Watch: Riyan Parag scolds Vaibhav Sooryavanshi in dugout; 15-year-old cries afte – ریان پراگ نے ویبھو سوریاونشی کو ڈانٹ دیا: آئی پی ایل 2026 میں شکست کے بعد رو پڑے 15 سالہ اسٹار
کوالیفائر 2 میں راجستھان رائلز کی شکست اور نیا تنازعہ
آئی پی ایل 2026 کا سیزن اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے، لیکن راجستھان رائلز (RR) کے لیے یہ سفر انتہائی مایوس کن انداز میں ختم ہوا ہے۔ گجرات ٹائٹنز (GT) کے خلاف کوالیفائر 2 میں شکست کے بعد راجستھان رائلز ٹورنامنٹ سے باہر ہو چکی ہے۔ تاہم، اس ہار سے زیادہ چرچے اس وقت سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو کے ہو رہے ہیں۔ اس ویڈیو میں راجستھان رائلز کے کپتان ریان پراگ ٹیم کے 15 سالہ باصلاحیت بلے باز ویبھو سوریاونشی کو ڈگ آؤٹ میں سخت لہجے میں کچھ کہتے ہوئے نظر آ رہے ہیں، جس کے بعد یہ کم عمر کھلاڑی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا اور رو پڑا۔
گجرات ٹائٹنز کی شاندار فتح اور فائنل میں رسائی
مہاراجہ یادوندرا سنگھ انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس اہم میچ میں راجستھان رائلز نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے 214 رنز کا بڑا مجموعہ بورڈ پر سجایا۔ تاہم، راجستھان کے گیند باز اس بڑے ہدف کا دفاع کرنے میں ناکام رہے۔ گجرات ٹائٹنز کے کپتان شبمن گل نے اپنی کلاس کا مظاہرہ کرتے ہوئے 104 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ ان کا ساتھ اوپننگ پارٹنر سائی سدھرشن نے دیا جنہوں نے 58 رنز بنائے۔ گجرات ٹائٹنز نے یہ میچ 7 وکٹوں سے جیت کر فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے، جہاں ان کا مقابلہ 31 مئی کو احمد آباد میں رائل چیلنجرز بنگلور (RCB) سے ہوگا۔
15 سالہ ویبھو سوریاونشی کی شاندار بلے بازی
اس میچ میں جہاں راجستھان کے دیگر کھلاڑی مشکلات کا شکار نظر آئے، وہیں 15 سالہ ویبھو سوریاونشی نے غیر معمولی بلے بازی کا مظاہرہ کیا۔ اس پچ پر جہاں تیز گیند بازوں کو اضافی باؤنس مل رہا تھا، ویبھو نے بیک فٹ پر کچھ ایسے لاجواب شاٹس کھیلے جنہوں نے سب کو دنگ کر دیا۔ وہ صرف 47 گیندوں پر 96 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، جس میں آٹھ چوکے اور سات شاندار چھکے شامل تھے۔ وہ بدقسمتی سے اپنی سنچری سے محض 4 رنز دوری پر آؤٹ ہو گئے۔
ویبھو کے آؤٹ ہونے کے بعد جنوبی افریقہ کے آل راؤنڈر ڈونوان فریرا نے آخری اوورز میں طوفانی بلے بازی کی۔ انہوں نے صرف 11 گیندوں پر چار چھکوں اور دو چوکوں کی مدد سے ناقابل شکست 38 رنز بنائے اور ٹیم کا اسکور 200 سے پار پہنچایا۔ لیکن اتنی شاندار بلے بازی کے باوجود راجستھان رائلز کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
ڈگ آؤٹ کا واقعہ: ریان پراگ کا رویہ اور ویبھو کے آنسو
میچ کے اختتام کے بعد سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہوئی جس نے کرکٹ شائقین کے دل توڑ دیے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ راجستھان رائلز کے کپتان ریان پراگ ڈگ آؤٹ میں بیٹھے ویبھو سوریاونشی کو انتہائی سخت اور غصے بھرے انداز میں کچھ کہہ رہے ہیں۔ 15 سالہ نوجوان بلے باز کے چہرے کے تاثرات اور کانپتے ہوئے ہونٹوں سے صاف ظاہر تھا کہ کپتان کی باتیں ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ تھیں۔ اس واقعے کے بعد وہ اپنے آنسوؤں کو نہ روک سکے اور رو پڑے۔
سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کے وائرل ہوتے ہی مداحوں نے ریان پراگ کے رویے پر کڑی تنقید شروع کر دی۔ شائقین کا کہنا ہے کہ جو کھلاڑی خود اس اہم میچ میں صرف 6 گیندوں پر 11 رنز بنا کر آؤٹ ہو گیا، اسے اس نوجوان کھلاڑی پر غصہ کرنے کا کوئی حق نہیں جس نے ٹیم کو اس مقام تک پہنچانے میں سب سے اہم کردار ادا کیا۔
سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی اس جذباتی ویڈیو کو یہاں دیکھا جا سکتا ہے:
https://t.co/OiTXCtgDBB
pic.twitter.com/4a1Tgc3gEy
ایک اور صارف نے اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ریان پراگ کا رویہ ڈریسنگ روم میں تو بہت جارحانہ ہوتا ہے لیکن میدان میں ان کی اپنی کارکردگی صفر رہتی ہے۔
pic.twitter.com/IdR1iixUo1
دونوں کھلاڑیوں کی کارکردگی کا موازنہ
آئی پی ایل 2026 کے پورے سیزن میں ریان پراگ کی کارکردگی انتہائی اتار چڑھاؤ کا شکار رہی۔ وہ نہ صرف فارم اور انجری کے مسائل سے جوجھتے رہے بلکہ ان کے ساتھ کئی تنازعات بھی جڑے رہے۔ سیزن کے دوران ان پر ڈریسنگ روم میں ویپنگ (vaping) کرنے کا الزام بھی لگا۔ پراگ نے اس سیزن کے 14 میچوں میں 23.76 کی اوسط اور 157.65 کے اسٹرائیک ریٹ سے مجموعی طور پر صرف 309 رنز بنائے۔
دوسری طرف، 15 سالہ ویبھو سوریاونشی نے اپنی کارکردگی سے سب کے دل جیت لیے۔ انہوں نے اس سیزن میں اورنج کیپ حاصل کی، اور 16 میچوں میں 48.50 کی شاندار اوسط اور 237.30 کے حیران کن اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ مجموعی طور پر 776 رنز بنائے۔
نتیجہ
اس سیزن میں ویبھو سوریاونشی نے جس طرح کی کرکٹ کھیلی ہے، وہ بلاشبہ ہندوستانی کرکٹ کا مستقبل ہیں۔ ایسے نوجوان اور حساس کھلاڑیوں کو کپتان اور سینیئر کھلاڑیوں کی طرف سے حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے، نہ کہ اس طرح کے سخت سلوک کی جو انہیں میدان میں سب کے سامنے مایوس کر دے۔ راجستھان رائلز کے لیے یہ سیزن ختم ہو چکا ہے، لیکن ریان پراگ کے اس رویے پر بحث اب بھی جاری ہے۔