Latest Cricket News

شان مسعود کی ٹیسٹ کپتانی کو بچانے کی کوششیں، محسن نقوی کی مصروفیات کا فائدہ

Avatar photo Deepak Menon · · 1 min read

پاکستان ٹیسٹ ٹیم کی قیادت: شان مسعود کا مستقبل داؤ پر

پاکستان ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کپتان شان مسعود اس وقت اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے مشکل ترین دور سے گزر رہے ہیں۔ بنگلہ دیش کے ہاتھوں ٹیسٹ سیریز میں عبرتناک شکست کے بعد سے ان کی کپتانی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، شان مسعود اپنی پوزیشن کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں اور بورڈ کے اہم حلقوں میں اپنی حمایت بچانے میں مصروف ہیں۔

بنگلہ دیش کے خلاف مایوس کن کارکردگی

سال 2026 میں بنگلہ دیش کا دورہ پاکستان کرکٹ کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوا۔ ڈھاکا میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں جہاں پاکستان کو 10 رنز سے شکست ہوئی، وہیں دوسرے ٹیسٹ میں بھی قسمت نے ساتھ نہ دیا۔ بنگلہ دیشی بلے بازوں نے ریکارڈ ساز بیٹنگ کی اور پاکستان کے باؤلرز، جن میں محمد عباس اور خرم شہزاد شامل تھے، وکٹیں لینے کے باوجود میچ کا نتیجہ اپنے حق میں کرنے میں ناکام رہے۔

آعداد و شمار کیا بتاتے ہیں؟

بطور کپتان شان مسعود کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ہے۔ انہوں نے اب تک 16 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی قیادت کی ہے، جن میں سے انہیں صرف 4 میں کامیابی ملی جبکہ 12 میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ 25 فیصد کی فتح کی شرح ہے جو کہ کسی بھی کپتان کے لیے تشویشناک ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، مصباح الحق کے بعد شان مسعود ہی وہ کپتان ہیں جنہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ شکستیں دیکھی ہیں، حالانکہ مصباح کا دورانیہ مسعود سے کہیں طویل تھا۔

محسن نقوی کی مصروفیات اور پی سی بی کا موقف

ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا شان مسعود کو چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی حمایت حاصل ہے؟ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ محسن نقوی اپنی وزارت داخلہ کی مصروفیات اور خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال کے باعث کرکٹ بورڈ کے معاملات پر پوری طرح توجہ نہیں دے پا رہے۔ اس خلا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شان مسعود اپنے حامیوں کے ذریعے اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ساختی تبدیلیوں کا مطالبہ

ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ شان مسعود صرف اپنی کپتانی بچانا نہیں چاہتے بلکہ وہ ٹیم کے انتخابی عمل اور مینجمنٹ میں ساختی تبدیلیوں کے بھی خواہشمند ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ کوچنگ اسٹاف اور ٹیم انتظامیہ میں بار بار ہونے والی تبدیلیاں ان کی قیادت اور ٹیم سازی کی کوششوں میں رکاوٹ کا باعث بنی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ایک مضبوط ٹیسٹ سکواڈ کی تعمیر کے لیے تسلسل انتہائی ضروری ہے۔

مستقبل کے فیصلے کا انتظار

پاکستان کو جلد ہی آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز اور اگست میں ویسٹ انڈیز کا دورہ کرنا ہے۔ ان اہم دوروں سے قبل ایک اہم میٹنگ متوقع ہے جس میں شان مسعود کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔ کیا پی سی بی انتظامیہ شان مسعود پر ایک بار پھر اعتماد کا اظہار کرے گی یا ٹیم کی بہتری کے لیے قیادت میں تبدیلی کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا؟ اس کا جواب آنے والے دنوں میں ہی ملے گا۔

نتیجہ

پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے یہ وقت انتہائی نازک ہے۔ ٹیم کی عالمی درجہ بندی میں تنزلی اور ٹیسٹ کرکٹ میں مسلسل ناکامیوں نے شائقین کو مایوس کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پی سی بی کی اعلیٰ قیادت اس بحران سے نکلنے کے لیے کیا حکمت عملی اپناتی ہے اور کیا شان مسعود خود کو ایک کامیاب کپتان کے طور پر ثابت کر پائیں گے یا نہیں۔