Latest Cricket News

ویرات کوہلی اور ٹریوس ہیڈ ہینڈ شیک تنازع: عرفان پٹھان کا اہم ردعمل

Avatar photo Tanay Bhatt · · 1 min read

آئی پی ایل 2026: ویرات کوہلی اور ٹریوس ہیڈ کے درمیان تلخی نے نیا تنازع کھڑا کر دیا

انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 کے ایک سنسنی خیز مقابلے میں رائل چیلنجرز بنگلور (آر سی بی) اور سن رائزرز حیدرآباد (ایس آر ایچ) کے میچ کے دوران ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ ویرات کوہلی اور آسٹریلیا کے جارح مزاج اوپنر ٹریوس ہیڈ کے درمیان میدان پر ہونے والی گرما گرمی اور میچ کے بعد کا ایک واقعہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اس میچ میں سن رائزرز حیدرآباد نے رائل چیلنجرز بنگلور کو 55 رنز کے واضح فرق سے شکست دے کر پلے آف کے لیے کوالیفائی کر لیا، حالانکہ دفاعی چیمپئن پہلے ہی کوالیفائر 1 میں جگہ بنا چکی تھی۔ لیکن میچ کے نتیجے سے زیادہ اب چرچے ویرات کوہلی اور ٹریوس ہیڈ کے درمیان ہونے والی نوک جھونک کے ہو رہے ہیں جو تھمنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔

میدان پر جملہ بازی اور گرما گرمی کی تفصیلات

یہ سارا ڈرامہ آر سی بی کی 256 رنز کے ایک بڑے ہدف کے تعاقب کے دوران شروع ہوا۔ ویرات کوہلی کریز پر ہمیشہ کی طرح انتہائی جارحانہ موڈ میں نظر آ رہے تھے اور انہوں نے سن رائزرز حیدرآباد کے اوپنر ٹریوس ہیڈ کے ساتھ نوک جھونک شروع کر دی۔ اطلاعات کے مطابق، کوہلی ٹریوس ہیڈ کو چھیڑ رہے تھے اور انہیں بولنگ کرنے کے لیے چیلنج کر رہے تھے۔ کوہلی نے ہیڈ کے رواں سیزن میں ‘امپیکٹ پلیئر’ کے کردار کو بھی نشانہ بنایا، کیونکہ ہیڈ عام طور پر صرف بیٹنگ کرتے ہیں اور فیلڈنگ یا بولنگ کے لیے میدان سے باہر چلے جاتے ہیں۔ کوہلی کا یہ جارحانہ انداز شائقین کے لیے تو تفریح کا باعث تھا، لیکن ٹریوس ہیڈ نے اس کا جواب خاموشی سے اپنے کھیل کے ذریعے دینے کا فیصلہ کیا۔

ٹریوس ہیڈ کا طنز اور کوہلی کی وکٹ

بدقسمتی سے، ویرات کوہلی اس میچ میں بلے کے ساتھ کوئی بڑا اثر چھوڑنے میں ناکام رہے اور صرف 15 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ کوہلی کے آؤٹ ہونے کے بعد، ٹریوس ہیڈ نے مبینہ طور پر آر سی بی کے اسٹار بلے باز پر طنز کرتے ہوئے کہا، “یار، تم تو میرے بولنگ پر آنے سے پہلے ہی آؤٹ ہو گئے۔” یہ جملہ کوہلی کو ناگوار گزرا اور انہوں نے اس کا بدلہ میچ کے اختتام پر لینے کا فیصلہ کیا۔

ہینڈ شیک تنازع: جب کوہلی نے ہیڈ کو نظر انداز کیا

میچ ختم ہونے کے بعد جب دونوں ٹیموں کے کھلاڑی روایتی طور پر ایک دوسرے سے ہاتھ ملا رہے تھے، تو ٹریوس ہیڈ مسکراتے ہوئے ویرات کوہلی کی طرف بڑھے اور اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔ لیکن کوہلی نے ہیڈ کی طرف دیکھا تک نہیں اور انہیں مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے آگے نکل گئے۔ ٹریوس ہیڈ ایک سیکنڈ کے لیے حیران رہ گئے لیکن پھر انہوں نے خاموشی سے آگے بڑھنا ہی بہتر سمجھا۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی، اور کرکٹ شائقین کی ایک بڑی تعداد نے کوہلی کے اس رویے پر کڑی تنقید کی۔ مداحوں کا کہنا تھا کہ میدان پر جارحیت اور نوک جھونک ایک عام بات ہے، لیکن میچ ختم ہونے کے بعد کھلاڑیوں کو اپنے جذبات کو پیچھے چھوڑ کر کھیل کی روح کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

