Bangladesh Cricket

Israfil Khosru highlights quick action on players’ salary demands

Avatar photo Nikhil Joshi · · 1 min read

ڈومیسٹک کرکٹرز کے لیے خوشخبری: تنخواہوں میں تاریخی اضافہ

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (BCB) کی موجودہ ایڈہاک کمیٹی کو اقتدار سنبھالے ہوئے دو ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے، اور اس مختصر مدت میں بورڈ کی جانب سے اٹھایا گیا سب سے زیادہ قابل ستائش قدم فرسٹ کلاس کرکٹرز کی تنخواہوں اور میچ فیسوں میں اضافہ ہے۔ یہ فیصلہ پورے ملک کے ڈومیسٹک کھلاڑیوں کے لیے اطمینان اور خوشی کا باعث بنا ہے۔

دیرینہ مطالبات اور فوری ایکشن

برسوں سے ڈومیسٹک کرکٹرز بہتر معاوضے اور بہتر میچ فیسوں کا مطالبہ کر رہے تھے، تاہم سابقہ بورڈز نے اس اہم مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوئی ٹھوس اقدام نہیں اٹھایا تھا۔ موجودہ ایڈہاک کمیٹی نے، جس کی قیادت تمیم اقبال کر رہے ہیں، نہایت مستعدی کا مظاہرہ کیا اور اپنی دوسری بورڈ میٹنگ میں ہی تنخواہوں میں اضافے کی منظوری دے دی۔ یہ فیصلہ مرد اور خواتین دونوں کرکٹرز کے لیے یکساں طور پر فائدہ مند ثابت ہوا ہے، جس میں ماہانہ ادائیگیوں کے ساتھ ساتھ میچ فیسوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔

اسرافیل خسرو کا موقف

بی سی بی کے ‘چار چھکا’ پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے، بی سی بی ایڈہاک کمیٹی کے رکن اور فنانس کمیٹی کے چیئرمین اسرافیل خسرو نے وضاحت کی کہ یہ عمل کیسے مکمل ہوا اور اسے فوری طور پر انجام دینا کیوں ضروری تھا۔ اسرافیل خسرو نے کہا کہ اگر آپ واقعی کچھ کرنا چاہتے ہیں تو اسے ایک ہی بورڈ میٹنگ میں مکمل کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنی دوسری میٹنگ میں ہی کھلاڑیوں کی تنخواہیں بڑھا دیں جو کہ ان کا طویل عرصے سے حق تھا۔

کھلاڑی کرکٹ کا اثاثہ ہیں

اسرافیل خسرو کا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ کوئی بونس یا خصوصی تحفہ نہیں تھا، بلکہ یہ کھلاڑیوں کو ان کا حق دینا تھا جو انہوں نے بنگلہ دیشی کرکٹ کی ترقی کے لیے کمایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کھلاڑی بہت خوش ہیں اور وہ اس کے مستحق ہیں۔ ہم انہیں کچھ اضافی نہیں دے رہے، بلکہ یہ ان کی محنت کا صلہ ہے۔ آپ کھلاڑیوں کو نظر انداز کر کے بنگلہ دیشی کرکٹ کو آگے نہیں لے جا سکتے؛ وہ ہر چیز کے مرکز میں ہیں۔

مستقبل کی سمت اور انتخابات

بی سی بی کے انتخابات 7 جون کو شیڈول ہیں۔ اسرافیل خسرو بورڈ کی مستقبل کی قیادت میں اپنی جگہ بنانے کے لیے کیٹیگری-2 سے انتخاب لڑیں گے۔ یہ پیشرفت بنگلہ دیشی کرکٹ کے ڈھانچے میں اصلاحات کے ایک نئے دور کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں کھلاڑیوں کے حقوق اور ان کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔

نتیجہ

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا یہ قدم نہ صرف کھلاڑیوں کے حوصلے بلند کرے گا بلکہ ڈومیسٹک کرکٹ کے معیار کو بھی بہتر بنائے گا۔ جب کھلاڑیوں کو ان کی محنت کا صلہ بروقت ملتا ہے، تو وہ کھیل میں مزید بہتری لانے کے لیے پرعزم ہو جاتے ہیں۔ امید کی جاتی ہے کہ آنے والے وقت میں بھی کھلاڑیوں کے مفادات کا تحفظ اسی طرح جاری رہے گا۔