Revealed: Why New Zealand vs Ireland Is A 4-Day Test Instead Of 5? – نیوزی لینڈ بمقابلہ آئرلینڈ: چار روزہ ٹیسٹ میچ کیوں کھیلا جا رہا ہے؟
نیوزی لینڈ اور آئرلینڈ کا ٹیسٹ: چار روزہ فارمیٹ کیوں؟
بدھ کے روز نیوزی لینڈ اور آئرلینڈ کی ٹیمیں بیلفاسٹ اسٹیڈیم میں ایک تاریخی ٹیسٹ میچ کے لیے آمنے سامنے ہوئیں۔ آئرلینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، جس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے کیوی ٹیم کو ابتدائی اوورز میں ہی 86 رنز پر 4 کھلاڑیوں کے نقصان تک محدود کر دیا۔ اگرچہ شائقین ریڈ بال کرکٹ دیکھنے کے لیے بڑی تعداد میں گراؤنڈ پہنچے، لیکن بہت سے لوگ اس بات پر الجھن کا شکار تھے کہ یہ ٹیسٹ میچ روایتی پانچ دنوں کے بجائے صرف چار دن پر کیوں محیط ہے۔
چار روزہ ٹیسٹ کا پس منظر اور آئی سی سی کا کردار
آئی سی سی نے 2017 میں ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے رکن ممالک کو یہ اختیار دیا تھا کہ اگر دونوں باہمی بورڈز باہمی رضامندی سے ایک دن کم کرنے پر متفق ہوں تو وہ چار روزہ ٹیسٹ میچ کھیل سکتے ہیں۔ اس فیصلے کا بنیادی مقصد چھوٹی کرکٹ بورڈز کی مالی معاونت کرنا تھا تاکہ وہ ٹیسٹ کرکٹ کی میزبانی کے اخراجات برداشت کر سکیں۔
اس مخصوص میچ کے معاملے میں، نیوزی لینڈ اور آئرلینڈ دونوں کے اپنے اپنے مفادات ہیں۔ آئرلینڈ کے لیے مالی بوجھ ایک بڑی وجہ ہے، جبکہ نیوزی لینڈ جیسی بڑی ٹیم کے خلاف کھیلنے سے آئرش کرکٹ کو فروغ ملے گا۔ چونکہ آئرلینڈ کی ٹیم کے پاس فرسٹ کلاس کرکٹ کا تجربہ محدود ہے، اس لیے ایک ٹاپ ٹیئر ٹیم کے خلاف کھیلنا ان کی تکنیکی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔
کیوی ٹیم کے لیے پریکٹس کا موقع
دوسری جانب نیوزی لینڈ کی ٹیم اس وقت یو کے کے دورے پر ہے کیونکہ انہیں 4 جون سے انگلینڈ کے خلاف تین میچوں کی ٹیسٹ سیریز کھیلنی ہے۔ یہ چار روزہ میچ بلیک کیپس کے لیے انگلینڈ سیریز سے قبل بہترین پریکٹس ثابت ہوگا۔ اسی لیے نیوزی لینڈ نے اس میچ کے لیے اپنی ایک مضبوط اور تجربہ کار ٹیم میدان میں اتاری ہے۔
چار روزہ اور پانچ روزہ ٹیسٹ میں بنیادی فرق
شائقین کے لیے یہ جاننا دلچسپ ہوگا کہ چار روزہ ٹیسٹ میچ کے قوانین میں چند اہم تبدیلیاں ہوتی ہیں:
- اوورز کی تعداد: پانچ روزہ ٹیسٹ میں روزانہ کم از کم 90 اوورز کروانا ضروری ہوتے ہیں، جبکہ چار روزہ میچ میں یہ تعداد بڑھا کر روزانہ 98 اوورز کر دی گئی ہے۔
- فالو آن کا قانون: چار روزہ میچ میں فالو آن کرنے کے لیے 150 رنز کی برتری کافی ہوتی ہے، جبکہ پانچ روزہ میچ میں یہ حد 200 رنز ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ تاریخ کا پانچواں چار روزہ ٹیسٹ میچ ہے۔ اس سے قبل 2018 میں پورٹ الزبتھ کے مقام پر جنوبی افریقہ اور زمبابوے کے درمیان پہلا چار روزہ ٹیسٹ کھیلا گیا تھا۔
کیا یہ میچ ڈبلیو ٹی سی (WTC) کا حصہ ہے؟
بہت سے شائقین یہ سوال کر رہے ہیں کہ کیا اس میچ کا اثر ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ (WTC) کی پوائنٹس ٹیبل پر پڑے گا؟ اس کا جواب ‘نہیں’ ہے۔ آئرلینڈ فی الحال ٹیسٹ کرکٹ کی ٹاپ 10 ٹیموں کی درجہ بندی میں شامل نہیں ہے اور نہ ہی وہ ڈبلیو ٹی سی سائیکل کا حصہ ہے۔ لہذا، اس میچ کے نتائج کو ڈبلیو ٹی سی ٹیبل میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ نیوزی لینڈ اس وقت ڈبلیو ٹی سی ٹیبل میں آسٹریلیا کے بعد دوسرے نمبر پر موجود ہے اور وہ اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
مجموعی طور پر، یہ میچ جہاں ایک طرف آئرش کرکٹ کے لیے سیکھنے کا ایک سنہری موقع ہے، وہیں نیوزی لینڈ کے لیے انگلینڈ کے اہم دورے سے قبل اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دینے کا ایک بہترین پلیٹ فارم ہے۔