عرفان پٹھان کا موقف: جارحیت کی حمایت، مگر مصافحہ نہ کرنا غلط

اس پورے تنازع پر سابق بھارتی آل راؤنڈر عرفان پٹھان نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے میدان پر ویرات کوہلی کے جارحانہ انداز کی تو حمایت کی لیکن میچ کے بعد ان کے رویے کو غیر ضروری قرار دیا۔ جیو ہاٹ اسٹار پر گفتگو کرتے ہوئے عرفان پٹھان نے کہا: “جی ہاں، میں اس وقت کمنٹری کر رہا تھا۔ دیکھو، ویرات کوہلی بھی اسی طرح کرکٹ کھیلنا پسند کرتے ہیں جیسے آسٹریلوی کھلاڑی کھیلتے ہیں۔ تھوڑی بہت نوک جھونک، تھوڑی جارحیت، اور یہ کہنا کہ ‘چلو آؤ اور کچھ گیندیں پھینکو۔’ وہ یہی کہہ رہے تھے کہ ‘تم امپیکٹ پلیئر نہیں ہو۔’ عام طور پر ہیڈ امپیکٹ پلیئر ہوتے ہیں اور میدان سے باہر چلے جاتے ہیں۔ کوہلی نے انہیں بولنگ کے لیے کہا، کچھ بات ہوئی اور وہ انہیں بلا رہے تھے۔”

عرفان پٹھان نے اس بات پر زور دیا کہ کرکٹ میں اس طرح کی جملہ بازی عام ہے اور کھلاڑی اکثر دباؤ والے حالات میں ایک دوسرے پر نفسیاتی برتری حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا: “دیکھیں میچ کے بعد کیا ہوا۔ میں اس پر زیادہ بات نہیں کروں گا۔ لیکن میدان پر جو کچھ ہوا، وہ ٹھیک ہے، ایسا ہوتا رہتا ہے۔ آپ جارحیت کے ساتھ کھیلنا چاہتے ہیں، آپ اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کرنا چاہتے ہیں اور وہ چھوٹی موٹی نوک جھونک اور جارحیت رکھنا چاہتے ہیں، اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔”

تاہم، سابق ورلڈ کپ فاتح عرفان پٹھان کوہلی کے میچ کے بعد مصافحہ نہ کرنے کے رویے سے ناخوش دکھائی دیے۔ انہوں نے اپنی بات کا اختتام کرتے ہوئے کہا: “اس چیز سے بچا جا سکتا تھا کیونکہ کھیل ختم ہونے کے بعد کھیل کی اخلاقیات سب سے مقدم ہونی چاہئیں۔”

کھیل کی روح اور شائقین کا ردعمل

کرکٹ کو ہمیشہ سے ‘شرافت کا کھیل’ کہا جاتا رہا ہے۔ میدان پر کھلاڑیوں کے درمیان مسابقت اور جیت کا جنون ہونا فطری ہے، اور ویرات کوہلی جیسے ورلڈ کلاس کھلاڑی اپنے اسی جذباتی اور جارحانہ انداز کے لیے جانے جاتے ہیں۔ تاہم، مبصرین اور شائقین کا ماننا ہے کہ کھیل کی حدیں میدان تک ہی محدود رہنی چاہئیں۔ جب امپائرز کی آخری بیل بج جائے اور میچ ختم ہو جائے، تو حریف کھلاڑیوں کے مابین احترام کا رشتہ بحال ہونا چاہیے۔ ٹریوس ہیڈ کے ساتھ پیش آنے والا یہ واقعہ اب کرکٹ حلقوں میں بحث کا نیا موضوع بن چکا ہے، جہاں ایک طرف کوہلی کے مداح ان کے اس انداز کا دفاع کر رہے ہیں تو دوسری طرف کھیل کے سنجیدہ حلقے اسے کھیل کی روح کے منافی قرار دے رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ آئی پی ایل کے اگلے میچوں میں ان دونوں کھلاڑیوں کا آمنا سامنا ہونے پر کیا صورتحال بنتی ہے۔