کرکٹ میں بڑی تبدیلی: آئی سی سی کے نئے قوانین اور عثمان طارق کے لیے مشکلات
کرکٹ کی دنیا میں ایک بڑا قدم: آئی سی سی کے سخت قوانین
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کرکٹ کے کھیل کو مزید شفاف بنانے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، جے شاہ کی زیر قیادت کونسل 30 مئی کو احمد آباد میں ایک اہم اجلاس منعقد کرنے جا رہی ہے، جس میں پلیئنگ کنڈیشنز میں بڑی ترامیم اور تبدیلیاں متوقع ہیں۔ ان تبدیلیوں کا بنیادی مقصد کھیل میں بڑھتی ہوئی بے ضابطگیوں، خاص طور پر بولنگ ایکشن کے مسائل پر قابو پانا ہے۔
آن فیلڈ امپائرز کو ملے گا نیا اختیار
ماضی میں ہم نے دیکھا ہے کہ کسی بھی بولر کے مشکوک ایکشن کی جانچ کا عمل انتہائی سست اور پیچیدہ ہوتا تھا۔ آن فیلڈ امپائرز کے پاس فوری کارروائی کا کوئی اختیار نہیں ہوتا تھا، اور یہ فیصلہ آئی سی سی کی کمیٹی سیریز ختم ہونے کے بعد کرتی تھی۔ تاہم، اب آئی سی سی اس عمل کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
خبروں کے مطابق، آئی سی سی آن فیلڈ امپائرز کو ‘ہاک آئی’ (HawkEye) ڈیٹا تک براہِ راست رسائی دینے پر غور کر رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ میچ کے دوران ہی امپائرز کو یہ سہولت ملے کہ وہ کسی بھی بولر کے ایکشن کو فوری طور پر جانچ سکیں اور اگر قانون کی خلاف ورزی ہو تو اسے میچ کے دوران ہی روکا جا سکے۔ یہ قدم بلاشبہ بولرز کے لیے ایک بڑی چیلنج ہو سکتا ہے۔
عثمان طارق: ایک تنازعہ اور نئے قوانین کا اثر
پاکستان کے اسپنر عثمان طارق اس وقت کرکٹ کے حلقوں میں کافی زیر بحث ہیں۔ ان کے منفرد بولنگ ایکشن کو لے کر کئی پروفیشنل کرکٹرز کی جانب سے خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔ ماضی میں آسٹریلیا کے دورہ پاکستان کے دوران کیمرون گرین نے ان کے ایکشن پر ‘چکنگ’ (chucking) کے الزامات لگائے تھے، حالانکہ بعد میں انہوں نے معذرت بھی کر لی تھی۔
مزید برآں، پی ایس ایل 2026 کے دوران ڈیرل مچل نے بھی عثمان طارق کے ایکشن پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دو بار بیٹنگ کرنے سے گریز کیا تھا۔ آئی سی سی کے نئے قوانین کے بعد، اب امپائرز کے پاس یہ طاقت ہوگی کہ وہ عثمان طارق یا کسی بھی دیگر بولر کے ایکشن کا حقیقی وقت میں جائزہ لے سکیں اور مشکوک پائے جانے پر سخت فیصلہ کر سکیں۔
آئی سی سی کا مؤقف اور قوانین
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ عثمان طارق کا ایکشن لاہور میں واقع آئی سی سی کے سینٹر میں ٹیسٹ ہو چکا ہے، جہاں اسے کلین قرار دیا گیا تھا۔ سابق امپائر انیل چوہدری کا اس بارے میں کہنا تھا کہ جب تک کوئی دھوکہ دہی نظر نہ آئے، ایکشن کو نارمل سمجھا جاتا ہے۔
آئی سی سی کے قوانین کے مطابق، اگر بولر کا کہنی کا خم (elbow extension) 15 ڈگری سے تجاوز کر جائے، تو اسے غیر قانونی ایکشن مانا جاتا ہے۔ آئی سی سی کا کہنا ہے کہ: ‘ایک غیر قانونی بولنگ ایکشن وہ ہے جس میں کھلاڑی کی کہنی کا خم 15 ڈگری سے بڑھ جاتا ہے۔’
نتیجہ
آئی سی سی کی یہ نئی حکمت عملی کرکٹ کے معیار اور شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ اگرچہ اس سے عثمان طارق جیسے کھلاڑیوں پر دباؤ بڑھے گا، لیکن یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ ٹیکنالوجی کے اس جدید استعمال سے کھیل میں کس حد تک بہتری آتی ہے۔ کرکٹ کے شائقین کے لیے یہ یقینی طور پر ایک اہم موڑ ہے جو کھیل کے مستقبل کا تعین کرے گا۔