Hardik Pandya Lifts The Lid On IND vs AFG Availability – ہاردک پانڈیا نے افغانستان کے خلاف ون ڈے سیریز کے لیے اپنی فٹنس پر خاموشی توڑ دی
ہاردک پانڈیا کی افغانستان کے خلاف سیریز میں دستیابی: فٹنس پر بڑا انکشاف
بھارتی کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز اور تجربہ کار آل راؤنڈر ہاردک پانڈیا کو حال ہی میں افغانستان کے خلاف کھیلی جانے والی تین میچوں کی ہوم ون ڈے سیریز کے لیے اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ تاہم، ان کی اور ان کے ممبئی انڈینز کے ساتھی روہت شرما کی شمولیت کو “فٹنس سے مشروط” قرار دیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا کیونکہ دونوں کھلاڑی حال ہی میں ختم ہونے والی آئی پی ایل 2026 کے دوران فٹنس کے مختلف مسائل کا شکار رہے ہیں اور انہیں چند میچز بھی چھوڑنے پڑے۔
ہندوستانی سلیکٹرز نے جب ٹیم کا اعلان کیا تو انہوں نے واضح کیا کہ ہاردک پانڈیا اور روہت شرما دونوں ہی ٹیم کے اہم مہرے ہیں، لیکن ان کا حتمی انتخاب نیشنل کرکٹ اکیڈمی (NCA) کی جانب سے کلیئرنس ملنے پر ہی منحصر ہوگا۔ حالیہ مہینوں میں دونوں سینئر کھلاڑیوں پر کام کا بوجھ (Workload) کافی زیادہ رہا ہے، خاص طور پر آئی پی ایل کے طویل اور تھکا دینے والے سیزن کے بعد کھلاڑیوں کے زخمی ہونے کے امکانات مزید بڑھ جاتے ہیں۔ ممبئی انڈینز کے مداحوں کے لیے یہ سیزن انتہائی مایوس کن رہا کیونکہ ٹیم نہ صرف پلے آف کی دوڑ سے باہر ہوئی بلکہ کپتانی کے تنازع نے بھی ٹیم کے ماحول کو متاثر کیا۔
ہاردک پانڈیا نے ممبئی انڈینز کے لیے لیگ مرحلے کے 14 میچوں میں سے صرف 10 میچز کھیلے، جس کی وجہ سے سوریاکمار یادو اور جسپریت بمراہ کو عارضی طور پر ٹیم کی قیادت سنبھالنی پڑی۔ ممبئی کے وانکھیڑے اسٹیڈیم میں راجستھان رائلز کے خلاف کھیلے گئے آخری میچ میں 32 سالہ آل راؤنڈر نے بولنگ بھی نہیں کی، جس نے افغانستان کے خلاف سیریز کے لیے ان کی دستیابی پر شکوک و شبہات کے بادل گہرے کر دیے۔ لیکن اب، سیریز شروع ہونے میں دو ہفتے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے، اور ہاردک پانڈیا نے خود ان تمام افواہوں پر سے پردہ اٹھا دیا ہے۔
راجستھان رائلز کے خلاف شکست کے بعد ہاردک پانڈیا کا اہم بیان
24 مئی کو ممبئی میں راجستھان رائلز کے ہاتھوں ممبئی انڈینز کی بڑی شکست کے بعد، کپتان ہاردک پانڈیا سے گراؤنڈ پر ان کی جسمانی لچک اور مسلسل اسٹریچنگ کرنے کے حوالے سے سوال پوچھا گیا۔ اس کے علاوہ، میچ میں بولنگ نہ کرنے کی وجہ سے بھی ان کی فٹنس پر شکوک پیدا ہو رہے تھے کہ آیا وہ آنے والے بین الاقوامی میچوں کے لیے مکمل طور پر فٹ ہیں یا نہیں۔
ہاردک پانڈیا نے ان تمام خدشات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ بالکل ٹھیک ہیں اور صرف ایک میچ بغیر بولنگ کیے گزارنا چاہتے تھے۔ انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا: “سب کچھ بالکل ٹھیک ہے۔ میں بیٹنگ کرتا ہوں، بولنگ کرتا ہوں، فیلڈنگ کرتا ہوں اور کپتانی بھی کرتا ہوں، اس لیے میرے لیے یہ بالکل مناسب ہے کہ میں ایک ایسا میچ کھیلوں جہاں میں نے صرف بیٹنگ کی اور اس کا بھرپور لطف اٹھایا۔”
ان کے اس بیان نے ہندوستانی کرکٹ بورڈ (BCCI) اور کرکٹ کے کروڑوں مداحوں کو بڑی راحت دی ہے، جو ان کی انجری کے حوالے سے سخت فکر مند تھے۔
آئی پی ایل 2026: ہاردک پانڈیا کے لیے ایک مایوس کن اور بھول جانے والا سیزن
