Latest Cricket News

Irfan Pathan disgusted with Ashish Nehra’s tactic against Vaibhav Sooryavanshi – عرفان پٹھان کا ویبھو سوریاونشی کے خلاف گجرات ٹائٹنز کی باڈی لائن حکمت عملی پر شدید احتجاج

Avatar photo Deepak Menon · · 1 min read

نوجوان اسٹار ویبھو سوریاونشی کے خلاف گجرات ٹائٹنز کا جارحانہ منصوبہ

آئی پی ایل 2026 کے سیزن میں جہاں کئی تجربہ کار کھلاڑی اپنی کارکردگی دکھانے کی تگ و دو میں مصروف ہیں، وہیں راجستھان رائلز کے 15 سالہ نوجوان بلے باز ویبھو سوریاونشی نے اپنی جارحانہ بیٹنگ سے سب کو حیران کر رکھا ہے۔ گجرات ٹائٹنز (GT) کی ٹیم اس بات سے بخوبی واقف تھی کہ ویبھو سوریاونشی راجستھان رائلز (RR) کے بیٹنگ یونٹ کا سب سے بڑا اور مضبوط ستون بن کر ابھرے ہیں۔ اسی وجہ سے اننگز کے آغاز سے ہی گجرات ٹائٹنز نے اس نو عمر بلے باز کے خلاف ایک بالکل نئی اور غیر روایتی حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا۔

ویبھو سوریاونشی کو کھل کر رنز بنانے اور اپنے روایتی انداز میں کھیلنے سے روکنے کے لیے، گجرات ٹائٹنز کے تیز گیند بازوں نے ان کے جسم کو نشانہ بناتے ہوئے ‘باڈی لائن’ (Body line) باؤلنگ کا سہارا لیا۔ یہ حکمت عملی ابتدائی طور پر کافی حد تک کامیاب بھی رہی۔ ویبھو سوریاونشی، جن کا آئی پی ایل 2026 کے سیزن میں اوسط اسٹرائیک ریٹ 230 سے بھی زیادہ رہا ہے، کو اس میچ میں اپنی نصف سنچری مکمل کرنے کے لیے 30 سے زائد گیندیں کھیلنا پڑیں، جو کہ ان کے اب تک کے بیٹنگ کیریئر کی سست ترین نصف سنچری ثابت ہوئی۔

ہیلمٹ پر لگنے والی گیند اور میدان میں خوف کا منظر

اس میچ کا سب سے تشویشناک اور خوفناک لمحہ اننگز کے 14ویں اوور میں اس وقت سامنے آیا جب گجرات ٹائٹنز کے تیز گیند باز کاگیسو ربادا کی ایک تیز رفتار باؤنسر سیدھی ویبھو سوریاونشی کے ہیلمٹ پر جا لگی۔ کرکٹ کے میدان پر ہیلمٹ پر گیند لگنا ہمیشہ سے ہی ایک انتہائی خطرناک اور ڈراؤنا منظر ہوتا ہے، اور جب بلے باز محض 15 سال کا بچہ ہو تو یہ منظر مزید تکلیف دہ ہو جاتا ہے۔ اس واقعے نے اسٹیڈیم میں موجود شائقین کے ساتھ ساتھ ٹی وی پر میچ دیکھنے والے لاکھوں ناظرین کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا۔

عرفان پٹھان کا شدید ردعمل اور باپ کے جذبات

سابق بھارتی کرکٹر اور نامور آل راؤنڈر عرفان پٹھان نے اس باڈی لائن حکمت عملی کو سخت ناپسند کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘X’ پر اس معاملے پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ عرفان پٹھان نے لکھا:

“15 سالہ ویبھو سوریاونشی کو روکنے کے لیے باڈی لائن باؤلنگ کی حکمت عملی مجھے بالکل پسند نہیں آئی۔ میں جانتا ہوں کہ وہ بڑے کھلاڑیوں کے خلاف کھیل رہا ہے، لیکن میرے اندر کا باپ اس بات سے بالکل اتفاق نہیں کرتا۔”

