Vaibhav Sooryavanshi Compared With Sachin Tendulkar As 90s Haunt Royals Opener – ویبھو سوریاونشی: کیا راجستھان رائلز کا نوجوان بلے باز سچن ٹنڈولکر کا جانشین ہے؟
آئی پی ایل 2026: ویبھو سوریاونشی کا جادو
آئی پی ایل 2026 کے کوالیفائر 2 میں ایک بار پھر ویبھو سوریاونشی کا بلا خوب گرجا۔ گجرات ٹائٹنز کے خلاف ان کی جارحانہ بیٹنگ نے کرکٹ کے حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ محض 15 سال کی عمر میں جس طرح سوریاونشی نے راجستھان رائلز کی بیٹنگ لائن کو سنبھالا ہے، وہ کسی کرشمے سے کم نہیں ہے۔
سچن ٹنڈولکر سے موازنہ کیوں؟
ویبھو سوریاونشی نے حال ہی میں ایس آر ایچ کے خلاف 29 گیندوں پر 97 رنز کی ناقابل یقین اننگز کھیلی تھی، اور اب گجرات ٹائٹنز کے خلاف انہوں نے 47 گیندوں پر 96 رنز بنا کر اپنی شاندار فارم کا ثبوت دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی حالیہ چار اننگز میں سے تین بار وہ 90 کی دہائی میں آؤٹ ہوئے ہیں۔ اس بدقسمت سلسلے نے شائقین کو سچن ٹنڈولکر کی یاد دلا دی ہے، جو اپنے کیریئر کے دوران ‘نرووس نائنٹیز’ کا شکار رہے تھے۔
میدان میں تباہ کن کارکردگی
ملاپور اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ کے دوران سوریاونشی نے 8 چوکے اور 7 بلند و بالا چھکے رسید کیے۔ یہ اس سیزن میں ان کی آٹھویں ایسی اننگز تھی جس میں انہوں نے 50 سے زائد رنز بنائے۔ اس کارکردگی کے ساتھ ہی وہ آئی پی ایل 2026 میں 776 رنز کے ساتھ ‘اورینج کیپ’ پر براجمان ہیں۔
ٹیم کا مقصد اور سوریاونشی کی سوچ
اگرچہ شائقین ان کے بار بار 90 کی دہائی میں آؤٹ ہونے پر دکھی ہیں، لیکن خود سوریاونشی کا ماننا ہے کہ ذاتی ریکارڈز سے زیادہ اہم ٹیم کی فتح ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ ان کا واحد ہدف راجستھان رائلز کے لیے آئی پی ایل ٹرافی جیتنا ہے۔ ان کی خود اعتمادی اور کھیل کے لیے لگن یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ نوجوان کھلاڑی آنے والے وقت میں کرکٹ کا ایک بڑا نام بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
راجستھان رائلز کا مجموعی اسکور
میچ کے دوران راجستھان رائلز کے اوپنر یشسوی جیسوال جلد آؤٹ ہو گئے تھے، جس کے بعد دھرو جریل بھی کچھ خاص نہ کر سکے۔ تاہم، ویبھو سوریاونشی اور رویندر جڈیجہ کے درمیان بنی شراکت داری نے ٹیم کو ایک مستحکم پوزیشن پر پہنچایا۔ جڈیجہ نے 45 رنز بنائے جبکہ ڈونوون فریرا نے محض 11 گیندوں پر 38 رنز کی طوفانی اننگز کھیل کر ٹیم کا اسکور 214 تک پہنچا دیا۔
نتیجہ
ویبھو سوریاونشی کی یہ کارکردگی نہ صرف راجستھان رائلز کے لیے نیک شگون ہے بلکہ یہ بھارتی کرکٹ کے روشن مستقبل کی نوید بھی ہے۔ چاہے وہ سچن ٹنڈولکر سے موازنہ ہو یا ان کے اپنے منفرد اندازِ بیٹنگ، ویبھو نے ثابت کیا ہے کہ وہ بڑے میچوں کے کھلاڑی ہیں۔ اب شائقین کی نظریں اس نوجوان بلے باز پر جمی ہیں کہ آیا وہ فائنل میں اپنی اس فارم کو برقرار رکھ پاتے ہیں یا نہیں۔