Mark Taylor blasts Cricket Australia’s plan to take BBL to India – Mark Taylor blasts Cricket Australias plan to take BBL to India
مارک ٹیلر کا کرکٹ آسٹریلیا کے منصوبے پر شدید رد عمل
مارک ٹیلر نے کرکٹ آسٹریلیا کے بگ بش لیگ (BBL) کے اگلے سیزن کے آغاز کے لیے بھارت میں میچز کرانے کے منصوبے کی سخت مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ قدم ٹیسٹ کرکٹ کی اہمیت کو کمزور کر سکتا ہے، خاص طور پر جب آسٹریلیا دسمبر 2026 میں نیوزی لینڈ کے خلاف اپنی چار ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا آغاز کر رہا ہو گا۔
BBL کو بھارت لے جانے کا منصوبہ کیا ہے؟
حالیہ رپورٹس کے مطابق، کرکٹ آسٹریلیا کے عہدیدار اس ماہ کے اوائل میں بھارت کے دورے پر گئے تھے تاکہ بگ بش لیگ کے اگلے سیزن کے افتتاحی میچز کے لیے ایک معاہدے پر بات چیت کی جا سکے۔ منصوبے کے تحت، دو BBL ٹیمیں بھارت میں میچز کھیلیں گی، جبکہ آسٹریلیا اسی دوران پرتھ میں نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کا آغاز کرے گا۔
ابھی تک کرکٹ آسٹریلیا نے اس منصوبے کی باقاعدہ تصدیق نہیں کی ہے، لیکن میڈیا میں یہ اشارے دیے جا رہے ہیں کہ اس ڈیل پر عملدرآمد قریب ہے۔
ٹیسٹ کرکٹ کو خطرہ: مارک ٹیلر کی تشویش
مارک ٹیلر، جو آسٹریلیا کے سابق کپتان ہیں اور ٹیسٹ کرکٹ کے شوقین کے طور پر جانے جاتے ہیں، کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اقدام سے شائقین کی توجہ گھریلو ٹیسٹ سیریز سے ہٹ کر BBL کی طرف جا سکتی ہے۔
انہوں نے نائن کے “وائیڈ ورلڈ آف اسپورٹس” میں کہا: “دوبارہ کہوں گا، ٹیسٹ میچ دیکھنے والے اور کھیلنے والے شخص کی حیثیت سے، مجھے یہ بات بالکل پسند نہیں آ رہی کیونکہ مجھے یقین ہے کہ اگر یہ ہوا تو یہ دسمبر کے اوائل یا وسط تک کا وقت ہوگا، جب ٹیسٹ میچ شروع ہونے والے ہوں گے۔”
انہوں نے مزید کہا: “آسٹریلیا 9 دسمبر سے ہو رہی ٹیسٹ سیریز میں کھیل رہا ہوگا۔ تو میرے لیے، ایسا کوئی بھی میچ جو اس وقفے میں ہو، وہ ٹیسٹ میچز سے توجہ ہٹا دے گا، جنہیں میں بہت پسند کرتا ہوں۔ یہ ایک قسم کا تبادلہ ہے؛ آپ دیکھیں گے کہ BBL کی دو ٹیمیں بھارت جا رہی ہیں، جبکہ آسٹریلیا میں ہماری قومی ٹیم ٹیسٹ کرکٹ کھیل رہی ہوگی۔”
کرکٹ کے مستقبل کے لیے خدشات
مارک ٹیلر نے متنبہ کیا ہے کہ اگر کرکٹ صرف پیسے اور تفریح تک محدود ہو گئی، تو یہ کھیل اپنی اصل روح سے دور ہو جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ کرکٹ آسٹریلیا کو یہ سوچنا چاہیے کہ وہ ایسے کھلاڑیوں کی تیاری کر رہا ہے جو صرف ٹی 20 لیگز میں کامیاب ہوں، یا وہ ٹیسٹ کرکٹ میں بھی ملک کی نمائندگی کر سکیں۔
انہوں نے کہا: “جیسا کہ میں نے کہا، ہم اس طرح کی چیزوں کو اب بار بار دیکھیں گے۔ حل تلاش کرنا بہت مشکل ہے، لیکن میں صرف امید کرتا ہوں کہ سب مل کر بیٹھیں اور یہ سوچیں کہ آخر کار آسٹریلیائی کرکٹ کے لیے کیا بہتر ہے۔ یاد رکھیں، ہمیں اگلی نسل کے کرکٹرز بھی تیار کرنے ہیں، نہ کہ صرف ان کھلاڑیوں کو پیسہ کمانے دیں جو آج کما رہے ہیں۔”
- مارک ٹیلر کا خیال ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
- BBL کو بیرونِ ملک اوقات کے تصادم کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
- کرکٹ آسٹریلیا کو مالی فوائد کے ساتھ ساتھ کھیل کے مستقبل کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔
مارک ٹیلر کے خیالات نے کرکٹ حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔ کیا تفریح اور منافع کے پیچھے بھاگتے ہوئے کھیل کی بنیادی شکل ٹیسٹ کرکٹ کو نظرانداز کیا جا رہا ہے؟ یہ سوال جنریشنز کے کرکٹ شائقین کے لیے اب اہم تر ہو رہا ہے۔