی پی ایل 2025 کے نیلامی میں بھاری معاوضے (27 کروڑ روپے) کے عوض ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔ توقع تھی کہ وہ اپنی جارحانہ بیٹنگ اور قیادت سے ٹیم کو بلندیوں تک لے جائیں گے، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ رواں سیزن میں 14 میچوں میں پنت نے 312 رنز بنائے جس کا اسٹرائیک ریٹ 138 رہا۔ یہ اعداد و شمار ان کے معیار کے مطابق کافی نہیں ہیں۔
امباتی رائیڈو کی رائے
سابق چنئی سپر کنگز کے بیٹر امباتی رائیڈو نے بھی اس بحث میں حصہ لیا ہے۔ رائیڈو کا ماننا ہے کہ پنت ایک فطری کھلاڑی (Instinctive player) ہیں اور ان پر میتھڈیکل کپتانی کا دباؤ ڈالنا ان کی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے۔ رائیڈو نے مشورہ دیا ہے کہ یا تو پنت کو مکمل آزادی دی جائے کہ وہ اپنے انداز میں ٹیم چلائیں، یا پھر انہیں کپتانی کے بوجھ سے آزاد کر کے صرف ایک کھلاڑی کے طور پر کھیلنے دیا جائے۔
لکھنؤ سپر جائنٹس کا مستقبل
لکھنؤ سپر جائنٹس کے لیے گزشتہ دو سیزن بہت مشکل رہے ہیں۔ پنت کی قیادت میں ٹیم نے 28 میچ کھیلے جن میں سے صرف 10 میں کامیابی حاصل ہو سکی۔ 35.71 فیصد کی وننگ پرسنٹیج کے ساتھ، ٹیم پوائنٹس ٹیبل پر سب سے نچلے پائیدان پر رہی۔ یہ ناکامی ٹیم انتظامیہ کے لیے الارمنگ ہے اور اب سوال یہ ہے کہ کیا اگلا سیزن کسی نئے کپتان کے ساتھ شروع ہوگا۔
نتیجہ
کرکٹ ماہرین اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ رشبھ پنت کی بیٹنگ فارم ٹیم کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اگر کپتانی ان کے کیریئر کے لیے بوجھ بن رہی ہے، تو فیصلہ کن قدم اٹھانے کا وقت آ چکا ہے۔ پنت ایک میچ ونر کھلاڑی ہیں اور ان کی واپسی ہندوستانی کرکٹ کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ آیا لکھنؤ سپر جائنٹس کی انتظامیہ اس مشورے پر عمل کرتی ہے یا پنت کو مزید وقت دیا جاتا ہے۔
- رشبھ پنت نے آئی پی ایل 2026 میں 14 میچوں میں 312 رنز بنائے۔
- لکھنؤ سپر جائنٹس پوائنٹس ٹیبل پر آخری نمبر پر رہی۔
- مارک باؤچر کا مشورہ ہے کہ پنت کو اپنی بیٹنگ پر توجہ دینی چاہیے۔
- امباتی رائیڈو کے مطابق کپتانی پنت کے فطری انداز کے خلاف ہے۔
کرکٹ کی دنیا میں کپتانی اور ذاتی کارکردگی کے درمیان توازن ہمیشہ ایک چیلنج رہا ہے۔ رشبھ پنت کے لیے اب یہ فیصلہ ان کے کیریئر کا اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