آئی پی ایل 2026 کا سیزن ہاردک پانڈیا کے لیے بحیثیت کھلاڑی اور بحیثیت کپتان دونوں لحاظ سے انتہائی مایوس کن رہا۔ پورے ٹورنامنٹ کے دوران وہ نہ صرف اپنی فارم کے لیے جدوجہد کرتے نظر آئے بلکہ فٹنس کے مسائل نے بھی انہیں مسلسل پریشان کیا۔
فٹنس کی کمی کی وجہ سے آل راؤنڈر کو اپنی ٹیم کے لیے کم از کم چار اہم میچز چھوڑنے پڑے۔ ان 10 میچوں میں جو انہوں نے کھیلے، 32 سالہ کھلاڑی نے 10 اننگز میں محض 22.88 کی اوسط سے صرف 206 رنز بنائے۔ گیند کے ساتھ ان کی کارکردگی اور بھی خراب رہی، جہاں انہوں نے نو اننگز میں 64.75 کی انتہائی مہنگی بولنگ اوسط کے ساتھ صرف چار وکٹیں حاصل کیں۔
اگر ہم ہاردک پانڈیا کی انفرادی کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی بہترین فارم سے کوسوں دور تھے۔ بیٹنگ میں ان کا اسٹرائیک ریٹ بھی ماضی کی طرح جارحانہ نہیں رہا اور وہ مڈل آرڈر میں ٹیم کو وہ مضبوطی فراہم نہیں کر سکے جس کی ممبئی انڈینز کو شدید ضرورت تھی۔ بولنگ کے شعبے میں بھی ان کی رفتار اور لائن و لینتھ متاثر نظر آئی، جس کا فائدہ حریف بلے بازوں نے بھرپور طریقے سے اٹھایا۔ ان کے مداحوں اور کرکٹ ماہرین کا ماننا ہے کہ مسلسل انجریز نے ان کے کھیل کی قدرتی جارحیت کو متاثر کیا ہے، تاہم اب ان کے پاس بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کر کے خود کو ثابت کرنے کا ایک بہترین موقع موجود ہے۔ بحیثیت کپتان، پانڈیا ممبئی انڈینز کو کوئی کامیابی دلوانے میں ناکام رہے اور لیگ اسٹیج کے اختتام پر ان کی ٹیم پوائنٹس ٹیبل پر نویں نمبر پر رہی۔
مستقبل کا سفر: افغانستان سیریز اور 2027 ورلڈ کپ کی تیاری
اپنی فٹنس اور خراب فارم کے خدشات کے درمیان، سینئر ہندوستانی آل راؤنڈر افغانستان کے خلاف تین میچوں کی ون ڈے سیریز کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔ یہ سیریز صرف ایک دوطرفہ مقابلہ نہیں ہے، بلکہ یہ 2027 میں ہونے والے آئی سی سی او ڈی آئی کرکٹ ورلڈ کپ کے طویل سفر کے لیے ہندوستانی ٹیم کی پہلی باقاعدہ تیاری (ڈریس ریہرسل) بھی ثابت ہوگی۔
افغانستان کے خلاف یہ تین میچز 14 جون سے 20 جون کے درمیان دھرم شالہ، لکھنؤ اور چنئی کے تاریخی میدانوں پر کھیلے جائیں گے۔ بھارتی ٹیم مینجمنٹ کے لیے یہ سیریز نئے کمبینیشنز کو آزمانے اور ہاردک پانڈیا جیسے اہم ترین آل راؤنڈر کو دوبارہ فارم اور ردھم میں لانے کا ایک بہترین موقع فراہم کرے گی۔
تجزیہ اور ٹیم انڈیا کے لیے ہاردک پانڈیا کی اہمیت
آئی پی ایل 2026 کی مایوس کن مہم اور فٹنس کے اتار چڑھاؤ کے باوجود، ہاردک پانڈیا کا یہ مثبت بیان ٹیم انڈیا کے لیے ایک زبردست ٹانک ثابت ہوگا۔ ہندوستانی کرکٹ ٹیم میں ہاردک پانڈیا کی اہمیت مسلمہ ہے۔ وہ ٹیم کو وہ توازن فراہم کرتے ہیں جو بہت کم آل راؤنڈرز کے بس کی بات ہے۔
اگر وہ آدھے بھی فٹ ہوں یا بولنگ کرنے کی مکمل پوزیشن میں نہ بھی ہوں، تب بھی ان کے پاس وہ تجربہ اور میچ ونر کی صلاحیت موجود ہے جو کسی بھی وقت کھیل کا نقشہ بدل سکتی ہے۔ 2027 کے ورلڈ کپ کے سفر میں ان کا فٹ اور فارم میں ہونا ٹیم انڈیا کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔ اب سب کی نظریں 14 جون کو دھرم شالہ میں ہونے والے پہلے ون ڈے میچ پر لگی ہوئی ہیں جہاں ہاردک پانڈیا ایک بار پھر نیلے رنگ کی جرسی میں ایک نئے عزم کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