News

‘No one is going to point fingers’ – Pollard on Hardik’s captaincy

Avatar photo Tanay Bhatt · · 1 min read

ممبئی انڈینز کا آئی پی ایل 2026 کا سفر: ایک مایوس کن اختتام

ممبئی انڈینز کے لیے آئی پی ایل 2026 کا سیزن کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں رہا۔ پانچ بار کی چیمپئن ٹیم، جس نے ہمیشہ شائقین کو متاثر کیا، اس بار پوائنٹس ٹیبل پر نویں نمبر پر رہی۔ راجستھان رائلز کے ہاتھوں آخری میچ میں شکست کے بعد، ٹیم کے بیٹنگ کوچ کیرون پولارڈ نے صورتحال پر کھل کر بات کی۔

‘اگر مگر’ کا کھیل

پولارڈ نے پریس کانفرنس کے دوران اعتراف کیا کہ یہ سیزن ‘اگر مگر’ کے گرد گھومتا رہا۔ انہوں نے کہا، ‘ہم پورے ٹورنامنٹ میں اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکے۔ ہم فتوحات کا تسلسل برقرار رکھنے میں ناکام رہے اور جب بھی ہمیں مومینٹم ملا، ہم اس کا فائدہ نہیں اٹھا سکے۔’

‘No one is going to point fingers’ – Pollard on Hardik’s captaincy

سب سے اہم سوال جو سیزن کے دوران بار بار اٹھایا گیا وہ ہاردک پانڈیا کی کپتانی تھی۔ اس پر پولارڈ کا موقف واضح تھا کہ ‘No one is going to point fingers’ – Pollard on Hardik’s captaincy۔ انہوں نے کہا کہ جب ٹیم ہارتی ہے تو یہ کسی ایک فرد کی ناکامی نہیں بلکہ اجتماعی ناکامی ہوتی ہے۔ پولارڈ کے مطابق، ہاردک نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی، لیکن بدقسمتی سے نتائج حق میں نہیں رہے۔

جسپریت بمراہ کی فارم اور فٹنس

ایک اور بڑا تشویشناک پہلو جسپریت بمراہ کی وکٹیں لینے کی صلاحیت میں کمی تھی۔ اعداد و شمار کے مطابق، 2015 کے بعد یہ بمراہ کا سب سے کمزور سیزن رہا۔ پولارڈ نے وضاحت کی کہ بمراہ ٹی 20 ورلڈ کپ کے بعد معمولی انجری کا شکار تھے اور مکمل فٹ نہیں تھے۔ ان کی اکانومی ریٹ (8.37) اچھی تھی، لیکن وکٹیں حاصل نہ کر پانا ٹیم کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا۔

مستقبل کا لائحہ عمل

پولارڈ کا کہنا ہے کہ ابھی جذباتی فیصلے کرنے کا وقت نہیں ہے۔ انتظامیہ اب بیٹھ کر سیزن کا گہرائی سے جائزہ لے گی کہ کہاں غلطیاں ہوئیں۔ پانچ بار کی چیمپئن ٹیم 2020 کے بعد سے ٹائٹل جیتنے میں ناکام رہی ہے، جس کے پیش نظر اب مستقبل کے لیے انتہائی محتاط اور اسٹریٹجک منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

کیا ٹیم میں تبدیلیوں کی ضرورت ہے؟

جب پولارڈ سے پوچھا گیا کہ کیا ٹیم کی حکمت عملی میں تبدیلی کی ضرورت ہے، تو انہوں نے کہا کہ ہم مستقل مزاجی کو ترجیح دینا چاہتے ہیں۔ ‘اگر ہم گزشتہ سال دیکھیں تو ہم چوتھے نمبر پر تھے، اس لیے تبدیلیاں کرنا ہمیشہ حل نہیں ہوتا۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ حکمت عملی کے اعتبار سے ہمیں کہاں بہتری لانی ہے۔’

نتیجہ

ممبئی انڈینز کے لیے یہ سیزن سبق آموز ہے۔ ٹیم کی انتظامیہ اب کھلاڑیوں کی ریٹینشن اور ریلیز پر سنجیدگی سے غور کرے گی۔ پولارڈ کا ماننا ہے کہ ٹیم کو دوبارہ ٹریک پر لانے کے لیے کھلاڑیوں کو اعتماد دینے اور پرسکون انداز میں فیصلے لینے کی ضرورت ہے۔ شائقین کو امید ہے کہ اگلا سیزن ٹیم کے لیے نئی بلندیوں کا آغاز ثابت ہوگا۔