Latest Cricket News

Sanjay Manjrekar blasts Rajasthan Royals over controversial Ravindra Jadeja call

Avatar photo Nikhil Joshi · · 1 min read

کوالیفائر 2 میں راجستھان رائلز کی حکمت عملی پر سوالات

آئی پی ایل 2026 کے کوالیفائر 2 میں گجرات ٹائٹنز کے ہاتھوں سات وکٹوں کی شکست کے بعد راجستھان رائلز کا فائنل تک پہنچنے کا خواب چکنا چور ہو گیا۔ تاہم، اس میچ کے دوران راجستھان رائلز کی جانب سے کیے گئے کچھ فیصلوں پر اب بحث چھڑ گئی ہے۔ معروف کمنٹیٹر سنجے منجریکر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر راجستھان رائلز کے فیصلوں، خاص طور پر رویندرا جدیجہ اور ڈونووان فریرا کے حوالے سے کیے گئے اقدامات پر سخت تنقید کی ہے۔

رویندرا جدیجہ کا متنازعہ فیصلہ

میچ کے دوران رویندرا جدیجہ کو نمبر چار پر بیٹنگ کے لیے بھیجا گیا تاکہ اننگز کو استحکام مل سکے۔ تاہم، آٹھویں اوور میں جیسن ہولڈر کی گیند ان کے بازو پر لگی، جس کے بعد وہ تکلیف کے باعث ریٹائر ہرٹ ہو کر میدان سے باہر چلے گئے۔ جدیجہ پہلے ہی ٹینس ایلبو کی انجری کا شکار تھے، جس کی وجہ سے یہ چوٹ مزید تشویشناک دکھائی دے رہی تھی۔

حیران کن طور پر، جوفرا آرچر کے آؤٹ ہونے کے بعد جدیجہ دوبارہ بیٹنگ کے لیے میدان میں آئے۔ اگرچہ ان کے بازو پر پٹی بندھی ہوئی تھی، لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور 35 گیندوں پر 45 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی۔ اس کارکردگی نے راجستھان رائلز کو 214 رنز کے مضبوط اسکور تک پہنچانے میں مدد دی، جس میں نوجوان بلے باز ویبھو سوریہ ونشی کی 96 رنز کی شاندار اننگز بھی شامل تھی۔

سنجے منجریکر کا تنقیدی تجزیہ

میچ کے بعد اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سنجے منجریکر نے کہا کہ راجستھان رائلز کی ٹیم انتظامیہ کا جدیجہ کو دوبارہ بیٹنگ کے لیے بھیجنے کا فیصلہ سمجھ سے باہر تھا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا: “ابھی تک راجستھان رائلز کی جانب سے جدیجہ کو ریٹائر ہرٹ ہونے کے بعد دوبارہ بیٹنگ کے لیے بھیجنے اور پھر ڈونووان فریرا سے پہلے جوفرا آرچر کو بھیجنے کے ناقص فیصلے کو سمجھ نہیں پا رہا۔”

بیٹنگ آرڈر میں غلطیاں

منجریکر نے بیٹنگ آرڈر میں کی گئی تبدیلیوں پر بھی ناگواری کا اظہار کیا۔ راجستھان رائلز نے ڈونووان فریرا جیسے جارحانہ بلے باز سے پہلے جوفرا آرچر کو بیٹنگ کے لیے بھیجا۔ آرچر، جو پچھلے میچوں میں اچھی کارکردگی دکھا چکے تھے، اس اہم میچ میں صرف 7 رنز ہی بنا سکے۔ دوسری طرف، جب آٹھویں نمبر پر فریرا آئے تو انہوں نے صرف 11 گیندوں پر 38 رنز کی دھواں دار اننگز کھیلی، جس میں چار چھکے شامل تھے۔

نتیجہ

اگرچہ فریرا نے اپنی مختصر اننگز سے ٹیم کو ایک اچھا اختتام فراہم کیا، لیکن تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر انہیں پہلے بھیجا جاتا تو راجستھان رائلز کا اسکور اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا تھا۔ شبمن گل کی شاندار سنچری کی بدولت گجرات ٹائٹنز نے ہدف باآسانی حاصل کر لیا، لیکن راجستھان رائلز کی ٹیم کے مینجمنٹ کے فیصلوں نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ کرکٹ جیسے کھیل میں ایک غلط فیصلہ پورے سیزن کی محنت کو ضائع کر سکتا ہے۔

راجستھان رائلز کے شائقین اب یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا بروقت درست فیصلے انہیں فائنل تک پہنچا سکتے تھے؟ فی الحال، ٹیم کو اپنی غلطیوں سے سیکھ کر اگلے سیزن کی تیاری کرنی ہوگی۔