Cricket News

Shreyas Iyer’s Sister Shresta Iyer Unleashes Fury After PBKS Exit From IPL 2026

Avatar photo Deepak Menon · · 1 min read

Shreyas Iyer کی بہن شریسٹا کا جذباتی ردعمل: PBKS کے IPL 2026 باہر ہونے کے بعد

Indian Premier League 2026 کا سیزن صرف میچوں اور ریکارڈز کے حوالے سے نہیں، بلکہ جذبات، تنازعات اور سوشل میڈیا کی گرمی کے لیے بھی مشہور رہا۔ اسی سیاق میں، Punjab Kings (PBKS) کو بھی کافی توجہ ملی، خاص طور پر کیپٹن شریاس آئیر کی بہن شریسٹا آئیر کے ایک متنازعہ ریل کے بعد۔

شروعات تو شاندار تھی، پھر اچانک سب کچھ بگڑ گیا

IPL 2026 کا آغاز PBKS کے لیے حیرت انگیز تھا۔ ٹیم نے اپنے پہلے سات میچز میں ایک شکست بھی نہیں کھائی، اور فینز کو یقین ہو گیا تھا کہ یہ سیزن ان کا ہو سکتا ہے۔ لیکن ایک شکست کے بعد ٹیم کا توازن بگڑ گیا۔ ٹورنامنٹ کے آخری مراحل میں وہ صرف ایک ہی میچ جیت پائی، جس کے بعد پلے آف کی دوڑ سے باہر ہو گئے۔

کولکاتا میں میچ بارش کی نذر، شریسٹا کا ریل وائرل

کولکاتا میں KKR کے خلاف میچ بارش کی وجہ سے منسوخ ہوا، جس کے بعد شریسٹا آئیر نے ایک مزاحیہ ریل بنایا، جس میں انہوں نے کہا کہ “میں نے تین بار چیمپئن کو ایک پوائنٹ تحفہ میں دیا ہے”۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی، خاص طور پر اس لیے کہ شریاس آئیر اور KKR کے درمیان گزشتہ مقابلے کشیدہ تعلقات کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

طوفانِ تنقید اور شریسٹا کا جواب

شریسٹا کے ریل کے بعد، انہیں سوشل میڈیا پر بہت سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ بہت سے لوگوں نے ان پر غیر ضروری تنقید کی، کچھ نے تو خاندانی سطح پر ہراسانی تک شروع کر دی۔ اس پر ردعمل دیتے ہوئے، شریسٹا نے ایک انسٹاگرام ریل شیئر کی، جس میں وہ کہتی ہیں:

“وہ ویڈیو جو میں نے بنائی تھی، آپ لوگوں نے اسے بہت سنجیدہ لے لیا۔ اصل مقصد صرف دوستانہ مذاق تھا۔ میں کسی کا مذاق نہیں اڑا رہی تھی، نہ ہی کسی کے خلاف نفرت پھیلانے کا ارادہ تھا۔ میں ہر کرکٹر کا احترام کرتی ہوں کیونکہ میرے بھائی بھی کرکٹ کھیلتے ہیں۔”

ہراسانی کا خوفناک حقیقت

شریسٹا نے تنقید کرنے والوں پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگوں نے ان کے دفتر پر فون کر کے ان کے ساتھیوں، طلباء اور خاندان کو ہراساں کیا۔

“میں تم پر ترس کھاتی ہوں،” انہوں نے کہا، “اگر مجھ سے نفرت ہے تو کرو، لیکن میرے ساتھ منسلک لوگوں کو مت تنگ کرو۔ میں جیتے ہوئے یا ہارے ہوئے، اپنے بھائی کو سلام کرتی رہوں گی۔”

_PBKS کی ناکامی کے پیچھے کیا تھا؟_

اگر KKR کے خلاف میچ نہ بارش کی نذر ہوتا، تو PBKS ایک پوائنٹ زیادہ لیتے اور پلے آف میں جگہ بنا سکتے تھے۔ راجستھان رائلز کے ہاتھوں شکست کے بعد، ٹیم کے حوصلے گر گئے۔

بیٹنگ کے لحاظ سے ٹیم نے چھ میں سے چار میچز میں 200 سے زیادہ رنز بنائے، لیکن بالنگ یونٹ دباؤ میں ناکام رہی۔ یوزویندرا چہل اور آرش دیپ سنگھ جیسے تجربہ کار بالرز بھی اہم وکٹیں حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

آخری لیگ میچ میں، شریاس آئیر نے LSG کے خلاف شاندار سنچری بنائی، لیکن راجستھان رائلز کی فتح نے PBKS کے خوابوں پر پانی پھیر دیا۔

آخری لفظ

شریسٹا آئیر کا موقف واضح ہے: میں نے صرف مزاح کیا تھا، تنقید غلط جگہ ہوئی۔ آن لائن ہراسانی کبھی قابلِ قبول نہیں ہونی چاہیے۔ اسی طرح، PBKS کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ جیسے ہی وہ ہارنے لگے، ان کے پاس کوئی بیک اپ پلان نہیں تھا۔ بولنگ اور فیلڈنگ دونوں کمزور تھے۔

شاید اگلے سیزن تک، ٹیم صرف میدان پر نہیں، بلکہ ذہنی طور پر بھی مضبوط ہو۔