‘A brand to admire but it comes at a cost’ – Moody wants SRH to invest in bowler – سن رائزرز حیدرآباد: طاقتور بیٹنگ کا خرچ اور باؤلنگ کی قیمت – موڈی کی تجویز
آئی پی ایل 2026 کا سیزن سن رائزرز حیدرآباد (SRH) کے لیے دلچسپی اور تنازعات کا مرکب رہا۔ ٹیم نے لیگ مرحلے کے 14 میں سے 9 میچ جیتے اور گجرات ٹائٹنز (GT) کے بعد خالص رن ریٹ کی بنیاد پر تیسری پوزیشن حاصل کی۔ اگرچہ ان کے پیس باؤلنگ کوچ جیمز فرینکلن نے ایلیمینیٹر میں ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کے بعد کہا کہ “مجموعی طور پر ہمارا سیزن بہت اچھا رہا ہے،” لیکن 2016 میں SRH کی فتح یاب ٹیم کے ہیڈ کوچ ٹام موڈی کا خیال ہے کہ یہ ٹیم اپنے بڑے بلے بازوں کے گرد گھومتی ہے اور اس کے نتیجے میں ایک مضبوط باؤلنگ یونٹ بنانے کے لیے “مالیاتی وسائل کی کمی” کا شکار رہی ہے۔ یہ ایک ایسی بحث ہے جو کرکٹ کے حلقوں میں ہمیشہ گرم رہتی ہے کہ کیا طاقتور بیٹنگ باؤلنگ کی کمزوریوں پر پردہ ڈال سکتی ہے یا نہیں۔
سن رائزرز کی طاقتور بیٹنگ کا مظاہرہ
اس سیزن میں سن رائزرز حیدرآباد کی سب سے بڑی طاقت ان کی جارحانہ اور بے خوف بیٹنگ تھی۔ اگرچہ ٹریوس ہیڈ اس سیزن میں اپنی بہترین فارم سے قدرے نیچے رہے، انہوں نے 170.12 کے اسٹرائیک ریٹ سے 410 رنز بنائے۔ تاہم، ہینرک کلاسن (160.00 کے اسٹرائیک ریٹ سے 624 رنز)، ایشان کشن (182.42 کے اسٹرائیک ریٹ سے 602 رنز) اور ابھیشیک شرما (204.72 کے شاندار اسٹرائیک ریٹ سے 563 رنز) نے ایک خوفناک ٹاپ آرڈر تشکیل دیا جو کسی بھی باؤلنگ اٹیک کو تہس نہس کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ ان چار بلے بازوں کے پیچھے نتیش کمار ریڈی ایک قابل پانچویں بلے باز کے طور پر موجود تھے، جنہوں نے موقع ملنے پر اہم شراکتیں کیں۔ ان بلے بازوں کی بدولت SRH نے کئی بار بڑے اسکور بنائے اور اکثر مخالف ٹیموں پر دباؤ ڈالا۔ ان کا بیٹنگ انداز انتہائی دلکش اور شائقین کو اپنی نشستوں پر جمائے رکھنے والا تھا۔
باؤلنگ کا چیلنج: کمزور کڑی؟
جہاں بیٹنگ نے SRH کے لیے سرخیاں بنائیں، وہیں باؤلنگ یونٹ ایک تشویشناک پہلو رہا۔ ایشان مالنگا (9.33 کے اکانومی ریٹ سے 20 وکٹیں) اور ساکیب حسین (9.45 کے اکانومی ریٹ سے 15 وکٹیں) ہی اہم کامیابی کی کہانیاں ثابت ہوئے۔ پرافل ہنج اور شوانگ کمار نے وعدہ تو دکھایا لیکن وہ ابھی تک مکمل طور پر تیار نہیں ہوئے تھے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ T20 کرکٹ میں صرف چند ایک چمکتے ہوئے ستارے ہی ٹیم کو فتح یاب نہیں بنا سکتے، بلکہ ایک متوازن اور مضبوط باؤلنگ اٹیک بھی اتنا ہی ضروری ہوتا ہے۔ SRH کی باؤلنگ میں وہ گہرائی اور تجربہ نظر نہیں آیا جو دیگر ٹاپ ٹیموں میں موجود تھا۔
ٹام موڈی کا تجزیہ: “برانڈ کی قیمت”
