WATCH: Kushal Bhurtel hits 6 sixes in an over in Asian Games Qualifier 2026 – نیپال کی تاریخی فتح
سنگاپور کے نیشنل کرکٹ گراؤنڈ میں اتوار کو نیپال نے اپنی ایشین گیمز مینز کرکٹ کوالیفائر 2026 کی مہم کا آغاز ایک زبردست اعلان کے ساتھ کیا، جس میں چین کو 221 رنز سے شکست دی۔ یہ میچ نیپال کی ریکارڈ توڑ بیٹنگ کارکردگی اور پھر گیند کے ساتھ ان کے مکمل غلبے کے بعد یکطرفہ مقابلہ بن گیا۔ اس شاندار فتح نے نیپال کو ٹورنامنٹ میں ایک مثالی آغاز فراہم کیا اور یہ ثابت کیا کہ وہ ایشیائی کھیلوں میں اپنی قابلیت دکھانے کے لیے پرعزم ہیں۔
اس میچ کا سب سے بڑا مرکز اوپنر کشل بھرتیل تھے، جنہوں نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی تاریخ کے سب سے دھماکہ خیز اوورز میں سے ایک پیش کیا۔ انہوں نے چین کے سپنر چین ژو یو کے خلاف ایک ہی اوور میں چھ چھکے لگائے۔ یہ کرکٹ کے میدان میں ایک غیر معمولی کارنامہ ہے جو بہت کم بلے بازوں کو نصیب ہوتا ہے اور یہ لمحہ شائقین کرکٹ کے ذہنوں میں مدتوں تک تازہ رہے گا۔
کشل بھرتیل نے ایک اوور میں 6 چھکے لگائے: ایک یادگار کارنامہ
یہ خاص لمحہ نیپال کی اننگز کے نویں اوور میں پیش آیا۔ بھرتیل نے پہلی ہی گیند سے جارحانہ انداز اپنایا اور اسے باؤنڈری کے پار بھیج دیا۔ انہوں نے اوور کی ہر گیند پر یہی حکمت عملی جاری رکھی۔ ان کی بیٹنگ میں مکمل اعتماد، طاقت اور مہارت کا امتزاج تھا۔ ہر شاٹ مکمل طور پر ٹائمنگ کیا گیا تھا اور گیند آسانی سے میدان سے باہر جا رہی تھی۔ بولر کے پاس ان کے حملے کا کوئی جواب نہیں تھا کیونکہ ہر گیند اسٹینڈز میں غائب ہوتی چلی گئی۔ اس اوور کے اختتام تک، بھرتیل نے ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی تاریخ میں ایک ہی اوور میں چھ چھکے لگانے والے چند چنندہ بلے بازوں کی ایلیٹ فہرست میں اپنا نام شامل کر لیا۔ یہ صرف ان کی انفرادی کارکردگی نہیں تھی بلکہ اس نے ٹیم کے لیے بھی ایک زبردست رفتار فراہم کی۔
سوشل میڈیا پر بھی اس نایاب لمحے کی کلپس تیزی سے وائرل ہوئیں، اور مداحوں نے بھرتیل کی اس غیر معمولی کارکردگی کو سراہا۔ اس اوور کے بعد بھی بھرتیل نہیں رکے۔ انہوں نے اپنی جارحانہ بیٹنگ جاری رکھی اور صرف 43 گیندوں پر 129 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ ان کی اس اننگز میں 16 چھکے شامل تھے جنہوں نے چین کے باؤلنگ پلانز کو مکمل طور پر درہم برہم کر دیا تھا۔ یہ ایک ایسی اننگز تھی جس نے حریف کو مکمل طور پر حیران کر دیا اور نیپالی ٹیم کو ایک پہاڑ جیسے مجموعے کی بنیاد فراہم کی۔
کشل بھرتیل کی اس دھواں دار بیٹنگ نے نیپال کی ٹیم کو ایک مضبوط آغاز فراہم کیا، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹیم نے پوری اننگز میں جارحانہ کھیل جاری رکھا۔ کشل ملا نے بھی بھرتیل کا بھرپور ساتھ دیا اور 47 گیندوں پر ناقابل شکست 85 رنز بنائے۔ ان دونوں نے مل کر 175 رنز کی ایک زبردست شراکت قائم کی جس نے چین کو بڑے دباؤ میں ڈال دیا۔ ان کی شراکت داری نے نیپال کے ٹوٹل کو مزید بلندیوں تک پہنچا دیا اور حریف کے لیے ایک مشکل ہدف مقرر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
اننگز کے آخری لمحات میں کپتان روہت پاؤڈیل بھی حملے میں شامل ہوئے۔ انہوں نے صرف 21 گیندوں پر ناقابل شکست 69 رنز بنائے اور نیپال کو 20 اوورز میں 313/2 کے ایک بہت بڑے مجموعے تک پہنچنے میں مدد دی۔ چین کے باؤلرز پوری اننگز میں جدوجہد کرتے رہے اور رنز کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہے۔ یہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ایک بہت بڑا اسکور تھا جو ایک مشکل ہدف ثابت ہونے والا تھا۔
چین کی جدوجہد اور نیپال کا باؤلنگ غلبہ
314 رنز کے ہدف کے تعاقب میں چین کی ٹیم کبھی سنبھل نہیں سکی۔ نیپال کے باؤلرز نے شروع سے ہی جارحانہ انداز اپنایا اور باقاعدہ وقفوں سے وکٹیں لیتے رہے۔ سومپال کامی اور سندیپ لامیچھانے نے باؤلنگ کے شعبے میں قیادت کی اور دباؤ کو مسلسل برقرار رکھا۔ ان کی مضبوط باؤلنگ نے چین کے بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔
Kushal Bhurtel hits 6 sixes in an over against China. (Credits: X.com)
بھرتیل نے گیند کے ساتھ بھی اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ انہوں نے صرف 1.2 اوورز میں 0 رنز کے عوض 3 وکٹیں حاصل کیں، جو ان کی آل راؤنڈ کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ چین کی ٹیم 19.2 اوورز میں 92 رنز پر ڈھیر ہو گئی اور نیپال نے 221 رنز سے ایک زبردست فتح حاصل کی۔ یہ فتح نیپال کو اپنی ایشین گیمز کوالیفائر مہم کے لیے ایک بہترین آغاز فراہم کرتی ہے اور ان کے اعتماد کو مزید بلند کرتی ہے۔ اس کارکردگی نے ثابت کیا کہ نیپال کرکٹ عالمی سطح پر اپنی پہچان بنانے کے لیے تیار ہے۔ یہ صرف ایک میچ کی فتح نہیں تھی بلکہ یہ نیپالی کرکٹ کے روشن مستقبل کی علامت تھی۔