عرفان پٹھان کا یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کھیل کی مسابقت اپنی جگہ، لیکن ایک نوجوان کھلاڑی کی حفاظت اور ذہنی صحت کو ہمیشہ ترجیح ملنی چاہیے۔ ان کا یہ مخلصانہ تبصرہ سوشل میڈیا پر کرکٹ شائقین کے درمیان بحث کا موضوع بن گیا ہے۔

ملانپور کی پچ اور تیز گیند بازوں کا فائدہ

ملانپور کی پچ نے میچ کے آغاز میں تیز گیند بازوں کو زبردست اچھال فراہم کیا۔ گجرات ٹائٹنز کے پیس اٹیک، جس میں کاگیسو ربادا، محمد سراج اور جیسن ہولڈر شامل تھے، نے اس پچ کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ تاہم، جیسے ہی ویبھو سوریاونشی نے پچ کے اچھال کو سمجھا، انہوں نے اپنے قدرتی اور جارحانہ انداز میں جواب دینا شروع کیا۔ 15ویں اوور میں جب محمد سراج نے ایک باؤنسر پھینکی، تو اس باصلاحیت بائیں ہاتھ کے بلے باز نے اس پر شاندار چھکا لگا کر اپنے پراعتماد ارادوں کا اظہار کیا۔

ویبھو سوریاونشی نے دباؤ کے باوجود شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے محض 47 گیندوں پر 96 رنز کی انتہائی دلکش اننگز کھیلی۔ ان کی اس اننگز میں 8 چوکے اور 7 فلک شگاف چھکے شامل تھے، اور ان کا اسٹرائیک ریٹ 204.26 رہا۔ اس 15 سالہ کھلاڑی کی دلیرانہ بیٹنگ کی بدولت راجستھان رائلز نے مقررہ 20 اوورز میں 214 رنز کا بڑا مجموعہ ترتیب دیا۔

گجرات ٹائٹنز کی فتح اور شبمن گل کی سنچری

اگرچہ راجستھان رائلز کا مجموعہ بہت مضبوط تھا اور پچ پر گیند بازوں کے لیے بھی مدد موجود تھی، لیکن گجرات ٹائٹنز کے بلے بازوں نے اس ہدف کو حاصل کرنا آسان بنا دیا۔ گجرات ٹائٹنز کے کپتان شبمن گل نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے محض 104 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی اور اپنی ٹیم کو فتح کی دہلیز تک پہنچا دیا۔

کاگیسو ربادا کا حکمت عملی پر تبصرہ

پہلی اننگز کے بعد جب گجرات ٹائٹنز کے فاسٹ باؤلر کاگیسو ربادا سے راجستھان رائلز کے خلاف باؤلنگ پلان کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے پچ کی صورتحال کو واضح کرتے ہوئے کہا:

“اس پچ پر ٹینس بال جیسا اچھال مل رہا تھا۔ ہماری کوشش تھی کہ ہم مسلسل اسی مخصوص علاقے میں گیند بازی کریں اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالیں۔ کرکٹ میں باؤلنگ ہمیشہ لائن اور لینتھ کے گرد گھومتی ہے۔ جتنا زیادہ آپ اپنی لائن اور لینتھ سے بھٹکیں گے، وکٹ حاصل کرنے کا امکان اتنا ہی کم ہو جائے گا۔ اس لیے میں نے اور ہماری ٹیم نے اسی وکٹ پر اپنے منصوبے کے مطابق گیند بازی کی اور پچ کے برتاؤ کو دیکھتے ہوئے اپنے تجربے کا استعمال کیا۔”

ویبھو سوریاونشی کی اس بہادرانہ اننگز نے ثابت کر دیا ہے کہ عمر محض ایک عدد ہے اور ان میں بین الاقوامی معیار کے باؤلرز کا مقابلہ کرنے کی پوری صلاحیت موجود ہے۔ تاہم، عرفان پٹھان کی جانب سے اٹھایا گیا سوال کرکٹ کمیونٹی کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا نو عمر کھلاڑیوں کے خلاف ایسی جارحانہ حکمت عملی کھیل کے مروجہ اصولوں کے مطابق ہے یا نہیں؟