News

Shaheen Afridi on Pakistan quicks losing speed: ‘Machines deteriorate with time’ – شاہین آفریدی کا پاکستانی فاسٹ بولرز کی رفتار میں کمی پر بیان: مشینری وقت کے ساتھ کمزور پڑتی ہے

Avatar photo Tanay Bhatt · · 1 min read

پاکستان کرکٹ میں رفتار کا بحران: شاہین آفریدی کا تجزیہ

پاکستان کرکٹ کی تاریخ ہمیشہ تیز رفتار فاسٹ بولرز سے جڑی رہی ہے، لیکن حالیہ کچھ عرصے میں قومی ٹیم کے پیسرز کی رفتار میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ راولپنڈی میں آسٹریلیا کے خلاف سیریز کے آغاز سے قبل، پاکستان کے ون ڈے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے اس موضوع پر کھل کر بات کی اور اعتراف کیا کہ یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے جس پر نیشنل کرکٹ اکیڈمی (NCA) ایک جامع منصوبہ تیار کر رہی ہے۔

مشینری وقت کے ساتھ کمزور پڑتی ہے

شاہین آفریدی نے اپنی حالیہ فارم اور رفتار میں کمی پر بات کرتے ہوئے ایک دلچسپ تشبیہ کا استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ انسانی جسم ایک مشین کی طرح ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ تھکاوٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔ شاہین نے مزید وضاحت کی کہ جب آپ کا جسم مسلسل کرکٹ کے بوجھ تلے دبا ہو، تو رفتار برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا، “ہمیں خود کو ری چارج کرنے کی ضرورت ہے، اور جب جسم کو آرام ملتا ہے تو رفتار میں بہتری لانا ممکن ہوتا ہے۔”

بنگلہ دیش کے خلاف حالیہ ٹیسٹ سیریز میں پاکستانی بولرز کی رفتار بنگلہ دیشی بولرز کے مقابلے میں کم دیکھی گئی، جو کہ کرکٹ حلقوں میں بحث کا موضوع بنی۔ شاہین آفریدی نے اس حوالے سے ناہید رانا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے رفتار برقرار رکھنا آسان ہوتا ہے کیونکہ وہ ابھی بین الاقوامی کرکٹ کے ابتدائی مراحل میں ہیں، جبکہ سینئر کھلاڑیوں کو مسلسل ورک لوڈ کا سامنا ہے۔

ورک لوڈ مینجمنٹ پر کام

شاہین نے بتایا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور کوچنگ اسٹاف کھلاڑیوں کے ورک لوڈ کو بہتر طریقے سے سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کچھ کھلاڑیوں کو صرف ٹیسٹ اور کچھ کو ون ڈے فارمیٹ تک محدود رکھا جا رہا ہے تاکہ وہ تازہ دم رہ سکیں۔ یہ حکمت عملی آئندہ ورلڈ کپ کے پیش نظر کھلاڑیوں کی فٹنس کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔

محمد رضوان کی ٹیم سے ڈراپنگ پر وضاحت

پاکستان کے ون ڈے اسکواڈ سے محمد رضوان کی ڈراپنگ نے شائقین اور ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔ رضوان، جو اس سائیکل میں پاکستان کے دوسرے بہترین بلے باز رہے ہیں، انہیں ٹیم سے باہر کرنے پر شاہین آفریدی نے وضاحت دی کہ اسے ان کا کیریئر ختم ہونے کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے۔

  • موقع کی فراہمی: ٹیم مینجمنٹ کا مقصد نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دینا ہے تاکہ ورلڈ کپ سے قبل ایک بڑا پول تیار کیا جا سکے۔
  • پہلے بھی واپسی ہوئی ہے: شاہین نے یاد دلایا کہ بابر اعظم اور خود انہیں بھی ماضی میں ٹیم سے ڈراپ کیا گیا تھا، لیکن انہوں نے دوبارہ واپسی کی۔
  • بات چیت: کپتان نے تصدیق کی کہ انہوں نے محمد رضوان سے اس حوالے سے بات کی ہے اور انہیں اعتماد میں لیا ہے۔

آئندہ کا لائحہ عمل

پاکستان کی سلیکشن کمیٹی کا فوکس اس وقت زیادہ سے زیادہ ٹیلنٹ کو موقع دینے پر ہے تاکہ ورلڈ کپ کے لیے بہترین متوازن ٹیم منتخب کی جا سکے۔ شاہین آفریدی کے مطابق، ڈراپنگ کا مطلب یہ نہیں کہ دروازے بند ہو گئے ہیں، بلکہ یہ ٹیم کی بہتری کے لیے ایک ضروری تبدیلی ہے۔ لاہور میں ہونے والے ون ڈے میچز اب یہ طے کریں گے کہ آیا پاکستان اپنی رفتار کے بحران اور ٹیم کمبی نیشن کے مسائل کو کس حد تک حل کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔

پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے لیے یہ وقت انتہائی اہم ہے، جہاں انہیں ایک طرف تو اپنی روایتی رفتار کو واپس لانا ہے اور دوسری طرف مستقبل کے لیے نئے ٹیلنٹ کو نکھارنا ہے۔ امید ہے کہ این سی اے کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات آنے والے وقت میں پاکستان کرکٹ کو دوبارہ بلندیوں پر لے جائیں گے۔