ای ایس پی این کرک انفو ٹائم آؤٹ پر بات کرتے ہوئے، ٹام موڈی، جنہوں نے 2016 میں SRH کو ٹائٹل جتوایا تھا، نے اپنی ٹیم کے سابقہ انداز پر تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا، “یہ ایک ایسا برانڈ ہے جس کی تعریف کی جانی چاہیے لیکن اس کی ایک قیمت بھی ہے۔” موڈی نے واضح کیا کہ اگرچہ SRH نے اپنی جارحانہ بیٹنگ سے بہت نام کمایا ہے، وہ ابھی تک اس برانڈ کے ساتھ ٹرافی نہیں اٹھا پائے ہیں۔ “ہاں، وہ خود کو موقع فراہم کر رہے ہیں، لیکن اس کی قیمت یہ بھی ہے کہ آپ کو اس برانڈ کو کھیلنے کے لیے سرمایہ کاری کرنی پڑتی ہے۔ اور یہ سرمایہ کاری باؤلنگ کے شعبے میں کم پڑ جاتی ہے۔ تو آپ اپنی بیٹنگ یونٹ میں بہت زیادہ پیسہ لگا رہے ہیں، اور آپ کے پاس ایک مضبوط باؤلنگ یونٹ بنانے کے لیے مالیاتی وسائل کی کمی رہ جاتی ہے جو اس بیٹنگ کو سپورٹ کر سکے۔” موڈی کا یہ تجزیہ SRH کی حکمت عملی پر ایک گہرا سوال اٹھاتا ہے کہ کیا ایک شعبے میں بے تحاشا سرمایہ کاری دوسرے کو کمزور نہیں کر دیتی؟
مالیاتی حکمت عملی اور اس کے اثرات
SRH نے 2024 کے سیزن سے پہلے پیٹ کمنز کو 20.50 کروڑ روپے میں خرید کر غیر ملکی کھلاڑی کے لیے آئی پی ایل نیلامی کا ریکارڈ توڑا تھا۔ یہ ان کی اسٹرانگ بیٹنگ کے ساتھ ایک مضبوط کپتان اور باؤلر شامل کرنے کی کوشش تھی، لیکن اس کے باوجود، ان کے پاس کوئی دوسرا بڑا نام – اور خاص طور پر کوئی بڑا اسپنر – اپنی صفوں میں شامل نہیں تھا۔ مالنگا، جیرالڈ کوئٹزی اور دلشان مدوشنکا دیگر غیر ملکی باؤلنگ آپشنز تھے، جو اچھے تھے لیکن شاید اتنے موثر نہیں جتنے کہ ٹاپ کلاس اسپنرز کی ضرورت ہوتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 2021 اور 2024 کے پرپل کیپ ونر ہرشل پٹیل نے اس سیزن میں صرف پانچ میچ کھیلے، کوئی وکٹ حاصل نہیں کر سکے اور 10.82 کے اکانومی ریٹ سے رنز دیے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ٹیم کو اپنی باؤلنگ میں گہرائی اور تنوع کی شدید ضرورت تھی۔
توازن کی تلاش: آر سی بی سے موازنہ
ٹام موڈی نے مزید کہا کہ “یہ توازن تلاش کرنے کی کوشش ہے اور میرے خیال میں رائل چیلنجرز بنگلور (RCB) نے یہ توازن حاصل کر لیا ہے۔” انہوں نے زور دیا، “میں اس برانڈ کے خلاف نہیں ہوں لیکن آپ کو سیلری کیپ اور ہر چیز کی بات کرتے وقت اسے متوازن کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔” سابق کرکٹر امباتی رائیڈو نے بھی موڈی کے تجزیے سے اتفاق کرتے ہوئے کہا، “وہ اس طرح شاندار ہو سکتے ہیں۔ وہ آنکھوں کو بہت اچھے لگتے ہیں۔ وہ بہت پرجوش ہیں۔ لیکن پھر بھی، آئی پی ایل جیتنے کے لیے، آپ کو طاقتور ہونے کے ساتھ ساتھ ہوشیار بھی ہونا پڑتا ہے۔ میرے خیال میں یہ صرف اس صورت میں بہتر ہو سکتا ہے جب آپ صحیح قسم کے کھلاڑی حاصل کریں اور توازن حاصل کریں اور مختلف حالات میں بھی کھیل سکیں۔ یہ ایک ایسا شعبہ ہے جہاں انہیں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔” یہ بات قابل غور ہے کہ صرف طاقت سے ہی ٹائٹل نہیں جیتا جا سکتا، بلکہ حکمت عملی اور حالات کے مطابق ڈھلنے کی صلاحیت بھی اتنی ہی اہم ہے۔
جیمز فرینکلن کا مثبت نقطہ نظر
