Latest Cricket News

Meghalaya women’s cricket scandal erupts amid sexual harassment allegations – میگھالیہ ویمنز کرکٹ ٹیم میں جنسی ہراسانی کا اسکینڈل: اہم انکشافات

Avatar photo Yash Malhotra · · 1 min read

میگھالیہ ویمنز کرکٹ میں ہراسانی کا سنگین بحران

میگھالیہ کی خواتین کرکٹ ٹیم اس وقت ایک انتہائی سنجیدہ تنازعہ کی زد میں ہے، جہاں انڈر 23 ٹیم کی کھلاڑیوں کی جانب سے جنسی ہراسانی اور بدسلوکی کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ یہ معاملہ نہ صرف متاثرہ کھلاڑیوں کے تحفظ کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے، بلکہ ریاستی کرکٹ باڈی کے انتظامی ڈھانچے اور اخلاقی ذمہ داریوں پر بھی سوالات اٹھاتا ہے۔

الزامات کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ

اطلاعات کے مطابق، یہ الزامات کئی ماہ قبل اٹھائے گئے تھے، لیکن متعلقہ حکام نے ان پر سنجیدگی سے توجہ دینے کے بجائے خاموشی اختیار کیے رکھی۔ اس معاملے نے تب شدت اختیار کی جب میگھالیہ اسٹیٹ کمیشن برائے خواتین نے اس پر نوٹس لیا۔ کمیشن نے فوری طور پر کرکٹ ایسوسی ایشن کے عہدیداران اور ملزمان کو طلب کیا تاکہ حقائق تک رسائی حاصل کی جا سکے۔

الزامات کی نوعیت اور تحقیقات

ابتدائی رپورٹس کے مطابق، ٹیم کے سپورٹ اسٹاف کے کچھ ارکان پر نامناسب رویہ، زبانی ہراسانی، اور نجی میسجنگ پلیٹ فارمز کے ذریعے قابل اعتراض گفتگو کرنے کے الزامات ہیں۔ میگھالیہ اسٹیٹ کمیشن برائے خواتین کی سربراہ لیمونلانگ سیئم نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے میگھالیہ کرکٹ ایسوسی ایشن کے سیکریٹری رینولڈ کھارکمانی، سابق صدر نبا بھٹاچاریہ اور منیجر شائننگ اسٹار لنگڈوہ سے بیانات لیے ہیں۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ مزید ایک فرد کا بیان باقی ہے، جس کے بعد حتمی رپورٹ تیار کی جائے گی۔

انتظامی غفلت اور سنگین الزامات

میگھالیہ کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر جیمز پی کے سنگما نے ایسوسی ایشن کے بعض عہدیداران پر اس معاملے کو چھپانے کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ‘کسی بھی ادارے میں جنسی ہراسانی قطعی ناقابل قبول ہے۔ انتخابات کے نام پر لاعلمی کا اظہار کرنا، انکوائری نہ کروانا اور شکایت کنندگان کو جواب تک نہ دینا ایم سی اے کی مایوس کن کارکردگی کا عکاس ہے۔’

مستقبل پر اثرات

صدر سنگما نے مزید کہا کہ جب اداروں پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے، تو صرف ایک کھلاڑی کا نقصان نہیں ہوتا، بلکہ وہ پوری نسل متاثر ہوتی ہے جنہیں یہ لڑکیاں متاثر کر سکتی تھیں۔ اگر صورتحال ایسی ہی رہی تو کرکٹ کا مستقبل شدید خطرے میں پڑ جائے گا۔ والدین اپنی بیٹیوں کو ایسے ماحول میں بھیجنے سے گریز کریں گے جہاں ان کا تحفظ یقینی نہ ہو۔

نتیجہ

یہ تنازعہ اس بات کا متقاضی ہے کہ شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ میگھالیہ کی خواتین کرکٹرز کو انصاف کی فوری ضرورت ہے تاکہ کھیل کے میدان میں ان کا وقار بحال ہو سکے اور مستقبل میں ایسی بدسلوکیوں کا راستہ روکا جا سکے۔ اس وقت تمام تر توجہ کمیشن کی حتمی رپورٹ پر مرکوز ہے، جس سے یہ واضح ہوگا کہ آیا ایسوسی ایشن میں موجود کالی بھیڑوں کو بے نقاب کیا جا سکے گا یا نہیں۔