Latest Cricket News

“Tremendous injustice”: Sanjay Manjrekar fumes over Auqib Nabi’s snub despite st – رنجی ٹرافی میں شاندار کارکردگی کے باوجود عاقب نبی کو نظر انداز کرنا نا انصافی ہے: سنجے منجریکر

Avatar photo Yash Malhotra · · 1 min read

رنجی ٹرافی کے ہیرو کی حیران کن نظر اندازی

بھارتی کرکٹ کے حلقوں میں ان دنوں ایک بڑا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ جموں و کشمیر کے فاسٹ بولر عاقب نبی، جنہوں نے ڈومیسٹک کرکٹ میں اپنی بولنگ سے تہلکہ مچا رکھا ہے، کو افغانستان کے خلاف واحد ٹیسٹ میچ کے لیے بھارتی ٹیم میں شامل نہ کیے جانے پر سابق کرکٹر سنجے منجریکر نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔

سنجے منجریکر کی سخت تنقید

اسپورٹ سٹار کے ‘انسائٹ ایج’ پوڈکاسٹ پر گفتگو کرتے ہوئے سنجے منجریکر نے کہا کہ عاقب نبی کا انتخاب نہ کرنا نہ صرف کھلاڑی کے ساتھ زیادتی ہے بلکہ یہ رنجی ٹرافی کی ساکھ کے لیے بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ منجریکر کا ماننا ہے کہ اگر رنجی ٹرافی کی ایسی شاندار کارکردگی کو نظر انداز کیا جائے گا، تو ڈومیسٹک ٹورنامنٹ کا انعقاد ہی بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا: ‘یہ واقعی مضحکہ خیز ہے۔ جب محمد شامی اور محمد سراج ٹیم کا حصہ نہیں ہیں، تو ایسے پرفارمر کو موقع کیوں نہیں دیا گیا؟ اگر آپ رنجی ٹرافی کی کارکردگی کو بنیاد نہیں بنائیں گے تو پھر اس ٹورنامنٹ کو کھیلنے کا کیا فائدہ؟’

عاقب نبی کے اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟

عاقب نبی کی حالیہ کارکردگی کسی بھی سلیکٹر کی توجہ حاصل کرنے کے لیے کافی تھی۔ گزشتہ دو رنجی سیزنز میں ان کے اعداد و شمار درج ذیل ہیں:

  • آخری سیزن: 10 میچوں میں 60 وکٹیں، اوسط 12.56، اور 7 بار پانچ وکٹیں حاصل کیں۔
  • گزشتہ سیزن: 8 میچوں میں 44 وکٹیں، اوسط 13.93۔
  • مجموعی طور پر: 18 میچوں میں 104 وکٹیں اور 13 بار پانچ وکٹیں حاصل کرنے کا شاندار ریکارڈ۔

جموں و کشمیر نے عاقب نبی کی تباہ کن بولنگ کی بدولت ہی اپنی تاریخ میں پہلی بار رنجی ٹرافی کا ٹائٹل جیتا ہے۔

آئی پی ایل کی ناکامی کا اثر؟

کھیل کے ماہرین کا خیال ہے کہ عاقب نبی کو ٹیم سے باہر رکھنے کی ایک ممکنہ وجہ آئی پی ایل 2026 میں ان کی مایوس کن کارکردگی ہو سکتی ہے۔ دہلی کیپیٹلز کی نمائندگی کرتے ہوئے وہ 5 میچوں میں کوئی وکٹ حاصل نہ کر سکے اور ان کا اکانومی ریٹ بھی 11 سے زائد رہا۔ تاہم، منجریکر جیسے تجزیہ کاروں کا یہ موقف ہے کہ ایک ٹیسٹ فارمیٹ کے کھلاڑی کو ٹی 20 لیگ کی کارکردگی پر تولنا درست عمل نہیں ہے۔

ٹیم میں دیگر تبدیلیاں

افغانستان کے خلاف اس ٹیسٹ میچ کے لیے بھارتی ٹیم میں کئی اہم تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔ رشبھ پنت سے نائب کپتانی واپس لے کر کے ایل راہول کو ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس کے علاوہ رویندر جڈیجہ اور محمد شامی کو ورک لوڈ مینجمنٹ کے پیش نظر آرام دیا گیا ہے۔ ٹیم میں مانو سوتھر، ہرش دوبے اور فاسٹ بولر گرنور برار کو پہلی بار شامل کیا گیا ہے۔

نتیجہ

عاقب نبی جیسے کھلاڑی کا نظر انداز ہونا بھارتی کرکٹ میں سلیکشن کے عمل پر ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑے کر رہا ہے۔ شائقین اور ماہرین کا مطالبہ ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں مستقل مزاجی دکھانے والے کھلاڑیوں کو قومی ٹیم میں جگہ ملنی چاہیے، بصورت دیگر رنجی ٹرافی کا مقصد ہی ختم ہو جائے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا سلیکٹرز مستقبل میں عاقب نبی کی اس مسلسل کارکردگی کا نوٹس لیتے ہیں یا نہیں۔