Latest Cricket News

Ravi Shastri shares shocking MCG story involving angry Virat Kohli and Mitchell – رവി شاستری کا انکشاف: جب ورات کوہلی اور مچل جانسن کے درمیان لڑائی ہوتے ہوتے رہ گئی

Avatar photo Yash Malhotra · · 1 min read

کرکٹ تاریخ کا ایک یادگار مگر تلخ واقعہ

بارڈر گواسکر ٹرافی کی تاریخ میں 2014-15 کا آسٹریلیا کا دورہ ہمیشہ ورات کوہلی کی شاندار کارکردگی اور مچل جانسن کے ساتھ ان کے جارحانہ مقابلوں کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا۔ حال ہی میں سابق ہیڈ کوچ روی شاستری نے ایک پوڈ کاسٹ کے دوران ایک ایسا انکشاف کیا ہے جس سے شائقینِ کرکٹ اب تک ناواقف تھے۔ یہ کہانی ہے میلبرن کرکٹ گراؤنڈ (MCG) میں کھیلے گئے باکسنگ ڈے ٹیسٹ کی، جہاں جذبات اپنے عروج پر تھے۔

میدان سے ڈریسنگ روم تک کی کشیدگی

اس ٹیسٹ میچ کے دوران مچل جانسن کی جانب سے گیند کو سختی سے وکٹوں کی طرف پھینکنا اور اس کا ورات کوہلی کی کمر پر لگنا، وہ لمحہ تھا جس نے پورے میچ کا رخ بدل دیا۔ اس واقعے کے بعد دونوں کھلاڑیوں کے درمیان لفظی جنگ چھڑ گئی، جس نے کوہلی کے اندر ایک نئی آگ بھڑکا دی۔ کوہلی نے اس میچ میں 169 رنز کی شاندار اننگز کھیلی اور بھارت کو میچ ڈرا کرانے میں مدد کی۔

لیکن روی شاستری کا کہنا ہے کہ اصل کہانی اس وقت شروع ہوئی جب کھلاڑی میدان سے باہر آ رہے تھے۔ شاستری نے بتایا کہ وہ واحد موقع تھا جب انہیں ورات کوہلی کو کسی جسمانی لڑائی سے بچانے کے لیے مداخلت کرنی پڑی۔

روی شاستری کی زبانی: جب کوہلی کو روکنا پڑا

پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے شاستری نے یاد کیا: “یہ میلبرن کی بات ہے۔ مچل جانسن اور ورات کے درمیان مسلسل گرما گرمی چل رہی تھی۔ پہلی گیند پر ہی جانسن نے کوہلی کے سر پر گیند ماری تھی۔ لنچ کے وقت جب دونوں ڈریسنگ روم کی طرف جا رہے تھے، تو ورات مسلسل مچل جانسن کو گھور رہے تھے۔ مجھے انہیں پکڑ کر کہنا پڑا کہ ‘ادھر آؤ، اپنی بیٹنگ پر توجہ دو’۔ جب میں ان دنوں کے بارے میں سوچتا ہوں تو آج بھی میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔”

کوہلی اور شاستری کا کامیاب سفر

اس دورے کے بعد سے ورات کوہلی اور روی شاستری کی جوڑی نے بھارتی کرکٹ کو نئی بلندیوں پر پہنچایا۔ ان کی کوچنگ اور کوہلی کی کپتانی میں بھارتی ٹیم نے 2016 سے 2021 تک پانچ سال مسلسل ٹیسٹ رینکنگ میں نمبر 1 پوزیشن برقرار رکھی۔ اس عرصے کے دوران بھارت نے بیرون ملک خصوصاً آسٹریلیا میں ٹیسٹ سیریز جیت کر تاریخ رقم کی۔

اعداد و شمار کی زبانی کوہلی کا غلبہ

اگر اس سیریز کی کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو ورات کوہلی کا بلا پورے ٹورنامنٹ میں آگ اگلتا رہا۔ انہوں نے 86.50 کی شاندار اوسط کے ساتھ 692 رنز بنائے، جس میں چار سنچریاں اور ایک نصف سنچری شامل تھی۔ گوکہ آسٹریلیا نے یہ سیریز 2-0 سے جیت لی تھی، مگر کوہلی کی جارحانہ بیٹنگ اور پرجوش انداز نے انہیں آسٹریلوی شائقین کا بھی پسندیدہ بنا دیا تھا۔

یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ میں کھلاڑیوں کے درمیان جذبات کتنے شدید ہو سکتے ہیں، اور ایک کوچ کی ذمہ داری صرف تکنیک سکھانا نہیں بلکہ کھلاڑیوں کے غصے کو صحیح سمت میں موڑنا بھی ہے۔ روی شاستری کا یہ انکشاف کرکٹ کے شائقین کے لیے اس تاریخی دورے کے ایک نئے پہلو کو اجاگر کرتا ہے، جہاں ایک طرف کھیل کا بہترین مظاہرہ تھا تو دوسری طرف میدان کے باہر موجود شدید کشیدگی بھی۔