اگرچہ SRH کو ایلیمینیٹر میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، لیکن پیس باؤلنگ کوچ جیمز فرینکلن نے سیزن کو مثبت انداز میں دیکھا۔ میچ کے بعد پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا، “مجھے نہیں لگتا کہ [سیزن] کچھ غلط ہوا۔ میرا مطلب ہے، ہم نے 14 راؤنڈ رابن گیمز میں سے نو جیتے ہیں۔ ہم رن ریٹ کی وجہ سے تیسرے نمبر پر رہے۔” انہوں نے مزید کہا، “میرے خیال میں مجموعی طور پر ہمارا سیزن بہت اچھا رہا ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ بہت کچھ غلط ہوا ہے۔” فرینکلن نے نوجوان ہندوستانی کھلاڑیوں کے ابھرنے کو SRH کے لیے ایک بڑی مثبت بات قرار دیا۔ انہوں نے شیوانگ، پرافل ہنج، ساکیب حسین، سلیل اروڑا، اور آر سمارن جیسے کھلاڑیوں کا ذکر کیا جو اس سال ان کی ابتدائی الیون میں شامل تھے۔ ان کے بقول، “یہ بہت اچھا ہے، جو آپ ایک فرنچائز کے طور پر چاہتے ہیں کہ ہر سال نوجوان ٹیلنٹ سامنے آئے، ساتھ ہی آپ کے سینئر کھلاڑی، آپ کے سینئر معاونین بھی ہوں، جو کہ ہمارے ٹاپ فور بلے بازوں نے لاجواب کارکردگی دکھائی ہے۔ انہوں نے جو رنز بنائے، جو کھیل جیتے، جو پارٹنرشپس کیں، وہ شاندار تھیں۔”
نتیش کمار ریڈی کی آل راؤنڈ کارکردگی
فرینکلن نے نتیش کمار ریڈی کی آل راؤنڈ کارکردگی کو خاص طور پر سراہا۔ انہوں نے کہا، “اور پھر مجھے لگتا ہے کہ اس کا دوسرا عنصر – اور جو سب سے بڑی تعریف ہمیں کھیل کے گروپ میں ملی ہے – وہ ظاہر ہے نتیش کمار ریڈی ہیں، جس طرح انہوں نے بلے سے عمدہ شراکتیں کیں اور ہمارے لیے کچھ اہم وکٹیں حاصل کیں۔ یہی ایک حقیقی آل راؤنڈر کو اپنی ٹیم میں رکھنے کی خوبصورتی ہے – وہ بلے اور گیند دونوں سے اچھی شراکتیں کر سکتے ہیں۔” فرینکلن نے مستقبل کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم ٹورنامنٹ سے سبق سیکھے گی اور آئندہ آئی پی ایل کے لیے حکمت عملی بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ابھی اگلی نیلامی اور کھلاڑیوں کو برقرار رکھنے کے بارے میں سوچنے کا وقت ہے۔
اختتامی خیالات
سن رائزرز حیدرآباد کا آئی پی ایل 2026 کا سیزن متضاد آراء کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ جہاں ان کی بیٹنگ نے سب کو متاثر کیا اور کئی ریکارڈ توڑے۔ وہیں ان کی باؤلنگ یونٹ کے گرد سوالات گھومتے رہے۔ ٹام موڈی جیسے تجربہ کار کرکٹ ماہرین کا ماننا ہے کہ صرف جارحانہ بیٹنگ پر انحصار کرنا ٹرافی جیتنے کے لیے کافی نہیں، بلکہ ایک متوازن ٹیم کی ضرورت ہے جس میں باؤلنگ بھی اتنی ہی مضبوط ہو۔ جبکہ جیمز فرینکلن نوجوان کھلاڑیوں کی ترقی اور سیزن کی مجموعی کارکردگی کو مثبت انداز میں دیکھتے ہیں۔ SRH کے لیے آئندہ سیزن میں سب سے بڑا چیلنج اپنی بیٹنگ کی طاقت کو برقرار رکھتے ہوئے ایک ایسی باؤلنگ یونٹ کو تشکیل دینا ہوگا جو انہیں حتمی کامیابی تک پہنچا سکے۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ فرنچائز اس چیلنج سے کیسے نمٹتی ہے اور کیا وہ اپنی “برانڈ کی قیمت” کو متوازن کر پاتی ہے۔