Cricket News

Rishabh Pant’s Captaincy Record In IPL – رشبھ پنت کی آئی پی ایل کپتانی کا سفر: کامیابیوں سے ناکامیوں تک کا تجزیہ

Avatar photo Yash Malhotra · · 1 min read

رشبھ پنت کی قیادت کا اختتام: لکھنؤ سپر جائنٹس کے لیے ایک مشکل باب

انڈین پریمیئر لیگ کی تاریخ میں رشبھ پنت ایک ایسا نام ہے جس نے اپنی جارحانہ بیٹنگ اور وکٹ کیپنگ کی مہارت سے دنیا بھر کے کرکٹ شائقین کے دل جیتے ہیں۔ تاہم، لکھنؤ سپر جائنٹس (LSG) کے ساتھ ان کا حالیہ تجربہ توقعات کے مطابق نہیں رہا۔ آئی پی ایل 2026 میں ٹیم کی آخری پوزیشن اور ناقص کارکردگی کے بعد، پنت نے اپنی قیادت سے استعفیٰ دے دیا ہے، جس نے کرکٹ کے حلقوں میں کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔

لکھنؤ سپر جائنٹس کا مایوس کن سفر

آئی پی ایل 2026 میں لکھنؤ سپر جائنٹس کا سفر انتہائی چیلنجنگ رہا۔ 14 میچوں میں صرف 4 فتوحات کے ساتھ پوائنٹس ٹیبل پر سب سے نچلے نمبر پر رہنا فرنچائز کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا۔ ٹیم میں نکولس پوران اور رشبھ پنت جیسے بڑے نام موجود ہونے کے باوجود، بیٹنگ یونٹ تسلسل دکھانے میں ناکام رہا۔ مچل مارش کے علاوہ کوئی بھی بلے باز ٹورنامنٹ کے ٹاپ 20 رنز بنانے والوں کی فہرست میں جگہ نہ بنا سکا۔ مزید برآں، ایکانہ سٹیڈیم کی وکٹیں جو ماضی میں اسپنرز کے لیے سازگار سمجھی جاتی تھیں، اس بار مہمان ٹیموں کو پریشان کرنے میں ناکام رہیں، جس کی وجہ سے کئی ہوم میچز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

رشبھ پنت کی قیادت میں ناکامی کی وجوہات

سنزیو گوینکا کی ملکیت والی اس فرنچائز نے 2025 کے میگا نیلامی میں رشبھ پنت کے لیے 27 کروڑ روپے کی بھاری رقم خرچ کی تھی۔ توقعات بہت زیادہ تھیں، لیکن بدقسمتی سے، نہ تو پنت اور نہ ہی ٹیم ان توقعات پر پورا اتر سکی۔ 2025 اور 2026 دونوں سیزن میں ٹیم پلے آف کے لیے کوالیفائی کرنے میں ناکام رہی۔ اس مسلسل ناکامی نے نہ صرف ان کی کپتانی پر سوالات اٹھائے بلکہ ان کی بطور بلے باز فارم پر بھی بحث چھیڑ دی۔

آئی پی ایل کا تاریخی پس منظر

رشبھ پنت نے 2016 میں دہلی ڈیئر ڈیولز (موجودہ دہلی کیپٹلز) کے ساتھ اپنے آئی پی ایل کیریئر کا آغاز کیا۔ 2018 میں 684 رنز بنا کر وہ ایک بڑے سٹار کے طور پر ابھرے۔ 2021 میں انہیں دہلی کیپٹلز کی کپتانی سونپی گئی، جہاں انہوں نے ٹیم کو ٹیبل کے ٹاپ تک پہنچایا۔ لیکن دہلی کے ساتھ ان کی یہ کامیابی طویل عرصے تک برقرار نہ رہ سکی۔

بطور کپتان رشبھ پنت کا ریکارڈ

اگر ہم پنت کے مجموعی کپتانی ریکارڈ کا جائزہ لیں تو دہلی کیپٹلز کے ساتھ ان کا دور کافی بہتر رہا تھا۔

  • دہلی کیپٹلز (DC): انہوں نے 43 میچوں میں قیادت کی، جن میں سے 23 میچ جیتے اور 19 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کی جیت کا تناسب 53.48 فیصد رہا۔
  • لکھنؤ سپر جائنٹس (LSG): یہاں ریکارڈ قدرے مایوس کن رہا۔ 28 میچوں میں سے صرف 11 میں فتح حاصل ہوئی جبکہ 17 میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

رشبھ پنت کا یہ سفر اتار چڑھاؤ سے عبارت رہا ہے۔ جہاں دہلی کے ساتھ انہوں نے بطور قائد اپنی شناخت بنائی، وہیں لکھنؤ میں وہ مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ ایک حادثے کے بعد شاندار واپسی اور پھر کپتانی سے دستبرداری تک، ان کا سفر کرکٹ شائقین کے لیے جذباتی رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پنت اپنے کیریئر کے اگلے مرحلے میں کس طرح خود کو دوبارہ منظم کرتے ہیں اور کیا وہ ایک بار پھر اپنی پرانی فارم میں واپس آ سکیں گے۔